سوات میں سیدوشریف بحالی مرکز سے 19 نشئی تالے توڑ کر فرار
سوات کےسرکاری بحالی مرکز میں سیکیورٹی انتظامات پر سوالات،لواحقین کا نگرانی کا نظام بہتر بنانے کامطالبہ
فائل فوٹو
سوات سیدوشریف میں محکمہ سوشل ویلفیئر کے زیرِ انتظام نشے کے عادی افراد کے سرکاری ریہیبلیٹیشن سینٹر سے جمعہ کی صبح 19 افراد تالے توڑ کر فرار ہوگئے، جس کے بعد پولیس اور محکمہ سوشل ویلفیئر حرکت میں آگئے۔ پولیس نے چار افراد کو حراست میں لے کر دوبارہ سینٹر انتظامیہ کے حوالے کردیا، جبکہ ذرائع کے مطابق تقریباً دس افراد کو اہلخانہ سے رابطوں کے بعد واپس سینٹر منتقل کردیا گیا ہے۔ باقی پانچ افراد کی تلاش جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق سیدوشریف میں قائم اس سرکاری ادارے میں تقریباً 60 نشے کے عادی افراد زیرِ علاج ہیں، جہاں ان کی بحالی، تربیت اور ذہن سازی کا عمل جاری ہے۔ تاہم، سیکیورٹی کے مناسب انتظامات نہ ہونے کے باعث اس نوعیت کے واقعات پیش آنے کی اطلاعات ہیں۔
چند ماہ قبل بھی اسی سینٹر میں ایک زیرِ علاج شخص نے گلے میں پھندا ڈال کر خودکشی کرلی تھی، جبکہ اس وقت بھی متعدد افراد سینٹر سے فرار ہوگئے تھے، جن میں سے بیشتر کو بعدازاں واپس لایا گیا تھا۔
ایک بار پھر 19 افراد کے تالے توڑ کر فرار ہونے کے واقعے نے سینٹر میں سیکیورٹی انتظامات پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
متاثرہ افراد کے لواحقین نے حکومت اور متعلقہ انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ریہیبلیٹیشن سینٹر میں سیکیورٹی کے مؤثر انتظامات کیے جائیں اور نگرانی کا نظام بہتر بنایا جائے تاکہ ایسے واقعات کی روک تھام کے ساتھ زیرِ علاج افراد کی حفاظت اور بحالی کا عمل بھی یقینی بنایا جاسکے۔