گل پلازہ آتشزدگی سانحہ نہیں، دہشت گردی ہے، گواہ کا انکشاف

گل پلازہ آتشزدگی کیس میں دکاندار شاہد پانی والے کا عدالت میں بیان،انتظامیہ پر سنگین الزامات

October 22, 2026 · قومی

گل پلازہ آتشزدگی کیس میں گواہ شاہد پانی والے کا انکشاف، مارکیٹ میں فائر سیفٹی اور فائر الارم موجود نہیں تھے۔ گواہ نے واقعے کو سانحے کے بجائے دہشت گردی قرار دیا، جبکہ پراسیکیوشن کی جانب سے عمارت کا ملبہ اٹھانے کی درخواست پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔ کیس کی مزید سماعت 24 اکتوبر کو ہوگی۔ فائل فوٹو

کراچی: گل پلازہ آتشزدگی کیس میں گواہ دکاندار شاہد پانی والے نے عدالت میں بیان دیا ہے کہ مارکیٹ میں فائر سیفٹی کا کوئی انتظام نہیں تھا اور نہ ہی فائر الارم نصب تھا۔ حالات و واقعات دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ کوئی سانحہ نہیں بلکہ دہشت گردی ہے۔ گواہ کے مطابق مارکیٹ میں آگ کی شدت اور پھیلاؤ سے شبہ ہوا کہ آگ سوچی سمجھی سازش کے تحت لگائی گئی تھی۔

جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں گل پلازہ آتشزدگی کیس کی سماعت ہوئی، جہاں گواہ شاہد پانی والے کا بیان قلمبند کیا گیا۔ گواہ نے کہا کہ گل پلازہ انتظامیہ کی غیر ذمہ داری کے باعث مارکیٹ، دکاندار اور گاہک کئی گھنٹے حبسِ بے جا میں رہے اور زندگیاں بچانے کے لیے کوئی عملی اقدام نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق اگر کوشش کی جاتی تو لوگوں کی جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔

گواہ نے بتایا کہ آگ مارکیٹ کے اندر لگی، اس لیے یہ مارکیٹ کا اندرونی معاملہ تھا اور اس کی تمام تر ذمہ داری گل پلازہ انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے۔ آتشزدگی کے نتیجے میں کئی جانیں ضائع ہوئیں اور معاشی نقصان بھی ہوا۔

گواہ کے مطابق انہوں نے 22 جنوری کو ڈی آئی جی، ایس ایس پی ساؤتھ اور ایس ایچ او نبی بخش کو خط لکھ کر مقدمہ درج کرنے کی درخواست کی، تاہم اس پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ بعدازاں انہوں نے سیشن جج کے پاس مقدمے کے اندراج کی درخواست دائر کی۔ عدالت کے نوٹسز کے بعد 31 جنوری کو رپورٹ پیش کی گئی، جس میں بتایا گیا کہ 23 جنوری کی شام مقدمہ درج کیا جا چکا تھا۔

عدالت نے گواہ کو رپورٹ کے بجائے اپنا بیان قلمبند کرانے کی ہدایت کی۔ گواہ نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کے مطابق گل پلازہ کے 16 دروازوں میں سے دو چار کھلے ہوئے تھے۔ عدالت نے انہیں ہدایت کی کہ رپورٹ چھوڑ کر اپنا بیان بتائیں۔ گواہ نے کہا کہ مارکیٹ میں فائر سیفٹی اور فائر الارم کا کوئی انتظام نہیں تھا جبکہ گل پلازہ یونین بھی رجسٹرڈ نہیں تھی۔

گواہ نے مزید کہا کہ ان کے پاس کچھ ویڈیوز موجود ہیں جو ان کے مؤقف کو ثابت کریں گی۔ عدالت نے ویڈیوز پیش کرنے کا کہا، تاہم واضح کیا کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت بیان میں ویڈیوز کی ضرورت نہیں۔ گواہ نے استدعا کی کہ جب تک ان کی گواہی جھوٹی ثابت نہ ہو، انہیں سازشی ٹولہ نہ کہا جائے۔

وکیل صفائی کی جرح

وکیل صفائی جاوید میر نے گواہ کے بیان پر جرح کرتے ہوئے ان کے کاروبار، مالی نقصان، دکانوں اور ذاتی تنازعات سے متعلق سوالات کیے۔ گواہ نے بتایا کہ وہ گل پلازہ میں منرل واٹر سپلائی کرتے تھے اور خالی و بھری بوتلوں کا اسٹاک پلانٹ میں رکھتے تھے۔ ان کا کاروبار ’’ایٹس پیور‘‘ کے نام سے تھا، جو کسی ادارے میں رجسٹرڈ نہیں تھا۔ ان کے مطابق ماہانہ آمدن چار سے پانچ لاکھ روپے تھی اور آتشزدگی میں ان کا بھی نقصان ہوا۔

گواہ نے تصدیق کی کہ ان کا کاروبار انکم ٹیکس، سندھ بورڈ آف ریونیو یا کسی دوسرے محکمے میں رجسٹرڈ نہیں تھا۔ انہوں نے بتایا کہ گل پلازہ انتظامیہ نے کبھی پانی کی لیبارٹری رپورٹ طلب نہیں کی۔ وکیل صفائی نے دعویٰ کیا کہ تنویر پاستا کی کمیٹی نے انہیں قانونی تقاضے پورے کرنے اور غیر معیاری پانی فراہم نہ کرنے کی ہدایت کی تھی، تاہم گواہ نے اس کی تردید کی۔

پانچ لاکھ روپے مالیت کی بوتلوں کے نقصان کے کلیم سے متعلق سوال پر گواہ نے کہا کہ انہوں نے کوئی کلیم جمع نہیں کروایا تھا۔ وکیل صفائی نے الزام عائد کیا کہ قانونی تقاضے پورے کرنے کے مطالبے پر گواہ ذاتی دشمنی کی وجہ سے بیان دے رہے ہیں، تاہم گواہ نے اس کی تردید کی۔

گواہ نے بتایا کہ مقدمے کی درخواست کے سلسلے میں وہ تفتیشی افسر اور وکیل کے پاس گئے تھے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ گل پلازہ کے ریکارڈ میں دکانیں ان کے بھائی جہانزیب کے نام پر تھیں، جبکہ کوٹیشن ان کے نام پر تھے۔ گواہ نے بہن بھائیوں کے درمیان کسی مقدمے یا تنازع کی تردید کی۔

عدالت نے چار دکانوں کے کلیم فارم سے متعلق سوال کیا تو گواہ نے تصدیق کی کہ انہوں نے فارم جمع کروایا تھا۔ وکیل صفائی کے استفسار پر انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کے بھائی جاوید نے کلیم فارم جمع کروایا تھا، تاہم کسی کو رقم نہیں ملی۔

وکیل صفائی نے کہا کہ گل پلازہ کے ریکارڈ اور چیمبر آف کامرس میں دکانیں جاوید کے نام پر ظاہر کی گئی تھیں۔ گواہ نے جواب دیا کہ یہ متعلقہ افراد کی اپنی صوابدید تھی۔ سندھ حکومت کی جانب سے گل پلازہ کی دوبارہ تعمیر کے لیے رقم مختص کیے جانے سے متعلق سوال پر گواہ نے کہا کہ انہیں ساڑھے آٹھ ارب روپے مختص کیے جانے کا علم ہوا تھا، تاہم ان کے ذاتی مسائل کو مقدمے میں مسئلہ بنایا جا رہا ہے۔ وکیل صفائی نے الزام لگایا کہ دکانیں جاوید کو ملنے کے خدشے پر گواہ کی تنویر پاستا سے دشمنی ہے، جس کی انہوں نے تردید کردی۔

دروازوں، رش اور آتشزدگی سے متعلق سوالات

وکیل صفائی نے سوال کیا کہ گل پلازہ کے دروازے اور گرلز 2014 سے پہلے نصب تھے اور تنویر پاستا نے کوئی نیا گیٹ نہیں لگوایا تھا۔ گواہ نے کہا کہ یہ بات ان کے علم میں نہیں۔ رات کے وقت دروازے اور شٹر بند کیے جانے سے متعلق انہوں نے بتایا کہ معمول کے مطابق رات 11 بجے کے بعد چوکیدار دروازے بند کرتے تھے۔

گواہ نے اس بات کی تردید کی کہ انہوں نے یا ان کے کسی ساتھی نے تنویر پاستا یا کمیٹی کے کسی رکن کو دروازے بند کرتے دیکھا تھا۔ انہوں نے ہفتے کی رات مارکیٹ میں زیادہ رش ہونے کی تصدیق کی، تاہم گراؤنڈ فلور پر زیادہ رش ہونے کے بارے میں کہا کہ شاید ایسا تھا۔

بیسمنٹ اور گراؤنڈ فلور پر کسی کی موت نہ ہونے اور تمام اموات میزانائن فلور پر ہونے سے متعلق سوال پر گواہ نے تصدیق کی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ڈی سی روڈ پر موجود تھے۔ وکیل صفائی نے کہا کہ وہاں سے دروازے، گرلز اور سیڑھیاں نظر نہیں آتی تھیں، جس کی گواہ نے تصدیق کی۔

گواہ نے بتایا کہ انہوں نے کسی دکان کا شٹر کھلا یا بند ہونے کی ویڈیو تفتیشی افسر کو نہیں دی۔ انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ اپنے پہلے بیان میں کسی سیڑھی کے بند ہونے کا ذکر نہیں کیا تھا۔ بیسمنٹ اور سیکنڈ فلور کی انتظامیہ آر جے ایسوسی ایٹس کے پاس ہونے اور ان دونوں فلورز کے گل پلازہ انتخابات میں شامل نہ ہونے سے متعلق سوالات پر بھی گواہ نے تصدیق کی۔

سول ڈیفنس کی رپورٹ سے متعلق بحث

سول ڈیفنس کی مبینہ جعلی رپورٹ کے بارے میں سوال پر گواہ نے کہا کہ انہوں نے رپورٹ دیکھی تھی اور اسے عدالت میں پیش کردیں گے۔ رپورٹ پر درج تاریخ سے متعلق انہوں نے بتایا کہ اس پر مارچ 2024 درج تھا۔

وکیل صفائی نے اعتراض کیا کہ یہ سول ڈیفنس کا سرٹیفکیٹ نہیں بلکہ فائر ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹ ہے اور گواہ نے عدالت میں غلط بیانی کی ہے۔ گواہ نے وضاحت کی کہ وہ الگ رپورٹ تھی۔ عدالت نے بھی ریمارکس دیے کہ یہ دوسری رپورٹ ہے۔ گواہ نے سول ڈیفنس کی مبینہ جعلی رپورٹ تفتیشی افسر کو پیش کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

وکیل صفائی نے کہا کہ مارچ 2024 میں تنویر پاستا کی کمیٹی موجود نہیں تھی بلکہ کمیٹی اگست 2024 میں بنی تھی۔ گواہ نے مؤقف اختیار کیا کہ رپورٹ آگ لگنے کے بعد پچھلی تاریخوں میں تیار کی گئی تھی۔ بعدازاں وکیل صفائی نے گواہ کے بیان پر جرح مکمل کرلی۔

ملبہ اٹھانے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

دوسری جانب پراسیکیوشن نے عدالت میں گل پلازہ کی عمارت کا ملبہ اٹھانے کی درخواست دائر کردی۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ملبے کے باعث لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے اور آلودگی بھی پھیل رہی ہے، اس لیے ملبہ ہٹانے کی اجازت دی جائے۔

جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی نے پراسیکیوشن کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا اور ریمارکس دیے کہ اس کا فیصلہ آئندہ سماعت پر کیا جائے گا۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 24 اکتوبر تک ملتوی کردی۔