زلزلے میں نازش زندہ بچ گئی تھی لیکن21برس بعدبھی کوئی نہیں جانتاکہ وہ کہاں ہے

پمزاسلام آباد میں مظفرآبادسے ایک نامعلوم بچی لائی گئی تھی

October 8, 2026 · امت خاص
نازش کی والدہ بچی کی تصویر دکھارہی ہیں

فائل فوٹو

 

8 اکتوبر 2005 کے تباہ کن زلزلے کے 21 برس گزر چکے ہیں، مگر مظفرآباد کے ایک بوڑھے جوڑے کی آنکھیں آج بھی اپنے گھر کے دروازے پر جمی ہوئی ہیں۔ انہیں امید ہے کہ شاید ان کی بیٹی نازش نذیر لوٹ آئے۔

اس بدنصیب صبح 15 سالہ نازش نذیر روزمرہ کی طرح ہنستے کھیلتے اسکول کے لیے نکلی تھی۔ زلزلہ آیا، عمارتیں مسمار ہو گئیں اور ہزاروں لوگ موت کی نیند سو گئے۔ بہت سے والدین نے اپنے بچوں کو دفن کر دیا، لیکن نازش کے والدین کو بیٹی کے بارے میں کچھ معلوم نہ ہو سکا۔ اسکول کے چند ساتھیوں نے صرف اتنا بتایا کہ وہ زخمی ہو گئی تھی۔

والدین نے مہینوں تک آزاد کشمیر اور پاکستان بھر کے اسپتالوں، امدادی کیمپوں اور ملبے کے ڈھیروں میں اپنی بیٹی کو تلاش کیا، مگر ہر جگہ سے خالی ہاتھ لوٹے۔ کچھ عرصے بعد ایک پرانے اخبار میں زخمی بچی کی تصویر نظر آئی جس کا چہرہ نازش سے ملتا جلتا تھا۔ امید جاگی، لیکن اس بچی کی شناخت اور مقام کا کوئی پتہ نہ چل سکا۔

کئی سال بعد لاس اینجلس ٹائمز کی 23 نومبر 2005 کو رپورٹ سامنے آئی۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ زلزلے کے فوراً بعد مظفرآباد سے ایک نامعلوم زخمی لڑکی کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے اسلام آباد لایا گیا تھا۔ سر پر شدید چوٹ کے باعث وہ اپنی یادداشت کھو چکی تھی۔ نہ اسے اپنا نام یاد تھا، نہ اپنے گاؤں کا۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (PIMS) کے عملے نے اسے عارضی طور پر “عائشہ” کا نام دیا۔

رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر روبینہ قریشہ نے کہا تھاکہ وہ دنیا میں اکیلی ہے۔ وہ کسی کو نہیں پہچانتی۔ میں واقعی نہیں جانتی کہ اس کا کیا بنے گا۔” ہسپتال کا عملہ اس کی کہانی مقامی ٹیلی ویژن پر نشر کرنا چاہتا تھا تاکہ خاندان کا کوئی فرد مل سکے۔ لیکن اس کے بعد عائشہ کہاں گئی، کوئی سراغ نہیں ملا۔

کیا وہ عائشہ ہی نازش تھی؟ آج تک اس کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں مل سکا۔ نہ نازش کی موت کی تصدیق ہوئی، نہ اس کی زندگی کا کوئی واضح نشان۔ اگر وہ زندہ ہے تو اب 36 برس کی ہو گی۔ مگر کوئی نہیں جانتا کہ عائشہ نازش تھی یا کوئی اور لڑکی، اور اگر وہ نازش ہی تھی تو اب کہاں اور کس حال میں ہے۔