میررضاکیس کا تفتیشی افسر ڈاکوئوں کے حملے میں زخمی۔ انکوائری کمیشن میں اہم فیصلوں کی منظوری
انسپکٹر محمد علی کو پستول کے بٹ مارے گئے،پولیس
میر رضا علی قتل کیس، جوڈیشل کمیشن کی مدت میں توسیع منظور
میررضا کیس کے تفتیشی افسرپر ڈاکوؤں نے حملہ کردیا جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہوگئے۔
پولیس کے مطابق انسپکٹر محمدعلی پر سچل کے علاقے میں حملہ کیاگیا۔ ڈاکوؤں نے لوٹ مار کے دوران انسپکٹر پر بدترین تشدد کیا، پستول کے بٹ مارے جس کے باعث ان کو سر میں چوٹیں آئی ہیں۔
پولیس نے تحقیقات شروع کردی ہیں۔
،نوجوان تاجر اور ڈیزرٹ شاپ کے مالک میر رضا علی کی پراسرار موت کی تحقیقات اہم مرحلے میں داخل ہوچکی ہیں۔پیر کو جوڈیشل انکوائری کمیشن کی اہم سماعت منعقد ہوئی، جس میں کیس کی شفافیت اور اصل حقائق تک پہنچنے کے لیے اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی ہے۔ کمیشن نے معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے تمام متعلقہ واقعات کے مقامات کا خود معائنہ کرنے کا بڑا فیصلہ کیا ہے۔
سندھ کابینہ نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت اجلاس میں کیس کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشل انکوائری کمیشن کی مدت میں 15 اکتوبر 2026 تک توسیع کی منظوری ی ہے۔
28 جولائی 2026 کو پی ای سی ایچ ایس میں میر رضا علی کی موت کا واقعہ پیش آیا تھا، جسے پولیس نے ابتدائی طور پر خودکشی قرار دیا تھا۔ تاہم اہل خانہ کے اعتراضات کے بعد سندھ حکومت نے 24 اگست کو جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا، جس نے 27 اگست سے باقاعدہ کام شروع کیا۔
کراچی پولیس چیف آزاد خان کے مطابق کیس میں اب تک 78 افراد کے بیانات ریکارڈ کیے جاچکے ہیں، تاہم تفتیش کے باوجود قتل کے حوالے سے کوئی واضح سراغ یا حتمی نتیجہ سامنے نہیں آسکا۔