نیتن یاہو کی کرسی چھیننے والے 3 مسلمان رہنما کون؟
نیتن یاہو کا اقتدار ختم کرنے میں 3 اہم مسلم و عرب رہنماؤں منصور عباس (اسرائیلی عرب سیاست دان) ،رجب طیب اردگان (صدرِ ترکی) اورمحمد بن عبد الرحمٰن آل ثانی (وزیراعظم و وزیر خارجہ قطر) نے اہم کردار اداد کیا
فائل فوٹو
نیویارک/یروشلم: اسرائیلی کیبنٹ اور پارلیمنٹ میں جاری شدید سیاسی بحران اور اندرونی کھینچ تان کے بعد وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کی حکومت شدید ترین مشکلات کا شکار ہو گئی ہے جبکہ سوشل میڈیا اور عالمی سیاسی حلقوں میں یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ نیتن یاہو کا اقتدار ختم کرنے میں 3 اہم مسلم و عرب رہنماؤں نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
سوشل میڈیا اور ذرائع ابلاغ پر وائرل ہونے والی رپورٹس کے مطابق اسرائیل کی سیاسی صف بندی اور بین الاقوامی سفارتی محاذ پر پیدا ہونے والی تبدیلیوں نے نیتن یاہو کے لیے مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔
1. منصور عباس (اسرائیلی عرب سیاست دان)
اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) میں عرب پارٹی ‘رام’ (United Arab List) کے سربراہ منصور عباس کو اس سیاسی تبدیلی کا سب سے اہم مہرہ قرار دیا جا رہا ہے۔ پچھلے اتحادی معاہدوں اور اپوزیشن کے ساتھ ان کی سیاسی حکمت عملی نے نیتن یاہو کی اکثریت کو کمزور کرنے اور ان کی حکومت کو گرانے کی راہ ہموار کی۔
2. رجب طیب اردگان (صدرِ ترکی)
ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے بین الاقوامی اور سفارتی محاذ پر نیتن یاہو حکومت کو شدید دباؤ میں رکھا۔ غطہ اور فلسطین کے معاملے پر سخت عالمی موقف، تجارتی پابندیاں اور عالمی عدالتوں میں قانونی چارہ جوئی کے لیے تحرک نے نیتن یاہو کی عالمی تنہائی اور سیاسی تنزلی میں اہم کردار ادا کیا۔
3. محمد بن عبد الرحمٰن آل ثانی (وزیراعظم و وزیر خارجہ قطر)
قطر کے وزیراعظم اور سفارتی محاذ پر اہم ثالث کے طور پر ابھرنے والے شیخ محمد بن عبد الرحمن آل ثانی نے جنگ بندی کے مذاکرات اور بین الاقوامی سفارت کاری میں نیتن یاہو کی جنگی پالیسیوں کو ناکام بنانے اور ان پر اندرونی و بیرونی دباؤ بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان تینوں رہنماؤں کے الگ الگ محاذوں (اسرائیلی پارلیمنٹ، عالمی سفارت کاری، اور علاقائی مذاکرات) پر کیے گئے اقدامات نے نیتن یاہو کی سیاسی بقا کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے اور وہ اپنے اقتدار کی سب سے کمزور ترین پوزیشن پر پہنچ چکے ہیں۔