جب امریکی حملہ شروع ہوا تعریفیں کر رہے تھے،جرمن چانسلر کے رونے پر ایرانی وزیر خارجہ کا طنز

یورپ کو ہونے والا 100 ارب یورو کا معاشی نقصان اس بڑے دھچکے کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہوگا جو ایران کی مسلح افواج جوابی کارروائی میں پہنچا سکتی ہیں۔ایرانی وزیر خارجہ

October 31, 2026 · امت خاص
جب امریکی حملہ شروع ہوا تعریفیں کر رہے تھے،جرمن چانسلر کے رونے پر ایرانی وزیر خارجہ کا طنز

جب امریکی حملہ شروع ہوا تعریفیں کر رہے تھے،جرمن چانسلر کے رونے پر ایرانی وزیر خارجہ کا طنز

ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے جرمن چانسلر فریڈرک مرز کے یورپ کو توانائی کے بھاری اخراجات کا سامنا ہونے سے متعلق بیان پر طنزیہ ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے شروع ہوئے تھے تو جرمن قیادت ان کی تعریفیں کر رہی تھی، لیکن اب جنگ کے معاشی اثرات سامنے آنے پر پریشان دکھائی دے رہی ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے ساتھ جاری تنازع کے باعث گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران یورپ کو توانائی کے اضافی اخراجات کی مد میں 100 ارب یورو سے زیادہ کا بوجھ برداشت کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے اس صورتحال سے نکلنے کے لیے فوری سفارتی حل کی ضرورت پر زور دیا تھا۔

جرمن چانسلر کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر کہا کہ مرز کو یاد رکھنا چاہیے کہ انہوں نے 2025 میں ایران پر امریکا اور اسرائیل کے ابتدائی حملوں کی حمایت کی تھی۔ اس وقت جرمن چانسلر نے ان حملوں کو یورپ کا گندا کام کرنے کے مترادف قرار دیا تھا۔

عراقچی نے جرمن قیادت کے موجودہ مؤقف پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ جب حملے شروع ہوئے تو انہیں سراہا جا رہا تھا، لیکن اب جب ان کے معاشی نتائج یورپ تک پہنچے ہیں تو بھاری اخراجات پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے خبردار کیا کہ یورپ کو ہونے والا 100 ارب یورو کا معاشی نقصان اس بڑے دھچکے کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہوگا جو ایران کی مسلح افواج جوابی کارروائی میں پہنچا سکتی ہیں۔

انہوں نے اپنے بیان میں مزید واضح کیا کہ موجودہ تنازع میں ایران کے ردعمل کے حوالے سے پہلے سے طے شدہ سرخ لکیریں اب اسے محدود نہیں کرتیں۔ ان کے مطابق ایران اپنے خلاف ہونے والی کارروائیوں کا جواب دینے کے لیے پہلے سے زیادہ سخت مؤقف اختیار کر سکتا ہے۔

واضح رہے کہ ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی میں جوہری تنصیبات، میزائل نظام اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات سامنے آ چکے ہیں۔ اس تنازع کے اثرات اب صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہے بلکہ عالمی توانائی کی منڈی اور یورپی معیشت بھی اس کی زد میں آ رہی ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران جرمنی سمیت ان یورپی ممالک کو بھی اپنی تنقید کا نشانہ بنا رہا ہے جنہوں نے ایران کے خلاف ابتدائی فوجی کارروائیوں کی حمایت کی تھی۔