لائبہ خودکشی کیس:ملزم نے دھوکا دینے کیلئے چیٹ جی پی ٹی کا استعمال کیا

پولیس ذرائع کے مطابق ملزم نے جعلی دستاویزات سے طالبہ کودھوکا دیا،مزید متاثرین کی تلاش جاری

October 12, 2026 · امت خاص

لائبہ اعجاز خودکشی کیس میں اہم انکشاف، پولیس ذرائع کے مطابق ملزم نعمان نے چیٹ جی پی ٹی کے ذریعے جعلی کردار اور دستاویزات بنا کر طالبہ کو دھوکا دیا، مزید خواتین سے فراڈ کا بھی شبہ ہے۔ فائل فوٹو

لائبہ اعجاز خودکشی کیس میں انکشاف ہوا ہے کہ مرکزی ملزم نعمان نے طالبہ کو دھوکا دینے کے لیے چیٹ جی پی ٹی کا استعمال کیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق ملزم سے ابتدائی تحقیقات مکمل کرلی گئی ہیں، جن میں اس کے ماضی اور مبینہ فراڈ سے متعلق اہم تفصیلات سامنے آئی ہیں۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم نعمان 2022 تک 15 سال اینٹی کرپشن میں ملازم رہا، تاہم غیرحاضری کے باعث اسے ملازمت سے نکال دیا گیا۔ بعد ازاں وہ مختلف انشورنس کمپنیوں میں بطور منیجر کام کرتا رہا اور 2025 میں بلیو ایریا میں ایک انشورنس کمپنی میں ملازمت اختیار کی۔

ذرائع کے مطابق ملزم کا لائبہ سے پہلی مرتبہ مارچ 2023 میں رابطہ ہوا، جب لائبہ نے انشورنس کمپنی میں انٹرن شپ کے لیے درخواست دی۔ ملزم کو اسٹاف کی ضرورت تھی، جس پر اس نے لائبہ سے رابطہ کیا۔ لائبہ نعمان سے ملی، تاہم ٹیوشن پڑھانے کی وجہ سے دفتر جوائن نہ کرسکی۔ بعد ازاں ملزم نے لائبہ، اس کی بہن اور والدہ کو ٹک شاپ کی تشہیر کے لیے کام پر رکھ لیا۔

پولیس ذرائع کے مطابق ملزم نے چیٹ جی پی ٹی استعمال کرتے ہوئے عائزہ اور اس کے بھائی کا کردار ادا کیا۔ نعمان نے تمام دستاویزات لائبہ کو بھیجیں، جس پر اسے کوئی شک نہیں ہوا۔ ملزم نے انٹرویو کی تاریخ پہلے یکم ستمبر، پھر 17 ستمبر اور اس کے بعد 26 ستمبر بتائی۔ تاریخوں میں تبدیلی کے باعث لائبہ کو شک ہوا تو اس نے دستاویزات کی جانچ پڑتال کی، جو جعلی نکلیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ لائبہ نے اپنے والد سے 21 لاکھ روپے لے کر پلاٹ فروخت کیا تھا، جبکہ اپنی سوتیلی والدہ کے زیورات بھی نعمان کو دے دیے تھے۔ لائبہ پر سوتیلی والدہ کے زیورات واپس کرنے کا دباؤ تھا۔ اس نے نعمان سے کہا کہ باقی پیسوں کا معاملہ بعد میں دیکھ لیں گے، پہلے اس کی سوتیلی والدہ کے زیورات واپس کردے۔

پولیس ذرائع کے مطابق بعد ازاں نعمان نے لائبہ کو نظرانداز کرنا شروع کردیا اور اس سے رابطہ منقطع کرلیا۔ جب لائبہ کو کچھ سمجھ نہ آیا تو اس نے خودکشی کرلی۔

پولیس ذرائع کو شبہ ہے کہ ملزم نعمان نے کئی دیگر خواتین کے ساتھ بھی فراڈ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق گرفتاری میں تاخیر کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ملزم نے اپنے موبائل فون سے تمام ڈیٹا ڈیلیٹ کردیا۔ موبائل فون کا فارنزک کرانے کے بعد ڈیٹا ریکور کیا جائے گا، جس کے ذریعے مزید متاثرین کا سراغ لگانے کی کوشش کی جائے گی۔