ایلون مسک نے اڑنے والی کار متعارف کرا دی
فضا میں بلند ہونے، ہوا میں گھومنے اور دیگر گاڑیوں کے اوپر سے گزرنے کا مظاہرہ کرکے دنیا بھر میں توجہ حاصل کر لی ہے
ایلون مسک نے اڑنے والی کار متعارف کرا دی
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق نئی ٹیسلا روڈسٹر کی رونمائی 15 اکتوبر 2026 کو امریکی ریاست ٹیکساس میں اسپیس ایکس کے راکٹ آزمائشی مرکز میں کی گئی۔ تقریب کے دوران گاڑی نے ایسے حیران کن کرتب دکھائے جنہیں عام طور پر سائنس فکشن فلموں میں دیکھا جاتا ہے۔
گاڑی نے فضا میں بلند ہو کر کرتب دکھائے
رونمائی کے دوران روڈسٹر کو ایک خم دار ریمپ پر چڑھتے اور تقریباً الٹی حالت میں پہنچتے دکھایا گیا۔ اس کے بعد گاڑی نے خصوصی تھرسٹرز کی مدد سے اپنا توازن برقرار رکھا، فضا میں حرکت کی اور نیچے اترنے کا مظاہرہ کیا۔
ایک اور مظاہرے میں گاڑی کو ٹیسلا کی دوسری گاڑیوں، جن میں سائبر ٹرک اور سائبر کیب بھی شامل تھیں، کے اوپر سے گزرتے ہوئے دکھایا گیا۔ اس دوران گاڑی نے ہوا میں گھومنے کے بعد دوسری جانب اترنے کا مظاہرہ کیا۔
اسپیس ایکس کے ساتھ اشتراک کے نتیجے میں تیار کی گئی اس گاڑی میں خصوصی تھرسٹرز نصب کیے گئے ہیں، جو اسے محدود وقت کے لیے زمین سے بلند ہونے اور فضا میں مخصوص حرکات کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ تاہم، اسے عام استعمال کی روایتی اڑنے والی گاڑی سمجھنا درست نہیں ہوگا، کیونکہ اس کی فضائی صلاحیتوں، عملی استعمال اور حفاظتی تقاضوں سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔
ایک سیکنڈ سے بھی کم وقت میں 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار
ٹیسلا کے دعوے کے مطابق نئی روڈسٹر غیر معمولی رفتار حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ مظاہرے کے دوران گاڑی کو صفر سے 60 میل فی گھنٹہ، یعنی تقریباً 97 کلومیٹر فی گھنٹہ، کی رفتار تک پہنچتے دکھایا گیا۔ کمپنی کے مطابق یہ رفتار ایک سیکنڈ سے بھی کم وقت میں حاصل کی جا سکتی ہے۔
گاڑی میں نصب تھرسٹرز کا مقصد صرف اسے فضا میں بلند کرنا نہیں بلکہ تیز رفتاری، بریک لگانے اور موڑ کاٹنے کے دوران کارکردگی بہتر بنانا بھی ہے۔ اس کے علاوہ گاڑی کے نچلے حصے میں ہوا کھینچنے والا خصوصی نظام بھی دکھایا گیا، جو گاڑی کو ریمپ پر چڑھتے ہوئے سطح کے ساتھ مضبوطی سے جڑے رہنے میں مدد دیتا ہے۔
یہ ٹیکنالوجی روایتی الیکٹرک گاڑیوں سے مختلف ہے، تاہم اس کی حقیقی کارکردگی اور عام سڑکوں پر استعمال کے لیے موزونیت کا حتمی اندازہ گاڑی کی تیاری اور مزید آزمائشوں کے بعد ہی لگایا جا سکے گا۔
گاڑی میں اسپیس ایکس کی ٹیکنالوجی کیسے کام کرے گی؟
نئی روڈسٹر میں استعمال ہونے والے تھرسٹرز اسپیس ایکس کی راکٹ ٹیکنالوجی سے متاثر ہیں۔ دستیاب تفصیلات کے مطابق یہ نظام دباؤ کے تحت محفوظ کی گئی ہوا استعمال کرتا ہے، جسے مخصوص نوزلز کے ذریعے خارج کرکے گاڑی کو حرکت اور سمت تبدیل کرنے میں مدد دی جاتی ہے۔
یہ بات اہم ہے کہ مظاہرے میں گاڑی کو انسانی ڈرائیور کے بغیر چلایا گیا۔ ایلون مسک کے مطابق اس کا مقصد آزمائش کے دوران کسی شخص کو خطرے سے بچانا تھا۔ اس لیے ابھی یہ واضح نہیں کہ خریداروں کو ملنے والی گاڑی میں فضائی کرتب کس حد تک دستیاب ہوں گے اور ان کے لیے کن حفاظتی انتظامات کی ضرورت ہوگی۔
ایلون مسک نے یہ بھی تسلیم کیا کہ گاڑی کی ایسی خصوصیات ہر جگہ عوامی سڑکوں پر قانونی طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہیں بھی ہو سکتی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس گاڑی کو عام ٹریفک میں چلانے اور فضا میں بلند کرنے کے درمیان قانونی اور حفاظتی فرق موجود ہے۔
ٹیسلا نے اعلان کیا ہے کہ نئی روڈسٹر کی پیداوار 2028 میں شروع کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس گاڑی کی دوسری نسل پہلی مرتبہ 2017 میں متعارف کرائی گئی تھی، تاہم اس کی تیاری اور مارکیٹ میں آمد کے منصوبے متعدد مرتبہ مؤخر ہوئے۔
رپورٹس کے مطابق گاڑی کے مختلف ماڈلز پیش کرنے کا منصوبہ ہے، جن میں زیادہ کارکردگی اور تھرسٹر ٹیکنالوجی پر توجہ دینے والے ورژن بھی شامل ہیں۔ بعض خصوصی ماڈلز کے لیے بھاری رقم بطور پیشگی بکنگ جمع کرانے کا ذکر بھی سامنے آیا ہے، تاہم حتمی قیمت، دستیابی اور مختلف ماڈلز کی مکمل تفصیلات کے بارے میں احتیاط ضروری ہے۔
کیا مستقبل میں اڑنے والی گاڑیاں عام ہو جائیں گی؟
ایلون مسک کی نئی روڈسٹر نے اڑنے والی گاڑیوں کے تصور کو ایک بار پھر عالمی بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔ اگر اس ٹیکنالوجی کو محفوظ، قابلِ اعتماد اور قانونی تقاضوں کے مطابق تیار کیا جاتا ہے تو یہ مستقبل کی گاڑیوں کے ڈیزائن اور کارکردگی کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت ہو سکتی ہے۔
تاہم، فی الحال روڈسٹر کا مظاہرہ اس بات کا ثبوت نہیں کہ عام شہری جلد ہی روزمرہ سفر کے لیے گاڑیوں کو فضا میں اڑاتے نظر آئیں گے۔ فضائی سفر کے لیے حفاظتی منظوری، توانائی کے استعمال، گاڑی پر کنٹرول، ہنگامی حالات اور فضائی قوانین جیسے کئی معاملات حل کرنا ضروری ہوں گے۔
ٹیسلا کی نئی روڈسٹر اپنی رفتار، جدید تھرسٹرز اور فضا میں کرتب دکھانے کی صلاحیت کے باعث غیر معمولی توجہ حاصل کر چکی ہے، لیکن اس کی حقیقی اہمیت کا فیصلہ اس وقت ہوگا جب کمپنی اسے عملی طور پر تیار کرکے صارفین کے لیے دستیاب کرے گی۔