ایمیزون لیو کا تجربہ کامیاب، اسپیڈ 400 ایم بی پی ایس سے تجاوز کرگئی
یہ سروس ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کے اسٹارلنک کی حریف سمجھی جا رہی ہے۔
ایمیزون لیو کا تجربہ کامیاب، اسپیڈ 400 ایم بی پی ایس سے تجاوز کرگئی
امریکی کمپنی ایمیزون نے اپنی سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس ’ایمیزون لیو‘ کے ایک تازہ تجربے میں 400 ایم بی پی ایس سے زیادہ ڈاؤن لوڈ اسپیڈ حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ سروس ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کے اسٹارلنک کی حریف سمجھی جا رہی ہے۔
ایمیزون کے مطابق یہ تجربہ امریکی ریاست میری لینڈ میں فوج کے ایک تحقیقی اور ٹیکنالوجی مرکز میں کیا گیا، جہاں لیو پرو ڈش کے ذریعے سیٹلائٹ انٹرنیٹ فراہم کیا گیا۔ تجربے کے دوران لیپ ٹاپ استعمال کرتے ہوئے ڈیٹا بھیجنے اور وصول کرنے کا مظاہرہ کیا گیا، جبکہ مدار میں موجود سیٹلائٹس کے گزرنے کے دوران ڈاؤن لوڈ اسپیڈ 400 ایم بی پی ایس سے زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ لیو پرو ڈش بنیادی صارفین کے لیے تیار کی گئی ہے اور اس کی تشہیری رفتار 400 ایم بی پی ایس ہے۔ تاہم تازہ تجربے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ڈیوائس اس سے زیادہ رفتار بھی فراہم کرسکتی ہے۔
انٹرنیٹ کی رفتار کے حوالے سے یہ پیش رفت اسٹارلنک کے لیے ممکنہ مقابلہ بن سکتی ہے۔ اسٹارلنک کے بعض صارفین کے کنکشن پر ڈاؤن لوڈ اسپیڈ 400 سے 500 ایم بی پی ایس تک پہنچ سکتی ہے، تاہم اوکلا کے اعداد و شمار کے مطابق امریکا میں اس کی اوسط ڈاؤن لوڈ رفتار عموماً 150 ایم بی پی ایس کے قریب رہتی ہے۔
ایمیزون لیو کی باضابطہ لانچنگ اور قیمتوں کے حوالے سے ابھی اہم تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔ کمپنی کے عہدیداروں کے مطابق سروس کو رواں سال متعارف کرانے کا منصوبہ برقرار ہے۔ ایمیزون قیمت، انٹرنیٹ کی کارکردگی اور اپنی دیگر سہولتوں، بشمول پرائم، کے ساتھ ممکنہ پیکجز کے ذریعے صارفین کو متوجہ کرنے کی کوشش بھی کررہا ہے۔
ایمیزون اس سروس کے لیے مختلف اقسام کی ڈشز تیار کررہا ہے۔ لیو نینو نامی پورٹیبل ڈیوائس سے 100 ایم بی پی ایس تک رفتار فراہم کرنے کا منصوبہ ہے، جبکہ لیو الٹرا کو کاروباری اداروں کے لیے تیار کیا گیا ہے، جو ایک گیگابٹ تک ڈاؤن لوڈ اور 400 ایم بی پی ایس تک اپ لوڈ اسپیڈ فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے۔ کمپنی نے گزشتہ سال منتخب کاروباری صارفین کے لیے لیو الٹرا کا محدود آزمائشی پروگرام بھی شروع کیا تھا۔
تاہم اسٹارلنک کے مقابلے میں ایمیزون کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ اسٹارلنک کے پاس پہلے ہی ہزاروں فعال سیٹلائٹس اور دنیا بھر میں ایک کروڑ 30 لاکھ سے زیادہ صارفین موجود ہیں۔ دوسری جانب ایمیزون لیو کو سیٹلائٹس کی تعیناتی میں تاخیر کا سامنا رہا ہے اور فراہم کردہ معلومات کے مطابق اس کے مدار میں 400 سے کم سیٹلائٹس موجود ہیں۔
عالمی سطح پر زیادہ صارفین کو سروس فراہم کرنے کے لیے ایمیزون کو اپنے سیٹلائٹس کی تعداد میں نمایاں اضافہ کرنا ہوگا تاکہ کوریج اور نیٹ ورک کی صلاحیت بہتر بنائی جاسکے۔ اس کے باوجود کمپنی کاروباری شعبے میں اسٹارلنک کے صارفین کو اپنی جانب متوجہ کرنے کی کوشش کررہی ہے، جس میں کمرشل ایئرلائنز کے ساتھ معاہدے بھی شامل ہیں۔
ایمیزون کے مطابق امریکی فوج کے ساتھ اس ابتدائی تجربے کے بعد مزید آزمائشیں کی جائیں گی، جن میں تیز رفتار کنکشن، حرکت کرتی گاڑیوں یا دیگر موبائل حالات میں انٹرنیٹ کی فراہمی اور فوج کے موجودہ مواصلاتی نظام کے ساتھ انضمام شامل ہوگا۔ کمپنی کا مقصد اس ٹیکنالوجی کو تجربہ گاہ سے عملی میدان تک پہنچانا ہے۔