صومالی قذاق صرف خرچہ لے کر ہائی جیک جہاز سے اترنے کو تیار تھے، اسحاق ڈار نے انکار کردیا، لواحقین کا دعویٰ

قذاقوں کی جانب سے تاوان کے بجائے صرف اخراجات کی رقم ملنے پر جہاز سے اترنے کی پیشکش بھی کی گئی تھی، تاہم حکام نے اس کی اجازت نہیں دی۔

October 1, 2026 · امت خاص
صومالی قذاق صرف خرچہ لے کر ہائی جیک جہاز سے اترنے کو تیار تھے، اسحاق ڈار نے انکار کردیا، لواحقین کا دعویٰ

صومالی قذاق صرف خرچہ لے کر ہائی جیک جہاز سے اترنے کو تیار تھے، اسحاق ڈار نے انکار کردیا، لواحقین کا دعویٰ

صومالی قذاقوں کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے پاکستانی طیارے کے معاملے میں لواحقین نے دعویٰ کیا ہے کہ قذاقوں کی جانب سے تاوان کے بجائے صرف اخراجات کی رقم ملنے پر جہاز سے اترنے کی پیشکش بھی کی گئی تھی، تاہم حکام نے اس کی اجازت نہیں دی۔

 

اُمت ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے لواحقین کا کہنا تھا کہ بات اس نوبت پہ آگئی تھی کہ بھائی ہم اپنے خرچہ دے دیں اور ہم جہاں نا جہاز چھوڑ دیں گے بھائی ابھی چائنہ کے جہاز کیپچر ہوئے ہیں انہوں نے کیسے چھوڑائیں جہاز سے تو اتر گئے ہیں وہ یہ پچھلے پانچ مہینے سے جو ہے تقریباً چھٹا مہینہ تھا جہاز یرغمال تھا اور ان کی فیملیز پچھلی پانچ مہینے سے جہاں نا وہ فورن آفس کو لیٹرز لکھتی رہی ہیں اپلیکیشنز لکھتی رہی ہیں اپیل ان کو کوئی جواب نہیں دیا کسی حکومتی اہلکار نے انہیں کوئی جواب نہیں دیا

انہوں نے احتجاج کیے وہاں سے ان کو اریسٹ کرلیا گیا گیا اس کے بعد یہ ہوا کہ پچھلے کوئی نو دن سے جہاز جہاں پر پہلے تھا وہ بندر بیلے کے پاس ایلڈ اسٹریکٹرز کی طرف تو یہ جہاز نیچے آ رہا تھا پھر ہمیں لگا کہ شاید مسئلہ حل ہو گیا ہے پھر معلوم ہوا نہیں کہ وہ میڈیکل سپلائز لینے جا رہا ہے

پھر جہاز جب دوسرا جہاز تھا اس پر آپریشن ہوا تو پائلٹ ڈر گئے تھے اس کے بعد آپ نے ویڈیو دیکھی ہو گئی کہ دو ممبرز کی ویڈیوز آئیں کہ یہ ہمیں مار دیں گے کہ جہاز پر آپریشن ہوا اور جہاز دوڑا کے دوبارہ جو ان کی اوریجنل پوزیشن تھی وہاں لے گئے اور اس کے بعد پائلٹس اس نوبت آ گئے تھے کہ بھائی اب ہمیں خرچہ دے دیں ہمارا حکومت سے یہی مطالبہ تھا کہ اگر آپ پیسے نہیں دے رہے آپ ہمیں ارینج کرنے دیں ہم چندہ جمع کرنے کے اور اگر صرف اس حد تک بات رہ گئی ہے کہ ان کو جو خرچے کے پیسے دینے وہ ہم دے دیتے ہیں انہوں نے اس کی اجازت نہیں دی پونٹلینڈ گورنمنٹ نے انڈیپنڈنٹلی بظاہر آپریشن کر دیا اُن کی نہ کوئی پروفیشنل آرمی ہے

جو ہم نے ویڈیوز دیکھی ہیں سی بو ون کی اُس پہ وہ یونیفارم میں بھی نہیں ہیں تو ہمارا یہی کہنا تھا کہ اگر آپریشن ہونا ہے تو کم سے کم پاکستان کے ادارے اُس میں انوال ہوں اٹلیس نیوی اُس کی پلاننگ میں انوال ہوں آپریشن کے بعد کوئی ریسکیو کا طریقہ نہیں تھا باڈیز کو وہاں پہ چھوڑ دیا گیا جہاس پہ وہ دھوپ میںو ہاں باڈئیز پڑی رہیں ۔کبھی کہتے ہیں کہ وہ شہر جا رہے ہیں کبھی کہہ رہے ہیں کہ وہ شہر جا رہے ہیں اور دو گھنٹے میں پہنچ جائیں گے

اس کے بعد جہاز سے وہ موگڈ ایشو جائیں گے ڈائریکٹ یہاں آئیں گے کوئی کلیرٹی نہیں ہے تقریباً جو ہے نا خبر کو آئے ہوئے چوبیس گھنٹے آپریشن کی ڈیتھ کی خبر آئے ہو ئےچوبیس گھنٹے ہو گئے ان کی انیشنل ڈیمانڈ تھی تری میلین ڈالرز اس کے بعد اوفیشلی انہوں نے ون پو ائنٹ نائن میلین ڈالرز کہے تھے اور آخری جو ہمیں پتا چلا تھا وہ یہ تھا کہ پائلٹس اس پہ بھی آگئے تھے کہ ہمیں خرچہ آپ دے دیں جو ہمارا خرچہ ہوا ہے تو ہم جہاز سے اتر جاتے ہیں