نوجوان خاتون پولیس افسر کا بیج میٹ سرکاری افسر پر مقدمہ، اصل کہانی کیا ہے؟

این سی سی آئی نے مرد افسر کو تاحال تحویل میں رکھا ہوا ہے، بیرون ملک شخص بھی ملزم

October 28, 2026 · امت خاص
علامتی تصویر (اے آئی)

علامتی تصویر (اے آئی)

اسلام آباد میں زیرِ تربیت دو سی ایس پی افسران کے درمیان چیٹ لیک ہونے اور سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کا ایک انتہائی منفرد اور سنجیدہ معاملہ سامنے آیا ہے، جس میں خاتون پولیس افسر کی مدعیت میں بیج میٹ سرکاری افسر کے خلاف مقدمہ درج کر کے اسے گرفتار کر لیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق اس کیس میں شامل دونوں افسران اسلام آباد میں پوسٹڈ ہیں اور اپنی ابتدائی ٹریننگ کے مراحل سے گزر رہے ہیں۔ ان میں خاتون افسر کا تعلق پولیس سروس آف پاکستان (پی ایس پی) سے ہے جبکہ دوسرے افسر کا تعلق آفس مینجمنٹ گروپ (او ایم جی) سے ہے اور دونوں بیج میٹ ہیں۔

معاملے سے واقف صحافیوں کے مطابق واقعے کی ابتداء اس وقت ہوئی جب مرد افسر کی جانب سے خاتون افسر کے حوالے سے مبینہ طور پر کچھ ایسی گفتگو اور چیٹ کی گئی جو بعد میں انسٹاگرام اور دوستوں کے مختلف گروپس میں شیئر ہو گئی۔

اس معاملے پر خاتون افسر نے این سی سی آئی اے (NCCIA) سے رجوع کیا جہاں 13 اگست کو باضابطہ انکوائری کا آغاز کیا گیا۔ چونکہ معاملہ سی ایس پی افسران سے جڑا تھا اس لیے انکوائری کا عمل تقریباً دو ماہ تک جاری رہا، اور بالآخر 9 اکتوبر 2026 کو اس ضمن میں باضابطہ ایف آئی آر کا اندراج کر لیا گیا۔

مقدمہ درج ہونے کے بعد کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے نامزد سی ایس پی افسر کو 21 اکتوبر کو گرفتار کر لیا گیا اور وہ اس وقت این سی سی آئی اے لاہور کی تحویل میں ہیں۔ تفتیش کے دوران ملزم کا پہلے چار دن اور پھر دو دن کا جسمانی ریمانڈ حاصل کیا گیا اور مقامی عدالت میں پیش کیا گیا۔ تفتیشی حکام کے مطابق اس دوران ملزم کا موبائل فون بھی ریکور کیا جا چکا ہے، انسٹاگرام اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کر لی گئی ہے، اور فیس بک کی ہولڈنگ کمپنی میٹا سے بھی اس حوالے سے رپورٹس موصول ہو چکی ہیں جبکہ فرانزک رپورٹ بھی حاصل کی جا چکی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس کیس میں ایک اور ملزم بیرونِ ملک بھی موجود ہے جبکہ مرکزی ملزم کا نام بھی بیرونِ ملک سفر پر پابندی کی فہرست میں ڈالے جانے کی اطلاعات ہیں۔