سعودی عرب نے ریسکیو کے نام پر فوجی طیارے بھیجنے کی اسرائیلی کوشش ناکام بنا دی
فلائی دبئی کے طیارے کی مبینہ ہائی جیکنگ بڑا کھیل نکلی، حملہ اور پائلٹ کی شہریت پر متنازع دعوی
فلائی دبئی کا طیارہ تبوک میں کھڑا ہے۔ رڈر پر نقصان واضح ہے
دبئی سے اسرائیل جانے والی فلائی دبی کی پرواز FZ1073 کو مبینہ طور پر ہائی جیک یا تباہ کرنے کی کوشش اصل میں ایک بڑا کھیل نکلی جس کی آڑ میں اسرائیل نے اپنے فوجی طیارے سعودی عرب بھیجنے کی کوشش کی تاہم سعودی عرب نے یہ منصوبہ ناکام بنا دیا۔
یہ پرواز سعودی عرب کے شہر تبوك میں ایمرجنسی لینڈنگ پر مجبور ہوئی تھی۔ تقریباً 180 مسافروں، جن میں اکثریت اسرائیلی شہریوں کی بتائی جاتی ہے، کو بعد ازاں متبادل فلائی دبی طیارے پر اسرائیل بھیج دیا گیا۔
بظاہر یہ دو پائلٹوں کا جھگڑا تھا جس میں ایک پائلٹ نے دوسرے کو چاقو کے وار سے زخمی کیا لیکن اب یہ سامنےآ رہا ہے کہ اس کے پیچھے کھیل کچھ اور تھا۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے دعوی کیاکہ جس پائلٹ نے حملہ کیا وہ اسے ہائی جیک کرکے تباہ کرنا چاہتا تھا۔
اسرائیلی طیارے اور سعودی سرزمین
اطلاعات کے مطابق طیارے میں خطرناک صورتحال پیدا ہوتے ہی اسرائیلی جنگی طیارے فضا میں بلند ہوئے لیکن انہیں سعودی سرحد پار کرنے کی ہمت نہ ہوئی۔ جب متاثرہ پرواز کو تبوک میں بحفاظت اتار لیا گیا تو نیتن یاہو نے مسافروں کو اسرائیل کے جانے کیلئے فوجی طیارے بھیجنے کی اجازت مانگی۔
جو طیارہ سعودی عرب میں اترا تھا اس کے پچھلے حصے یعنی رڈر کو شدید نقصان پہنچ چکا تھا۔ یہ نقصان طیارے کی بلندی 30 سکینڈ میں 14 ہزار فٹ کم ہونے کے نتیجے میں ہوا تھا۔ لہذا اس کا دوبارہ پرواز کرنا آسان نہیں تھا۔
سعودی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل نے پہلے اپنے فوجی طیاروں کے ذریعے مسافروں کی منتقلی کی درخواست کی، جو رد کر دی گئی۔ اس کے بعد اسرائیلی ایئرلائن ایل عال کے طیارے بھیجنے کی اجازت مانگی گئی، وہ بھی قبول نہیں ہوئی۔ آخری درخواست ایک ایسا اسرائیلی طیارہ بھیجنے کی تھی جس پر کوئی قومی نشان نہ ہو؛ یہ بھی مسترد ہوئی۔ مسافر بالآخر فلائی دبئی کمپنی کے متبادل طیارے پر روانہ ہوئے جو شام ساڑھے پانچ بجے تبوك سے اڑا۔
لیکن اسی وقت اسرائیلی میڈیا نے پروپیگنڈا شروع کر دیا کہ کچھ مسافر سعودی عرب میں ہی رک گئے ہیں۔
اس پر مطار الامير سلطان بن عبدالعزيز الدولي تبوك کے سرکاری بیان میں صرف اتنا کہا گیا کہ تمام مسافر اپنی حتمی منزل کی طرف متبادل طیارے پر روانہ ہو چکے ہیں، اور ہوائی اڈہ شہری ہوا بازی کے بین الاقوامی اصولوں کا پابند ہے۔ بیان میں اسرائیل کا نام نہیں لیا گیا۔
دونوں پائلٹ زخمی حالت میں سعودی ہسپتال میں زیر علاج بتائے گئے، جبکہ سعودی حکام عملے سے تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اسرائیلی وزیر دفاع نے فوری واقعے کو “دہشت گردانہ حملہ” قرار دیا، جبکہ عبرانی میڈیا نے ابتدائی طور پر اسے انفرادی عمل قرار دیا اور کہا کہ اس کے پیچھے کوئی تنظیم ثابت نہیں ہوئی۔ تحقیقات ابھی جاری ہیں۔
پائلٹ عمانی ہونے کا دعویٰ اور سوالات
اسرائیلی ذرائع نے الزام لگایا کہ معاون پائلٹ عمانی شہری تھا، جو فلائی دبی میں ایک سال سے بھی کم عرصہ سے کام کر رہا تھا؛ بعض رپورٹوں میں نو مہینے کا ذکر ہے۔ ان کے مطابق اس نے کپتان پر چاقو سے حملہ کیا اور طیارہ گرانے کی کوشش کی۔ طیارے نے ہائی جیکنگ کا سگنل 7500 بھیجا، بلندی تیزی سے گری، پھر اردن کی فضا کے قریب گھوم کر تبوك واپس آیا۔
یہاں کئی سوال کھڑے ہوئے ہیں۔ عمان کا اسرائیل سے سفارتی تعلق نہیں۔ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے ہوائی معاہدے کے تحت اسرائیلی راستوں پر عام طور پر ان ممالک کے عملے کی اجازت بتائی جاتی ہے جن کے اسرائیل سے تعلقات ہوں۔ اس لیے یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ عمانی شناخت والے پائلٹ کو تل ابیب والی پرواز پر کیسے تعینات کیا گیا۔ کچھ اسرائیلی رپورٹوں میں دوہری شہریت کی جانچ کا ذکر بھی ہے، مگر کمپنی یا سعودی حکام نے اب تک معاون پائلٹ کا باضابطہ نام یا مکمل شناخت جاری نہیں کی۔ اس کی شناخت، محرک اور تنہا عمل یا وسیع تر منصوبہ ہونے کا معاملہ ابھی غیر یقینی ہے۔
کپتان اماراتی تھا یا بھارتی؟ متضاد بیانیے
دوسرے پائلٹ یعنی کپتان کی قومیت پر رپورٹیں آپس میں ٹکراتی ہیں۔ کچھ اسرائیلی چینلز اور اخبارات نے اسے اماراتی شہری قرار دیا۔ بعد میں متعدد ہندوستانی اور کچھ اسرائیلی ذرائع نے اسے ہندوستانی یا ہندوستانی نژاد کپتان سمت مچھڑ بتایا، جو 2022 میں اسپائس جیٹ کے بعد فلای دبی میں شامل ہوا۔ بعض رپورٹوں نے دونوں کو ملا کر “اماراتی پائلٹ ہندوستانی نژاد” بھی لکھا۔ ابتدائی گھنٹوں میں روسی کپتان اور یوکرینی معاون پائلٹ کی بھی خبریں آئیں، جنہیں بعد میں مسترد سمجھا گیا۔
فلاي دبی نے عملے کی شناخت یا قومیت کی تصدیق نہیں کی۔ بعض بیانات کے مطابق طیارے میں مسافروں کے طور پر موجود آف ڈیوٹی پائلٹوں نے کنٹرول سنبھالا اور لینڈنگ کرائی؛ ان کی قومیت پر بھی الگ الگ دعوے سامنے آئے۔
مسافر بعد ازاں بن گوریون پہنچ گئے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے خون آلود کپڑوں والے ایک مسافر سے ملاقات کی جسے طیارہ بچانے میں کردار ادا کرنے والا قرار دیا گیا۔
اصل کھیل کیا تھا
اس دوران بھارتی صحافی پروپیگنڈہ کر رہے ہیں کہ اسرائیلی شہریوں کی سعودی عرب میں میزبانی سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات قائم ہونے کی جانب بظاہر ایک قدم اٹھایا گیا ہے۔
تاہم حقیقت یہ ہے کہ سعودی عرب امریکی دباؤ کے باوجود ابراہام اکارڈز میں شمولیت سے انکار کر رہا ہے اور نیتن یاہو کی جانب سے اسرائیلی طیارے بھیج کر تعاون کا تاثر دینے کی کوشش ناکام ہوگئی ہے۔