مودی کی 33 سال قبل مرنے والے سادھو کے ‘ہولوگرام’ سے گفتگو

مصنوعی ذہانت کو مذہبی سیاسی مقصد کیلئے اس طرح استمعال کرنے پر سوشل میڈیا پر شدید تنقید

October 25, 2026 · امت خاص
مودی کی 33 سال قبل مرنے والے سادھو کے 'ہولوگرام' سے گفتگو

مودی کی 33 سال قبل مرنے والے سادھو کے 'ہولوگرام' سے گفتگو

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی ایک بار پھر اپنے متنازع اقدامات کے باعث خبروں کی سرخیوں میں ہیں۔ نئی دہلی میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران مودی نے مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) اور 3D ہولوگرام ٹیکنالوجی کا سہارا لیتے ہوئے 33 برس قبل دیہانت پا جانے والے ہندو سنت سوامی چینمایانند کے مصنوعی اوتار (Holobot) سے براہِ راست گفتگو کی۔

اس واقعے کی ویڈیو منظرِ عام پر آنے کے بعد جہاں بھارتی حکمران جماعت اسے جدید ٹیکنالوجی اور آستھا (عقیدت) کا سنگم قرار دے رہی ہے، وہی عوام اور ناقدین نے اسے اپنے پیروکاروں کو بے وقوف بنانے کی کوشش قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

23 اکتوبر 2026 کو نئی دہلی کے ‘بھارت منڈپم’ میں چینمایا مشن کے 75 ویں سالگرہ کی مناسبت سے ‘چینمایا امرت مہوتسو’ کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں ‘جنریٹو اے آئی’ اور 3D پروجیکشن کی مدد سے سوامی چینمایانند (جو 3 اگست 1993 کو دیہانت پا چکے ہیں) کا ایک متحرک ہولوگرام تیار کیا گیا۔

اس اے آئی اوتار نے نہ صرف سوامی جی کے چہرے کے تاثرات اور آواز کو نقل کیا بلکہ 1993 میں وڈودرا کے مقام پر مودی کے ساتھ ہونے والی ایک پرانی ملاقات کا ذکر بھی کیا۔ گفتگو کے دوران ہولوگرام نے مودی سے مزاحیہ اور ستائشی انداز میں بات چیت کی اور انہیں کھانا کھانے کی ہدایت کی۔ نریندر مودی نے اس سیشن کو ایک “روحانی تجربہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں محسوس ہوا جیسے وہ 33 سال ماضی میں چلے گئے ہوں۔

واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے ہی صارفین نے بھارتی وزیر اعظم اور ان کے حامیوں کو سخت آڑے ہاتھوں لیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مودی حکومت عوام کو حقیقی مسائل سے گمراہ کرنے کے لیے ٹیکنالوجی کا غلط استعمال کر رہی ہے۔

ڈاکٹر نیمو یادو (@DrNimoYadav) نامی صارف نے طنز کرتے ہوئے لکھا:

“یہ اے آئی کا وہ بہترین استعمال ہے جو صرف بھارتی ہی سوچ سکتے ہیں۔ پی ایم مودی 1993 میں دیہانت پا جانے والے بابا سے بات کر رہے ہیں اور بابا ان کی تعریفیں کر رہے ہیں۔ اگر اس کے بعد بھی آپ سمجھتے ہیں کہ ان کی قیادت میں بھارت ترقی کر رہا ہے تو آپ کو علاج کی ضرورت ہے۔”

@Looffy0 نے لکھا کہ “وزیر اعظم بننے کے لیے کم از کم تعلیمی اور عقلی اہلیت مقرر ہونی چاہیے۔”

@JudishRaj نے خدشہ ظاہر کیا کہ “اگلی بار مودی اے آئی کے ذریعے شری رام، کرشنا اور مہادیو کو لائیں گے اور وہ سب مودی کی تعریفیں کر رہے ہوں گے۔”

دیگر صارفین نے تقریب میں موجود لوگوں کے تالیاں بجانے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے “عقلی پسماندگی” قرار دیا۔

بھارتی وزیرِ ثقافت گجندر سنگھ شیخاوت نے اس تجربے کا دفاع کرتے ہوئے اسے “آستھا (مذہبی عقیدت) اور ٹیکنالوجی کا غیر معمولی سنگم” قرار دیا، تاہم تجزیہ کاروں اور سوشل میڈیا صارفین نے اس عمل پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دیہانت پا جانے والی مذہبی شخصیات کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے “زندہ” کر کے سیاسی مفادات اور تشہیر کے لیے استعمال کرنا اخلاقی اصولوں کے منافی ہے۔

سوشل میڈیا پر اس وقت یہ بحث زوروں پر ہے کہ آیا یہ ٹیکنالوجی کا مثبت استعمال ہے یا مودی حکومت کی جانب سے اپنے حامیوں کو مزید گمراہ کرنے کا سیاسی طریقہ۔