بلوچستان،غیر حاضر ڈاکٹروں کیخلاف کارروائی،مزید72 ڈاکٹرز ملازمت سے فارغ
تازہ کارروائی کے بعد برطرف کیے جانے والے سرکاری ملازمین کی مجموعی تعداد 200 ہو گئی ہے۔
بلوچستان،غیر حاضر ڈاکٹروں کیخلاف کارروائی،مزید72 ڈاکٹرز ملازمت سے فارغ
حکومت بلوچستان نے سرکاری اسپتالوں میں غیر حاضر رہنے والے ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی مزید تیز کر دی ہے۔ مصنوعی ذہانت پر مبنی حاضری کے نظام کے ذریعے مسلسل غیر حاضر رہنے والے مزید 72 ڈاکٹرز کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کے مطابق تازہ کارروائی کے بعد برطرف کیے جانے والے سرکاری ملازمین کی مجموعی تعداد 200 ہو گئی ہے۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ حاضری اور نظم و ضبط کی خلاف ورزیوں پر اب تک ملازمین کی تنخواہوں سے 41 کروڑ روپے کی کٹوتی کی جا چکی ہے، جبکہ 11 ہزار ملازمین سے وضاحت بھی طلب کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ مزید 800 سرکاری ملازمین کے خلاف محکمانہ کارروائی جاری ہے۔
حکومتِ بلوچستان نے پہلی بار محکمہ صحت میں اے آئی پر مبنی حاضری کا نظام متعارف کرایا ہے، جس کے نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ مسلسل غیر حاضر رہنے والے مزید 72 ڈاکٹرز کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے، جس کے بعد برطرف ملازمین کی مجموعی تعداد 200 ہو گئی ہے۔ حاضری اور نظم و ضبط کی… pic.twitter.com/gB7RPIHSwq
— Sarfraz Bugti (@PakSarfrazbugti) October 31, 2026
صوبائی حکومت کے مطابق محکمہ صحت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں برطرف کیے گئے 72 میڈیکل آفیسرز اور سینئر میڈیکل آفیسرز کے نام بھی شامل ہیں، جنہیں طویل عرصے تک غیر حاضر رہنے پر ملازمت سے فارغ کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے واضح کیا ہے کہ سرکاری ملازمین عوام کے خدمت گزار ہیں اور کسی کو بھی ڈیوٹی سے غیر حاضر رہ کر تنخواہ وصول کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔