یمن میں پاکستان،سعودی مشترکہ جنگی اسکیم نے روس اورایران کے کمانڈسسٹم کو بے اثرکردیا

جوائنٹ ٹرمینل اٹیک کنٹرولرٹیموں نے نئی حکمت عملی سے صورت حال بدل دی

September 29, 2026 · امت خاص

 

یمن میں حوثیوں کی حالیہ پیش قدمی کے پیچھے روس اور ایران کا مشترکہ کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کارفرما تھا، سعودی عرب اور پاکستان کی مشترکہ ٹیموں نے اس بیرونی نیٹ ورک کو نشانہ بنا کر صورتحال کو تبدیل کرنا شروع کر دیا ہے۔ یہ انکشاف الجزیرہ پر سامنے آیا ہے۔

تجزیے کے مطابق کچھ ہفتے قبل حوثی فورسز نے یمن کے مغربی محاذ پر تیزی سے پیش قدمی کی اور باب المندب کے قریب اسٹریٹجک علاقوں تک پہنچ گئیں۔ یہ کامیابی محض حوثیوں کی تعداد کی وجہ سے نہیں تھی بلکہ روسی خلائی سیٹلائٹس (جیو اِنٹیلی جنس اور سگنل اِنٹیلی جنس) اور ایرانی کمانڈ سسٹم کے امتزاج کا نتیجہ تھی۔

روسی سیٹلائٹس مخالف فورسز کی نقل و حرکت،لوکیشنز اور مواصلاتی نظام کی تفصیلی معلومات فراہم کر رہے تھے، جنہیں ایران نے حوثیوں کی جنگی حکمت عملی میں تبدیل کر دیا۔

بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی فورسز (خاص طور پر طارق صالح کی نیشنل ریزسٹنس فورسز) میں موجود اندرونی رسائی نے بھی حوثیوں کو کمزوریوں کا پتہ دیا۔ نتیجے میں کمانڈ سسٹم بگڑگیا، غلط احکامات جاری ہونے لگے اور رپورٹنگ میں تضادات پیدا ہو گئے۔ کاغذی ریکارڈ کے مطابق موجود فوج کا ایک بڑا حصہ میدان میں موجود نہیں تھا اور کچھ دستے لڑائی سے پہلے ہی پوزیشنیں چھوڑ کر بھاگ گئے۔

اس کے بعد سعودی،یمنی اور سعودی،پاکستانی جوائنٹ ٹرمینل اٹیک کنٹرولر (JTAC) ٹیموں نے نئی حکمت عملی اپنائی۔ یہ ٹیمیں اب زمینی فورسز کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہیں تاکہ رابطے مضبوط ہوں، فوجی پوزیشنوں کا درست ریکارڈ رکھا جائے اور مواصلاتی نظام کو محفوظ بنایا جائے۔ سعودی آپریشنل مینٹرنگ اینڈلائزن ٹیمیں بھی فورسز کی تیار ی اور لوکیشن کی آزادانہ تصدیق کر رہی ہیں۔

الجزیرہ کا دعویٰ ہے کہ اصل وار اب حوثیوں کے بیرونی تکنیکی اور کمانڈ نیٹ ورک پر کیا جا رہا ہے۔ روسی اور ایرانی معاونت پر انحصار کرنے والے اس سسٹم کی کمزوریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ حالیہ کارروائیوں میں حوثیوں کے کئی سینئر کمانڈرز اور مشیر ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں کم از کم دو میجر جنرلز، سات بریگیڈئر جنرلز اور درجنوں کرنلز شامل ہیں۔ جب یہ کمانڈرز رابطہ قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ان کے سگنلز ٹریس ہو کر نشانہ بن جاتے ہیں۔

نتیجہ یہ ہے کہ حوثی اب اتنی تیزی سے پیش قدمی نہیں کر پا رہے جتنی پہلے کر رہے تھے۔ ان کا بیرونی سہارا کمزور پڑ رہا ہے جبکہ سعودی قیادت والے اتحاد نے اپنی خامیوں پر قابو پا کر ایک زیادہ منظم کمانڈ سسٹم کھڑا کر لیا ہے جو دشمن کی چالوں کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔