پی ٹی آئی نے دوسروں کے ساتھ جوکیا خود اس پر بھی وہی بیت رہی ہے لیکن یہ کوئی جواز نہیں:سعد رفیق
سیاسی جماعتیں ذمہ داری نبھائیں، اصلاح نہ ہوئی تو نئے عناصر سامنے آئیں گے،سابق وفاقی وزیر
ایک ملک میں طاقت کے دو مراکز کیسے ہو سکتے ہیں، سعد رفیق کا سوال
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ راولپنڈی اور اسلام آباد میں طاقت کے مراکز موجود ہیں، لیکن ایک ملک میں طاقت کے 2 مراکز کیسے ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملک آئین کے بغیر نہیں چلایا جا سکتا اور ہم سب نے مل کر ملک کو برباد کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیاستدان ان سہولت کاریوں میں برابر کے ذمہ دار ہیں، اور اب وہ ملکی سیاسی جماعتوں سے مایوس ہو چکے ہیں۔
خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی نے ماضی میں جو کچھ ان کے ساتھ کیا تھا، آج وہی سلوک خود ان کے ساتھ دہرایا جا رہا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ماضی میں ان کے ساتھ جو ہوا اس کا کوئی جواز نہیں تھا، اور آج بانی پی ٹی آئی کے ساتھ جو ہو رہا ہے اس کا بھی کوئی جواز موجود نہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مہربانی کر کے کسی کو غدار بنانے کا سلسلہ بند کیا جائے۔
سابق وفاقی وزیر نے خبردار کیا کہ اگر سیاسی جماعتوں نے اپنی اصلاح نہ کی تو پھر کاکروچ باہر نکل آئیں گے، اگرچہ یہ معلوم نہیں کہ ان کی سربراہی کون کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو ایک دوسرے پر الزامات اور طعنے دینے کا سلسلہ ختم کرنا ہوگا اور چاپلوس پیدا کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔
ان کے مطابق عوام ملک میں بددل ہوتے جا رہے ہیں، اس لیے سیاسی جماعتوں کو عوام کے فیصلے کو تسلیم کرنا لازمی ہے تاکہ ملک کو مزید سانحات سے بچایا جا سکے کیونکہ ووٹ کا فیصلہ ماننے سے ہی نئی قیادت سامنے آئے گی۔