بچوں کی فحش این میٹڈ ویڈیوز امریکہ اور جرمنی میں بیچی جاتی رہیں
فی ویڈیو ہزار ڈالر وصول کیے گئے۔ گرافکس۔ لوگو ڈیزائننگ اور آرسٹ اینی میشن کے نام پر مذموم دھندا رابعہ سٹی می ںڈھائی برس سے چل رہا تھا
بچوں کی فحش این میٹڈ ویڈیوز امریکہ اور جرمنی میں بیچی جاتی رہیں
کراچی میں بچوں سے متعلق بخش اپنی میشن مواد کے مبینہ عالمی دھندے میں، ایک ویڈیو ایک ہزار ڈالر میں فروخت کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ این سی سی آئی اے کی تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا۔ گلستان جوہر میں سرگرم گروپ ڈھائی سال سے مبینہ طور پر کام کر رہا تھا، جس پر امریکہ اور جرمنی میں خریداروں کو ویڈیوز بھیجنے کا الزام ہے۔ کیس میں منی لانڈرنگ کے پہلو سے بھی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ اور بینک اکا ؤنٹس اور اثاثوں کی چھان بین جاری ہے۔ جب کہ تین دفاتر سے 42 افراد حراست میں لیے گئے۔ ڈیجیٹل شواہد کی جانچ کے ساتھ نیٹ ورک کے مالی معاونین اور بیرونِ ملک رابطوں کا سراغ لگانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
امت کو ملنے والی معلومات کے مطابق گلستان جوہر کی رابعہ ٹی میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی کارروائی کے بعد سامنے آنے والے فخش اینی میشن نیٹ ورک کی تحقیقات میں مزید اہم مالی پہلوزیر غور آنے لگے ہیں۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ گروپ مبینہ طور پر گزشتہ ڈھائی سال سے سرگرم تھا اور بچوں سے متعلق قابلِ اعتراض اینی میٹڈ ویڈیوز تیار کر کے بیرون ملک صارفین کو فراہم کرتا تھا۔ ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ بعض ویڈیوز امریکہ اور جرمنی میں موجود خریداروں کو ایک ہزار امریکی ڈالرفی ویڈیو کے عوض بھیجی جاتی تھیں۔ اس دعوے کی مکمل تصدیق ، خریداروں کی شناخت اور لین دین کی تفصیلات سامنے آنا ابھی باقی ہیں۔
ذرائع کے مطابق کارروائی کے بعد تفتیش کا دائرہ صرف غیر اخلاقی مواد کی تیاری اور آن لائن ترسیل تک محدود نہیں رکھا گیا، بلکہ مبینہ نیٹ ورک سے حاصل ہونے والی آمدن، اس رقم کی منتقلی، ممکنہ بینک اکا ؤنٹس اور متعلقہ افراد کے اثاثوں کی چھان بین بھی شروع کر دی گئی ہے۔ تحقیقات میں یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ اگر بیرون ملک صارفین سے رقوم وصول کی جاتی تھیں تو ادائیگیاں کن ذرائع سے آتی تھیں، رقم کن افراد یا اداروں کے اکاؤنٹس میں منتقل ہوتی تھی اور آیا اسے قانونی کاروبار کی آمدن ظاہر کر کے استعمال کیا گیا یا نہیں۔
این سی سی آئی اے ذرائع کے مطابق گلستان جوہر کی رابعہ سٹی میں قائم تین دفاتر پر کارروائی کے دوران 42 افراد کو حراست میں لیا گیا تھا، جن میں کم عمر افراد بھی شامل بتائے گئے ہیں۔ ابتدائی معلومات کے مطابق ان دفاتر میں گرافکس ڈیزائننگ ، بینر سازی، لوگوڈیزائننگ اور آرٹ انیمیشن جیسے کاموں کی آڑ میں مبینہ طور پر قابل اعتراض اینیمیٹڈ مواد تیار کیا جاتا تھا۔ تفتیشی حکام اب یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ تینوں دفاتر کے درمیان انتظامی اور مالی تعلق کسی نوعیت کا تھا اور ان میں کام کرنے والے افراد کے فرائض کیا تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مبینہ گروپ کے طویل عرصے تک سرگرم رہنے کا پہلو بھی تحقیقات میں اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ اگر یہ سرگرمیاں واقعی ڈھائی سال سے جاری تھیں تو تفتیشی ادارے کے لیے یہ معلوم کرنا ضروری ہوگا کہ اس عرصے کے دوران کتنے صارفین سے رابطے کیے گئے۔ کتنی ویڈیوز تیار ہوئیں ، ان کی فروخت سے کتنی رقم حاصل ہوئی اور اس رقم سے کن افراد کوفائدہ پہنچا۔
تاہم، گروپ کی سرگرمیوں کی درست مدت اور کاروبار کے مجموعی حجم کا تعین ڈیجیٹل ریکارڈ ، مالی دستاویزات اور دیگر قابل تصدیق شواہد کی جانچ کے بعد سامنے آئیں گے۔
تحقیقات سے متعلق ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ گروپ کے ارکان سوشل میڈیا پر خواتین کے ناموں سے اکاؤنٹس بنا کر بیرونِ ملک صارفین سے رابطے کرتے تھے اور ان کی فرمائش پر اپنی مینڈ ویڈیوز تیار کر کے بھیجتے تھے۔ اب تفتیش کاروں کی توجہ اس بات پر ہے کہ امریکہ اور جرمنی میں مبینہ خریداروں سے رابطے کس طرح قائم کیے گئے ، آرڈرز کس ذریعے سے موصول ہوتے تھے اور تیار شدہ موادان تک پہنچانے کے لیے کون سے آن لائن پلیٹ فارم استعمال کیے جاتے تھے۔
ذرائع کے مطابق بعض ویڈیوز کی قیمت ایک ہزار امریکی ڈالر تک بتائی جارہی ہے۔ اگر یہ قیمت اور فروخت کی تعداد شواہد سے ثابت ہو جاتی ہے تو تفتیشی ادارے کو نیٹ ورک کی ممکنہ آمدن کا اندازہ لگانے میں مد دل سکتی ہے۔ تاہم فی الحال یہ واضح نہیں کہ ایک ہزار ڈالر کی قیمت ہر ویڈیو کے لیے مقرر تھی یا یہ رقم مخصوص آرڈرز یا کسی خاص نوعیت کے مواد کے لیے طلب کی جاتی تھی۔
تفتیش کا ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ بیرون ملک صارفین کی شناخت کسی حد تک معلوم ہو چکی ہے اور آیا ان کے ساتھ ہونے والے رابطوں کا ڈیجیٹل ریکارڈ دستیاب ہے۔ ان اکاؤنٹس، پیغامات، فائلوں کی ترسیل اور ادائیگیوں کے ریکارڈ کو باہم ملا کر یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ مبینہ سرگرمیوں میں کون سے افراد برادر است شریک تھے اور کن لوگوں نے صرف گرافکس یا دیگر قانونی نوعیت کی خدمات فراہم کیں۔
این سی سی آئی اے ذرائع کے مطابق اب اس معاملے میں مبینہ طور پر حاصل ہونے والی رقم اور اس کے استعمال کی چھان بین بھی شروع کر دی گئی ہے۔ تفتیش کاروں کی توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ گروپ کی آمدن کہاں جمع ہوتی تھی ، رقوم کی منتقلی کے لیے کون سے ذرائع استعمال کیے جاتے تھے اور آیا مبینہ آمدن کو مختلف اکاؤنٹس، کاروباری اداروں یا دوسرے مالی ذرائع کے ذریعے منتقل کیا جاتا تھا۔
ذرائع کے مطابق متعلقہ افراد کی آمدن، بینک اکاؤنٹس اور اثاثوں سے متعلق معلومات کا جائزہ لینے کی کوشش کی جارہی ہے، تاکہ ان کی معلوم آمدن اور مالی وسائل کے درمیان مطابقت دیکھی جاسکے۔ اس عمل میں اگر کسی مشتبہ مالی لین دین یا غیر واضح اثاثے کی نشاندہی ہوتی ہے تو اس کی نوعیت اور ماخذ کی الگ سے جانچ ضروری ہوگی ۔
منی لانڈرنگ کی تحقیقات میں محض رقم کا کسی اکاؤنٹ میں آنا یا کسی شخص کے پاس اثاثہ موجود ہونا بذات خود جرم کا ثبوت نہیں ہوتا تفتیشی ادارے کو یہ ثابت کرنے کے لیے متعلقہ مالی ریکارڈ ، رقوم کے اصل ذرائع منتقلی کے مراحل اور ہر فرد کے کردار کا جائزہ لینا ہوگا کہ آیا کسی رقم کو غیر قانونی سرگرمیوں سے حاصل کیا گیا تھا یا اسے چھپانے یا اس کی اصل نوعیت بدلنے کی کوشش کی گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ تحقیقات میں مبینہ گروپ سے وابستہ افراد کے مالی معاملات اور اثاثوں کی تفصیلات بھی اہمیت اختیار کر گئی ہیں۔ تفتیشی ادارہ یہ جاننے کی کوشش کر رہا ہے کہ دفاتر کے اخراجات کون برداشت کرتا تھا، ملازمین کو ادائیگیاں کسی طریقے سے کی جاتی تھیں اور کاروبار سے حاصل ہونے والی ممکنہ آمدن کن افراد کے پاس جاتی تھی۔
اس سلسلے میں بینک اکاؤنٹس، کاروباری لین دین، دستیاب مالی دستاویزات اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے ریکارڈ کی جانچ سے مبینہ نیٹ ورک کے مالی ڈھانچے کو سمجھنے میں مددمل سکتی ہے۔ اگر تینوں دفاتر کے مالی معاملات میں مشتر کہ افراد یا اکا ؤنٹس کا کردار سامنے آتا ہے تو اس سے ان کے باہمی تعلق کی مزید وضاحت ہو سکتی ہے۔
تا ہم ، ابھی تک گروپ کی مجموعی آمدن ، کسی مخصوص اکاؤنٹ میں جمع ہونے والی رقم یا ضبط شدہ اثاثوں کی تصدیق شدہ مالیت سے متعلق تفصیلات دستیاب نہیں ہیں۔ اس لیے مالی بے ضابطگیوں یا منی لانڈرنگ کے الزامات کو حتمی حقیقت کے طور پر پیش کرنے کے بجائے جاری تحقیقات کے تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔
اسی طرح یہ بھی معلوم کرنا ہوگا کہ مبینہ مواد تیار کرنے ، اس کی تشہیر کرنے ، بیرونِ ملک صارفین سے رابطے رکھنے اور رقم وصول کرنے کے کام مختلف افراد انجام دیتے تھے یا یہ ذمہ داریاں ایک ہی انتظامی ڈھانچے کے تحت تقسیم تھیں۔ اس فرق کی وضاحت سے ہر شخص کے کردار کا تعین کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
گلستان جوہر کی رابعہ سٹی میں کارروائی کے بعد اب اہم سوال یہ ہے کہ این سی سی آئی اے ضبط شدہ ڈیجیٹل آلات اور مالی ریکارڈ کی مدد سے مبینہ نیٹ ورک کی سرگرمیوں اور اس کی آمدن کا کتنا قابل تصدیق سراغ لگا پاتی ہے۔ امریکہ اور جرمنی میں مبینہ خریداروں کو ایک ہزار ڈالر فی ویڈیو کے عوض مواد فراہم کرنے مرنے کے دعوے، ڈھائی سال سے سرگرمیوں کے تسلسل اور منی لانڈرنگ کے ممکنہ پہلوؤں کی تصدیق کے لیے ٹھوس شواہد درکار ہوں گے۔
تحقیقات میں اگر غیر قانونی آمدن مشتبہ مالی منتقلیوں یا دیگر معاونین کے شواہد سامنے آتے ہیں تو متعلقہ ادارے قانون کے مطابق مزید کارروائی کر سکتے
ہیں۔ فی الحال معاملہ تفتیش کے مرحلے میں ہے، اس لیے حتمی نتیجہ شواہد تفتیشی رپورٹ اور عدالتی کارروائی کی بنیاد پر ہی سامنے آئے گا۔