اسلام آباد میں اخبارات نہ آنے سے سیاستدانوں سمیت سب پریشان
اسلام آباد میں اخبارات نہ آنے سے سیاستدانوں سمیت سب پریشان
اسلام آباد میں آبپارہ اخبار فروش مارکیٹ کو سیل کیے جانے کے بعد وفاقی دارالحکومت میں اخبارات کی ترسیل شدید متاثر ہو گئی ہے۔ جمعہ اور ہفتہ کے روز شہر کے مختلف علاقوں میں گھروں، سرکاری دفاتر، وزیراعظم ہاؤس، صدر ہاؤس اور سفارت خانوں تک اخبارات پہنچانے کا سلسلہ تقریباً معطل رہا، جبکہ اخبار فروشوں اور ہاکرز نے مارکیٹ کی بندش کے خلاف احتجاج شروع کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد کے متعلقہ حکام نے 16 اکتوبر 2026 کو آبپارہ میں واقع اخبار فروش مارکیٹ کو سیل کر دیا تھا۔ اس کارروائی کے بعد اخبار فروشوں نے اخبارات کی تقسیم روک دی، جس سے وفاقی دارالحکومت میں اخبارات کی ترسیل کا نظام متاثر ہوا۔ اخبار فروشوں کا کہنا ہے کہ جب تک مارکیٹ دوبارہ نہیں کھولی جاتی اور ان کے تحفظات دور نہیں کیے جاتے، ترسیل کی بحالی مشکل ہے۔
آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق تنظیم کے صدر سینیٹر سرمد علی اور سیکرٹری جنرل محمد اطہر قاضی نے مارکیٹ سیل کرنے کے اقدام کی مذمت کرتے ہوئے اسے آزادیٔ صحافت کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔ 16 اکتوبر کو جاری بیان میں تنظیم کے عہدیداروں کا کہنا تھا کہ مارکیٹ کو مبینہ طور پر بغیر پیشگی نوٹس اور واضح وجہ بتائے بند کیا گیا، جس سے اخبارات کی بروقت ترسیل متاثر ہونے کے ساتھ میڈیا اداروں اور اخبار فروشوں کو مالی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
اے پی این ایس نے وزیر داخلہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ معاملے میں فوری مداخلت کریں اور متعلقہ حکام کو مارکیٹ کھولنے اور معمول کی سرگرمیاں بحال کرنے کی ہدایت دیں۔ تنظیم کے مطابق آبپارہ اخبار مارکیٹ کئی دہائیوں سے وفاقی دارالحکومت میں اخبارات کی تقسیم کے مرکزی مراکز میں شامل رہی ہے، جہاں سے روزانہ بڑی تعداد میں اخبارات قارئین تک پہنچائے جاتے ہیں۔
دوسری جانب آل پاکستان اخبار فروش فیڈریشن اور ہاکرز کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مارکیٹ کی بندش کے لیے کرایے اور واجبات کی عدم ادائیگی کو بنیاد بنایا جا رہا ہے، تاہم ان کے مطابق بعض واجبات متنازع ہیں۔ اخبار فروشوں کا دعویٰ ہے کہ مارکیٹ سے ملحق ایک خالی پلاٹ کے حوالے سے تقریباً ایک کروڑ روپے کے واجبات ان پر عائد نہیں ہوتے، کیونکہ ان کے بقول یہ پلاٹ انہیں الاٹ نہیں کیا گیا تھا۔ اس معاملے پر متعلقہ حکام کا مؤقف سامنے آنا بھی اہم ہوگا تاکہ واجبات کے تنازعے کی نوعیت واضح ہو سکے۔
Can someone please tell me why newspapers are not being delivered? I believe today they may not have been printed even? What is happening? @abbasz55 @arifanoor72 @HamidMirPAK
— Shireen Mazari (@ShireenMazari1) October 17, 2026
اخبار فروشوں اور ہاکرز کی نمائندہ تنظیموں کا کہنا ہے کہ آبپارہ مارکیٹ صرف کاروبار کی جگہ نہیں بلکہ اسلام آباد اور راولپنڈی میں کام کرنے والے سینکڑوں اخبار فروشوں، ایجنٹس اور تقسیم کاروں کے روزگار کا اہم ذریعہ ہے۔ ان کے مطابق مارکیٹ کی اچانک بندش سے روزانہ اجرت پر کام کرنے والے محنت کشوں کی آمدن متاثر ہو رہی ہے، جبکہ اخبارات کی ترسیل رکنے سے قارئین بھی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
ہاکرز نے آبپارہ چوک پر احتجاجی مظاہرے کیے ہیں اور مطالبہ کیا ہے کہ مارکیٹ کو فوری طور پر کھولا جائے اور اگر کوئی قانونی یا مالی تنازع موجود ہے تو اسے متعلقہ فریقین سے بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے۔ احتجاج کرنے والے اخبار فروشوں کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں پریس کلب اور سی ڈی اے ہیڈکوارٹر کے سامنے دھرنا دیا جا سکتا ہے۔
مارکیٹ سیل کرنے کے خلاف قانونی کارروائی کا معاملہ بھی سامنے آیا ہے۔ فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق تاجر تنظیموں اور اخبار فروش یونین کے وکلا نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ کئی دہائیوں سے قائم مارکیٹ کو پیشگی نوٹس اور مناسب قانونی طریقہ کار کے بغیر سیل کرنا غیر قانونی ہے۔ اس درخواست پر عدالت کی کارروائی اور ممکنہ فیصلے سے متعلق تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔
معاملے پر سینئر صحافی حامد میر نے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی میڈیا پہلے ہی سنسرشپ اور اخبارات کی گردش میں کمی جیسے مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ ان کے مطابق دارالحکومت میں اخبارات کی مارکیٹ سیل ہونے اور ترسیل معطل ہونے سے میڈیا کے لیے ایک منفی پیغام جاتا ہے۔ ان کا تبصرہ اس تنازعے پر صحافتی حلقوں میں پائی جانے والی تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔
Pakistani media is already dying. Newspapers are losing circulation due to censorship. Now authorities have sealed the newspaper market in the capital of Pakistan. Newspaper distribution is suspended. Message is very clear for the media. Pack up and start some other business.…
— Hamid Mir حامد میر (@HamidMirPAK) October 17, 2026
دوسری جانب سوشل میڈیا صارفین نے بھی اخبارات کی عدم فراہمی کی شکایات کی ہیں۔ بعض افراد نے بتایا کہ انہیں مسلسل دو روز تک اخبار نہیں ملا، جبکہ کچھ صارفین نے ڈیجیٹل اخبارات پڑھنے کا مشورہ دیا۔ تاہم اخبار فروشوں کے لیے یہ معاملہ صرف اخبارات کی ترسیل تک محدود نہیں بلکہ ان کے روزگار اور کاروبار سے بھی جڑا ہوا ہے۔
آبپارہ اخبار مارکیٹ کی بندش نے ایک طرف انتظامیہ اور اخبار فروشوں کے درمیان واجبات کے تنازعے کو نمایاں کیا ہے، تو دوسری جانب اخبارات کی تقسیم، صحافتی اداروں کے کاروبار اور عوام تک معلومات کی رسائی پر اس کے اثرات کے حوالے سے سوالات بھی اٹھائے ہیں۔ اب توجہ اس بات پر ہے کہ متعلقہ حکام اور اخبار فروشوں کے درمیان مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل ہوتا ہے یا قانونی کارروائی کے نتیجے میں مارکیٹ کھولنے سے متعلق کوئی فیصلہ سامنے آتا ہے۔