بھارتی پنجاب میں انوکھا مقدمہ: متاثرہ لڑکی اور ملزم کے بغیر ہی ریپ کی ایف آئی آر درج

لولی پروفیشنل یونیورسٹی میں طلبہ نے بڑے پیمانے پر احتجاج کیا تھا

October 1, 2026 · امت خاص

 

بھارتی پنجاب کی پولیس نے ایک انتہائی انوکھا اور عجیب و غریب مقدمہ درج کیا ہے جہاں ایک لڑکی سے مبینہ زیادتی کی ایف آئی آر تو کاٹ دی گئی ہے، لیکن میدانِ عمل میں نہ تو کوئی متاثرہ لڑکی موجود ہے اور نہ کسی ملزم کا سراغ ملا ہے۔

یہ عجیب صورتحال بھارت کی بڑی نجی جامعات میں شمار ہونے والی لولی پروفیشنل یونیورسٹی (LPU) میں پیش آئی، جہاں واٹس ایپ پر پھیلنے والی ایک مبینہ افواہ کے بعد طلبہ نے شدید پرتشدد احتجاج کیا اور کیمپس میں نصب ایک ریٹائرڈ جنگی طیارے کو بھی آگ لگا دی۔

یونیورسٹی کے طلبہ کے واٹس ایپ گروپس میں ایک طالبہ کے ساتھ مبینہ طور پر زیادتی کی خبر پھیلی تھی۔ اس خبر کے وائرل ہوتے ہی طلبہ نے کیمپس میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرہ شروع کر دیا جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پرتشدد رخ اختیار کر لیا۔

توڑ پھوڑ کے دوران کیمپس کی زینت بنے ایک پرانے جنگی طیارے کو بھی نذرِ آتش کر دیا گیا۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے ان تمام دعووں کو یکسر جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیا، تاہم طلبہ کا غصہ ٹھنڈا نہ ہوا اور انہوں نے چند ہی گھنٹوں میں ہاسٹل خالی کرنا شروع کر دیے۔ حالات کے پیشِ نظر امتحانات ملتوی کر دیے گئے ہیں اور فی الحال یونیورسٹی میں تعلیمی عمل مکمل طور پر بند ہے۔

سینیئر پولیس حکام کا کہنا ہے کہ طلبہ کے شدید اصرار اور احتجاج کو ختم کرانے کے لیے ایک نامعلوم شخص کے خلاف ریپ کا مقدمہ درج کر کے تحقیقات کے لیے خصوصی ٹیم (SIT) تشکیل دے دی گئی ہے۔ تاہم، پولیس نے واضح کیا ہے کہ اب تک کوئی ایسی طالبہ سامنے نہیں آئی جس نے تشدد کا دعویٰ کیا ہو، اور نہ ہی کسی متاثرہ خاتون یا ملزم کی شناخت ہو سکی ہے۔ یہاں تک کہ یونیورسٹی کے سی سی ٹی وی (CCTV) کیمروں کی فوٹیج سے بھی ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ پولیس افسر کے مطابق، ایف آئی آر کا مطالبہ کرنے والے طلبہ خود بھی کسی متاثرہ لڑکی کا نام بتانے سے قاصر ہیں۔

مبینہ طور پر یہ واقعہ 23 ستمبر کو پیش آنے کا دعویٰ کیا گیا تھا، اور طلبہ نے یونیورسٹی انتظامیہ پر معاملے کو دبانے کا الزام لگایا تھا۔ اس افواہ کو تلنگانہ سے تعلق رکھنے والی اسی یونیورسٹی کی ایک طالبہ کی حالیہ خودکشی سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔ تاہم، پولیس نے اس تعلق کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبہ کی موت کی تحقیقات پہلے ہی الگ سے جاری ہیں اور دونوں واقعات کے آپس میں جڑے ہونے کے کوئی شواہد موجود نہیں ۔