تین گولیاں کھا کر صومالی قزاقوں کی قید سے بچنے والے پاکستانی ملاح کی دردناک کہانی

قزاقوں نے پہلے ان کے جہاز پر قبضہ کیا، پھر عملے کو یرغمال بنا کر لاکھوں ڈالر تاوان کا مطالبہ کیا۔متاثرہ ملاح

October 20, 2026 · امت خاص
تین گولیاں کھا کر صومالی قزاقوں کی قید سے بچنے والے پاکستانی ملاح کی دردناک کہانی

تین گولیاں کھا کر صومالی قزاقوں کی قید سے بچنے والے پاکستانی ملاح کی دردناک کہانی

صومالی قزاقوں کے حملے، ساڑھے پانچ ماہ کی قید، موت کے خوف اور فائرنگ میں تین گولیاں کھانے کے بعد زندہ بچ جانے والے پاکستانی ملاح نے اپنی ہولناک داستان سنا دی۔ متاثرہ ملاح کے مطابق قزاقوں نے پہلے ان کے جہاز پر قبضہ کیا، پھر عملے کو یرغمال بنا کر لاکھوں ڈالر تاوان کا مطالبہ کیا۔

ملاح نے انٹرویو میں بتایا کہ 11 اپریل کو وہ جہاز کے اگلے حصے میں کام کر رہے تھے کہ اچانک دو چھوٹی کشتیاں تیزی سے جہاز کی جانب بڑھیں۔ ابتدا میں کشتیوں میں چھ افراد سوار تھے، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ قزاقوں کی تعداد بڑھ کر تقریباً 42 سے 45 تک پہنچ گئی۔

ان کے مطابق جہاز پر سوار ہوتے ہی قزاقوں نے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ وہ اور ان کا ایک ساتھی تقریباً آدھے گھنٹے تک چھپے رہے، بعد ازاں انہیں بھی دیگر عملے کے ارکان کے ساتھ برج پر لے جا کر یرغمال بنا لیا گیا۔ قزاق جہاز کو اپنے علاقے میں لے گئے، جہاں عملے کو ساڑھے پانچ ماہ تک قید میں رکھا گیا۔

ملاح نے بتایا کہ قید کے تیسرے روز انہیں خدشہ ہوا کہ قزاق انہیں قتل کرنے والے ہیں۔ اس دوران انہوں نے اپنے والد کو فون کرکے معافی مانگی اور اپنی بیوی اور بیٹی کا خیال رکھنے کی درخواست کی۔ ان کے بقول، اس وقت انہیں محسوس ہو رہا تھا کہ شاید وہ اپنی زندگی کی آخری گفتگو کر رہے ہیں۔

متاثرہ ملاح کے مطابق قزاقوں نے انہیں جسمانی تشدد کا نشانہ تو نہیں بنایا، تاہم جہاز کے کیبنوں پر قبضہ کر لیا، سامان تباہ کر دیا اور خوراک کا بڑا حصہ خود استعمال کر لیا۔ عملے کو سادہ چاول کھانے پڑتے تھے، جبکہ جہاز کا پانی صاف کرنے والا نظام خراب ہونے کے باعث انہیں گرم اور آلودہ پانی پینے پر بھی مجبور ہونا پڑا۔

انہوں نے بتایا کہ قزاقوں نے رہائی کے بدلے ابتدا میں 70 لاکھ ڈالر تاوان مانگا، جسے بعد میں کم کرتے ہوئے 60 لاکھ، 40 لاکھ اور آخر میں 10 لاکھ ڈالر تک لے آئے۔

ملاح کے مطابق ریسکیو کارروائی کے دن قزاقوں نے عملے کے ارکان کو رسیاں باندھ کر جہاز کے اگلے حصے میں بٹھا دیا۔ اسی دوران پنٹ لینڈ کی سکیورٹی فورسز کی کشتی وہاں پہنچی اور فائرنگ کا تبادلہ شروع ہو گیا۔ اس دوران ایک مسلح قزاق نے یرغمالیوں پر بھی فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے جبکہ بعض ساتھی جان سے گئے۔

انہوں نے بتایا کہ انہیں تین گولیاں لگیں۔ جان بچانے کے لیے وہ مردہ بن کر لیٹ گئے، کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ حرکت کرنے پر حملہ آور انہیں بھی قتل کر دے گا۔ فائرنگ رکنے کے بعد انہوں نے ساتھیوں کی رسیاں کھولنے میں مدد کی، جس کے بعد ریسکیو اہلکاروں نے زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی۔ ان کے مطابق ان کی پیٹھ اور ٹانگ کا مزید علاج اور آپریشن ہونا باقی ہے۔

ملاح نے دعویٰ کیا کہ بعد میں تقریباً 16 صومالی قزاق گرفتار ہوئے، جن میں انہوں نے مبینہ طور پر گروہ کے سربراہ محمد موسیٰ کی بھی شناخت کی۔

پاکستان واپسی کے بعد پیش آنے والے واقعات بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی اہلیہ نے ان کی رہائی کے لیے احتجاج اور پریس کلبوں کے چکر لگائے۔ تاہم کراچی ایئرپورٹ پر سکیورٹی کے رویے سے انہیں دکھ پہنچا، کیونکہ ان کے بقول ان کی اہلیہ کو ان سے ملنے نہیں دیا گیا۔

انہوں نے مزید شکایت کی کہ حکومتی شخصیات کی جانب سے علاج کے اخراجات اٹھانے کے اعلانات کے باوجود انہیں اسپتال میں فالو اپ کے دوران فیس ادا کرنے کا کہا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کمپنی نے بھی تاحال ان کے واجبات اور مالی معاونت فراہم نہیں کی۔

متاثرہ ملاح نے حکومت اور متعلقہ کمپنی سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام زخمی ملاحوں کے علاج اور مالی مدد کا بندوبست کیا جائے، کیونکہ وہ طبی طور پر کام کرنے کے قابل نہیں اور اگلے چھ سے سات ماہ تک ملازمت پر واپس نہیں جا سکتے۔

اپنی ذہنی کیفیت کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وطن واپس آنے کے باوجود وہ شدید ذہنی صدمے کا شکار ہیں۔ رات کو آنکھیں بند کرتے ہی انہیں جہاز، بندوقیں اور اپنے ساتھیوں کی لاشیں یاد آنے لگتی ہیں۔ ان کے مطابق جسم پاکستان میں ہے، لیکن ذہن اب بھی اسی جہاز پر قید ہے۔