راولپنڈی میں خاتون ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر بھی گھریلو تشدد سے نہ بچ سکی- شوہر کیخلاف مقدمہ

حبس بے جا میں رکھنے سمیت سنگین نوعیت کے الزامات، شوہر کے خلاف کارروائی کا آغاز

October 5, 2026 · امت خاص
ملیحہ سحر کی فائل فوٹو۔ دوسری جانب ایف آئی آر کی نقل

ملیحہ سحر کی فائل فوٹو۔ دوسری جانب ایف آئی آر کی نقل

راولپنڈی میں خاتون ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہیڈکوارٹر ملیحہ سحر بھی گھریلو تشدد سے محفوظ نہ رہ سکیں۔ شوہر پر سنگین الزامات کے تحت مقمہ درج کرا لیا ہے۔ مقدمے میں جسمانی و نفسیاتی تشدد، حبسِ بے جا اور جان سے مارنے کی دھمکیوں جیسے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

پولیس ذرائع اور ویمن پولیس اسٹیشن راولپنڈی میں درج کی جانے والی ایف آئی آر کے متن کے مطابق ملیحہ سحر کو گزشتہ کئی ماہ سے گھریلو تشدد کا سامنا تھا، تاہم خاندانی وقار اور بچوں کے مستقبل کی خاطر وہ خاموش رہیں۔ دستاویز کے مطابق معاملے کی شدت اس وقت مزید بڑھ گئی جب 02 اکتوبر 2026 اور 03 اکتوبر 2026 کی درمیانی شب ملزم جاوید نے مبینہ طور پر نہ صرف تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ ان کا موبائل فون بھی چھین لیا اور کمرے میں بند کر کے حبسِ بے جا میں رکھا۔

ایف آئی آر میں مزید درج ہے کہ ملزم کی جانب سے جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں اور بچوں کو بھی بطور دباؤ استعمال کیا گیا، شوہر نے کسی بھی طریقے سے مدد لینے کی کوشش بھی ناکام بنا دی جس کے بعد پولیس کو فوری طور پر قانونی کارروائی کے لیے درخواست دی گئی۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ضابطے کی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے اور واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے۔

ملیحہ سحر کے مطابق ان کے دو کم عمر بچے ہیں اور انہیں سیکورٹی کی ضرورت ہے۔