گلشن حدید میں مرنے والا خاندان تنگدستی کا شکار نہیں تھا ، معاملہ الجھ گیا
گھر کے سربراہ (شاہزیب) نے کچھ ہی عرصہ قبل اپنا نیا گھر تعمیر کروایا تھا، وہ اچانک معاشی دلدل میں کیسے دھنس گیا، چونکا دینے والی رپورٹ
کراچی: گلشنِ حدید (بن قاسم، گلشنِ فلک ناز بلاک جے) کے ایک رہائشی فلیٹ سے منگل کی صبح ایک ہی خاندان کی 5 لاشیں برآمد ہونے سے پورے علاقے میں سنسنی پھیل گئی۔ جاں بحق ہونے والوں میں میاں بیوی، ایک خاتون اور دو بچیاں شامل ہیں۔
امت ڈیجیٹل کی رپورٹ کے مطابق ابتدائی طور پر موقع سے ملنے والے ایک دلخراش اور خون آلود خط نے اس تاثر کو جنم دیا کہ شدید معاشی بدحالی، بے روزگاری اور قرضوں کے بوجھ نے اس خاندان کو اس انتہائی قدم پر مجبور کیا۔
پولیس کو جائے وقوعہ سے جو خط ملا ہے اس میں خاندان کی بے بسی کی دردناک داستان رقم ہے۔ خط کے متن کے مطابق فیملی طویل عرصے سے شدید مالی بحران اور بے روزگاری کا شکار تھی۔مہنگائی اور کساد بازاری کے اس دور میں فلیٹ کا کرایہ اور گھر کے اخراجات چلانا ناممکن ہو چکا تھا۔
خط میں شکوہ کیا گیا کہ مشکل وقت میں قریبی رشتہ داروں نے منہ موڑ لیا، فون نمبرز بلاک کر دیے اور امداد یا سہارا دینے کے بجائے معاشرتی دباؤ میں مزید اضافہ کیا۔
اس سانحے کے بعد جہاں ایک طرف مالی مشکلات کو بنیادی وجہ قرار دیا جا رہا ہے، وہیں فلیٹ کے مالکِ مکان نے ایک ایسا انکشاف کیا ہے جس نے تحقیقات کا رخ ہی بدل کر رکھ دیا ہے۔
مالکِ مکان کا کہنا ہے کہ بظاہر خودکشی اور مالی تنگی کا تاثر دینے والے اس گھر کے سربراہ (شاہزیب) نے کچھ ہی عرصہ قبل اسی شہر کے ایک اور علاقے میں اپنا نیا گھر تعمیر کروایا تھا۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس شخص نے حال ہی میں ذاتی مکان کی تعمیر جیسی بڑی مالی سکت دکھائی ہو، وہ اچانک اتنے گہرے معاشی دلدل میں کیسے دھنس گیا کہ فیملی سمیت موت کو گلے لگانے کا فیصلہ کرنا پڑا؟ یا اس اندوہناک واقعے کے پیچھے کوئی اور اندرونی کہانی، قرضوں کا جال یا گھریلو تنازع پوشیدہ ہے؟
پولیس حکام کے مطابق فلیٹ اندر سے بند تھا اور دروازے کے ہینڈل میں ڈبل راڈ لگی ہوئی تھی۔ لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے جناح پوسٹ گریجوایٹ میڈیکل سینٹر منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ فارنزک اور کیمیکل لیبارٹری کے لیے نمونے بھی حاصل کر لیے گئے ہیں۔
ایس پی ملیر کے مطابق ابتدائی طور پر بظاہر یہ اجتماعی خودکشی کا کیس معلوم ہوتا ہے، تاہم پولیس قتل سمیت دیگر تمام پہلوؤں سے باریک بینی سے تحقیقات کر رہی ہے تاکہ اصل حقائق سے پردہ اٹھایا جا سکے۔