امریکہ میں غیرملکی طلبہ سے فی کس 70 ہزار ڈالر لینے کا منصوبہ کیا ہے
تعلیمی اداروں کو ہر ایسے طالب علم کی ابتدائی شمولیت پر 70 ہزار ڈالر اور پروگرام میں ہر اضافی شمولیت کے لیے مزید 30 ہزار ڈالر ادا کرنا ہوں گے۔
امریکہ میں غیرملکی طلبہ سے فی کس 70 ہزار ڈالر لینے کا منصوبہ کیا ہے
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے بین الاقوامی طلبہ کے لیے امریکہ میں تعلیم کے بعد ملازمت کے مواقع محدود کرنے کی جانب ایک نیا قدم اٹھاتے ہوئے اختیاری عملی تربیت (او پی ٹی) پروگرام کے تحت 70 ہزار ڈالر تک فیس عائد کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ مجوزہ ضابطے کے مطابق، تعلیمی اداروں کو ہر ایسے طالب علم کی ابتدائی شمولیت پر 70 ہزار ڈالر اور پروگرام میں ہر اضافی شمولیت کے لیے مزید 30 ہزار ڈالر ادا کرنا ہوں گے۔
امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی (ڈی ایچ ایس) کی جانب سے پیش کی گئی یہ تجویز وفاقی رجسٹر میں شائع ہونے کے بعد عوامی آراء کے لیے کھولی گئی ہے، جس پر 9 نومبر تک تجاویز اور اعتراضات جمع کرائے جا سکتے ہیں۔ یہ ابھی ایک مجوزہ ضابطہ ہے، نافذ العمل حتمی قانون نہیں۔
او پی ٹی پروگرام کیا ہے؟
او پی ٹی امریکہ میں زیر تعلیم بین الاقوامی طلبہ کو اپنی تعلیم سے متعلق شعبوں میں عارضی طور پر کام کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ عام طور پر طلبہ اپنی تعلیم کے دوران یا ڈگری مکمل کرنے کے بعد 12 ماہ تک کام کر سکتے ہیں، جبکہ سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی (اسٹیم) کے مخصوص شعبوں سے تعلق رکھنے والے اہل طلبہ کو مزید 24 ماہ کی توسیع بھی مل سکتی ہے۔
موجودہ نظام کے تحت طلبہ کو ورک پرمٹ کے لیے درخواست دینا ہوتی ہے اور اس درخواست کی فیس تقریباً 500 ڈالر کے لگ بھگ ہو سکتی ہے۔ نئی تجویز کے تحت فیس کی ادائیگی کی ذمہ داری براہ راست تعلیمی اداروں پر عائد کی جائے گی، تاہم محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے تسلیم کیا ہے کہ ادارے یہ مالی بوجھ طلبہ یا ملازمت فراہم کرنے والی کمپنیوں پر منتقل کر سکتے ہیں۔ وصول کی جانے والی رقم امریکی خزانے میں جمع ہوگی۔
امریکی حکومت نے فیس کی تجویز کیوں دی؟
محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کا مؤقف ہے کہ او پی ٹی پروگرام میں دھوکہ دہی اور قواعد کی خلاف ورزیوں کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔ محکمے کے مطابق، تحقیقات کے دوران ایسے مقامات کی نشاندہی ہوئی جہاں مبینہ طور پر غیر ملکی طلبہ ملازمت کر رہے تھے، لیکن وہاں خالی عمارتیں یا بند دفاتر موجود تھے۔ حکام نے بعض معاملات میں فرضی ملازمین اور مشکوک مالی لین دین کے الزامات بھی عائد کیے ہیں۔
محکمے کے اعداد و شمار کے مطابق، 2023 میں 160,627 طلبہ کو ملازمت کے اجازت نامے جاری کیے گئے، جبکہ 2024 میں یہ تعداد بڑھ کر 194,554 ہوگئی۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ پروگرام میں تیزی سے اضافے کے باعث نگرانی اور تحقیقات کے لیے دستیاب وسائل پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ بھاری فیس سے تعلیمی ادارے امیدواروں کی جانچ پڑتال زیادہ احتیاط سے کریں گے اور او پی ٹی پروگرام کو اس کے اصل تعلیمی مقصد کے لیے استعمال کرنے کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ امریکی حکام کو خدشہ ہے کہ بعض آجر اس پروگرام کو ایچ ون بی ورک ویزا کے متبادل کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔
بین الاقوامی طلبہ پر پہلے بھی سختیاں
ٹرمپ انتظامیہ اس سے قبل بھی بین الاقوامی طلبہ کے ویزوں، داخلوں اور امریکہ میں قیام سے متعلق مختلف پابندیوں کی کوششیں کر چکی ہے۔ انتظامیہ نے متعدد طلبہ کے ویزے منسوخ کیے اور ویزا درخواستوں کی جانچ پڑتال سخت کرنے کے اقدامات کیے، جن میں بعض درخواست گزاروں کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کا جائزہ بھی شامل ہے۔
حکومت نے غیر ملکی طلبہ کی تعداد محدود کرنے اور امریکہ میں ملازمت کے لیے غیر ملکی کارکنوں پر انحصار کم کرنے سے متعلق اقدامات کی بھی حمایت کی ہے۔ اس پالیسی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس سے امریکی کارکنوں کے لیے ملازمت کے مواقع محفوظ بنانے میں مدد مل سکتی ہے، جبکہ ناقدین کے مطابق سخت پابندیاں امریکی جامعات، تحقیق اور ٹیکنالوجی کے شعبے کی بین الاقوامی مسابقت کو متاثر کر سکتی ہیں۔
تجویز کو قانونی چیلنج کا سامنا ہو سکتا ہے
مجوزہ 70 ہزار ڈالر فیس پر قانونی اعتراضات بھی سامنے آئے ہیں۔ ٹیلنٹ موبلٹی فنڈ کے ڈائریکٹر ڈوگ رینڈ نے اس تجویز پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے پاس بین الاقوامی طلبہ پر اس نوعیت کی فیس عائد کرنے کے اختیار پر سوالات اٹھتے ہیں۔ ان کے مطابق، اس تجویز کو عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔
اس سے قبل بھی بین الاقوامی طلبہ کے عملی تربیتی پروگراموں اور ایچ ون بی ویزا سے متعلق پابندیوں کو قانونی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ تاہم، نئی تجویز کا مستقبل عوامی آراء کے جائزے، حتمی ضابطے اور ممکنہ عدالتی کارروائیوں سے مشروط ہوگا۔
اگر یہ تجویز منظور ہو کر نافذ ہو جاتی ہے تو امریکی جامعات، بین الاقوامی طلبہ اور انہیں ملازمت دینے والی کمپنیوں پر مالی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ پاکستانی طلبہ سمیت امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند بین الاقوامی امیدواروں کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ حتمی فیصلے اور سرکاری ہدایات پر نظر رکھیں۔