پولیس گاڑی کا ٹائر پنکچر ہوا اور توقیر کو ساتھی لے گئے، ملتان میں بچے کا قاتل کیسے مارا گیا

دو موٹر سائیکلوں پر سوار تین افراد وہاں پہنچے اور پولیس ٹیم پر فائرنگ شروع کردی۔ حملہ آور مبینہ طور پر آوازیں لگاتے رہے کہ توقیر بھاگو، ہم تمہیں چھڑوانے آئے ہیں

October 21, 2026 · امت خاص
پولیس گاڑی کا ٹائر پنکچر ہوا اور توقیر کو ساتھی لے گئے، ملتان میں بچے کا قاتل کیسے مارا گیا

پولیس گاڑی کا ٹائر پنکچر ہوا اور توقیر کو ساتھی لے گئے، ملتان میں بچے کا قاتل کیسے مارا گیا

ملتان میں 15 سالہ وسیم عباس کو گاڑی سے کچل کر قتل کرنے کے مقدمے کے ملزم توقیر نذیر کی پولیس تحویل سے فرار اور چند گھنٹے بعد ہلاکت کا معاملہ سامنے آگیا ہے۔ محکمہ انسداد جرائم کے مطابق ملزم کو چھڑانے کے لیے آنے والے مسلح افراد کی فائرنگ کے دوران وہ اپنے ہی ساتھی کی گولی لگنے سے ہلاک ہوگیا۔

پولیس کے مطابق توقیر نذیر کو تفتیش کے لیے ملتان سے محکمہ انسداد جرائم کے تھانے منتقل کیا جا رہا تھا کہ رات تقریباً 11 بج کر 40 منٹ پر ایم پی ایس روڈ کے قریب سرکاری گاڑی کا پچھلا ٹائر پنکچر ہوگیا۔ پولیس اہلکار ٹائر تبدیل کرنے لگے تو ملزم کو گاڑی سے اتار کر ایک طرف کھڑا کیا گیا، جبکہ ایک اہلکار اس کی ہتھکڑی پکڑے ہوئے تھا۔

ایف آئی آر کے مطابق اسی دوران دو موٹر سائیکلوں پر سوار تین افراد وہاں پہنچے اور پولیس ٹیم پر فائرنگ شروع کردی۔ حملہ آور مبینہ طور پر آوازیں لگاتے رہے کہ توقیر بھاگو، ہم تمہیں چھڑوانے آئے ہیں۔

پولیس کے مطابق فائرنگ کے دوران توقیر نذیر نے ہتھکڑی پکڑے اہلکار کو دھکا دیا اور حملہ آوروں کی جانب دوڑ پڑا۔ اہلکار نے اسے روکنے کی کوشش کی، تاہم فائرنگ کے باعث کامیاب نہ ہوسکا۔ بعد ازاں حملہ آور اسے موٹر سائیکل پر بٹھا کر فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہوگئے۔

واقعے کے بعد بہاولپور بائی پاس کے قریب پولیس کو موٹر سائیکل سوار مشتبہ افراد نظر آئے۔ پولیس کے مطابق انہیں رکنے کا اشارہ کیا گیا، لیکن انہوں نے رکنے کے بجائے اہلکاروں پر فائرنگ کردی۔ پولیس کی جوابی کارروائی کے دوران ایک شخص اپنے ساتھی کی گولی لگنے سے زمین پر گر گیا، جبکہ دوسرا فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔

محکمہ انسداد جرائم کے مطابق ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت توقیر نذیر کے نام سے ہوئی، جو کچھ ہی گھنٹے پہلے پولیس تحویل سے فرار ہوا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے دوران اہلکار محفوظ رہے، تاہم سرکاری گاڑی پر گولیاں لگیں اور ایک اہلکار کی بلٹ پروف جیکٹ پر بھی گولی لگی۔

واضح رہے کہ 19 اکتوبر کو ملتان کے علاقے رائل آرچرڈ میں 15 سالہ وسیم عباس کو گاڑی سے کچلنے کا واقعہ پیش آیا تھا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں لڑکے کو گلی میں دوڑتے اور گاڑی کو اس کا تعاقب کرتے دیکھا گیا۔ پولیس کے مطابق وسیم جان بچانے کے لیے بھاگ رہا تھا، جبکہ مقدمے میں الزام لگایا گیا کہ ملزمان نے اسے گاڑی تلے کچل دیا۔

وسیم عباس ایک یتیم خانے میں رہتا تھا اور اسے مبینہ طور پر الیکٹریشن کا کام سیکھنے کے لیے چند روز پہلے ٹھیکیدار توقیر نذیر کے پاس بھیجا گیا تھا۔ پولیس یتیم خانے کی انتظامیہ سے بھی پوچھ گچھ کر رہی ہے کہ بچوں کو نجی افراد کے پاس کام سیکھنے کے لیے بھیجنے کے کیا انتظامات تھے۔