مکہ میں سزائے موت پانے والے بنگلہ دیشی میاں بیوی نہیں تھے،والد کا اعتراف

دونوں کی شادی نہیں ہوئی تھی اور ان کا خاندان سویٹی کو جانتا تک نہیں۔

October 20, 2026 · امت خاص
سویٹی اہلیہ نہیں تھی،سعودی عرب میں سزائے موت پانے والے نذرل کے والد کا اہم انکشاف

سویٹی اہلیہ نہیں تھی،سعودی عرب میں سزائے موت پانے والے نذرل کے والد کا اہم انکشاف

سعودی عرب کے شہر مکہ میں سزائے موت پانے والے بنگلہ دیشی شہری نذرل اسلام کے والد نے اس دعوے کی تردید کردی ہے کہ سویٹی اختر ان کے بیٹے کی اہلیہ تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ دونوں کی شادی نہیں ہوئی تھی اور ان کا خاندان سویٹی کو جانتا تک نہیں۔

بنگلہ دیشی ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے نذرل کے والد عبدالطیف نے بتایا کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو خاندان کی مالی مدد کے لیے بیرون ملک بھیجا تھا۔ نذرل اس وقت کالج میں زیر تعلیم تھا، جب وہ روزگار کے لیے سعودی عرب روانہ ہوا۔

والد کے مطابق، سعودی عرب پہنچنے کے تقریباً چھ ماہ بعد نذرل کو گرفتار کرلیا گیا، جس کے بعد اسے تین سال اور تین ماہ جیل میں گزارنے پڑے۔ خاندان کو اب تک گرفتاری کی اصل وجوہات کا علم نہیں ہوسکا۔

عبدالطیف نے بتایا کہ انہوں نے بیٹے کو بیرون ملک بھیجنے کے لیے سات لاکھ بنگلہ دیشی ٹکہ قرض لیا تھا، جبکہ نذرل نے انہیں صرف ڈیڑھ لاکھ ٹکہ بھیجے تھے۔ اب قرض دینے والے افراد رقم کی واپسی کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔

انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا کہ ان کے بیٹے کی میت بنگلہ دیش واپس لانے کے لیے اقدامات کیے جائیں اور اگر سزا کے معاملے میں کوئی ناانصافی ہوئی ہے تو خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے۔

رپورٹس کے مطابق، 25 سالہ نذرل اسلام 10 نومبر 2022 کو سعودی عرب گیا تھا۔ وہاں پہنچنے کے تقریباً چھ ماہ بعد سعودی پولیس نے اسے اور سویٹی اختر نامی خاتون کو مکہ کی ایک مسجد سے مبینہ غیر اخلاقی سرگرمی میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ انہیں گرفتاری کی وجہ معلوم کرنے میں مشکلات کا سامنا رہا۔

رشتہ داروں کے مطابق، دونوں کو گزشتہ بدھ سزائے موت دے دی گئی۔ تاہم، مقدمے کی تفصیلات اور عدالتی کارروائی سے متعلق مکمل معلومات سامنے نہیں آسکیں۔

نذرل کے والد نے یہ بھی بتایا کہ سزائے موت کی خبر ملنے کے بعد ان کی پھوپھی عابدہ بیگم دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئیں۔

دوسری جانب اسلامی تحریک بنگلہ دیش کے رہنما غازی نیاز الکریم نے بنگلہ دیشی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سعودی حکام سے رابطہ کرکے واقعے کی تفصیلات حاصل کرے۔ ان کا الزام ہے کہ بنگلہ دیشی سفارت خانے کی جانب سے مناسب پیروی نہیں کی گئی۔

گاؤں کے بعض رہائشیوں نے بھی اس معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بنگلہ دیش اور سعودی عرب کی حکومتوں سے نذرل کے خاندان کی مدد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔