امریکی صدر اور اسرائیلی وزیراعظم کا رابطہ۔ ایران کیخلاف نئی فوجی کارروائی پر اختلافات
اہم سفارتی رابطہ، حملے کے وقت پر اختلاف، مذاکرات کو موقع دینے پر زور
امریکی صدر اور اسرائیلی وزیراعظم کے درمیان ایران کی صورتحال پر ٹیلی فونک رابطہ
واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور ایران کے معاملے پر اہم ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے، جس میں ایرانی تال میل اور فوجی کارروائی کے حوالے سے بڑے اختلافات سامنے آئے ہیں۔ خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی صدر اور اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کے درمیان ہونے والی گفتگو میں ایران کے خلاف فوجی کارروائی میں ممکنہ اضافے اور سفارتی مذاکرات کے مستقبل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس کی رپورٹ کے مطابق، ایک امریکی اور ایک اسرائیلی عہدیدار نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ دونوں رہنماؤں نے ایران کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات اور ممکنہ فوجی اقدامات پر غور کیا۔ اسرائیلی عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر پر زور دیا کہ امریکا میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد ایران کے خلاف باقاعدہ حملے شروع کیے جائیں۔
اس کے برعکس، امریکی مؤقف اس کے بالکل برعکس نظر آیا۔ امریکی عہدیدار کے مطابق صدر ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ کسی بھی حتمی فوجی کارروائی کا فیصلہ کرنے سے قبل ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کو مزید آگے بڑھنے کا موقع فراہم کیا جانا چاہیے۔ میڈیا رپورٹس میں اس گفتگو کو دونوں اتحادیوں کے درمیان انتہائی پیچیدہ اور دوٹوک قرار دیا گیا ہے، جہاں اسرائیلی عہدیدار نے اس مکالمے کو ’سخت‘ جبکہ امریکی عہدیدار نے اسے ’’براہِ راست‘‘ کے الفاظ سے تعبیر کیا۔
رپورٹس کے مطابق مشرق وسطیٰ کی جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث امریکا میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی کی لہر کی وجہ سے صدر ٹرمپ کو اندرونی سیاسی دباؤ کا بھی سامنا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ آنے والے 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں امریکی ووٹرز اس معاشی دباؤ اور پالیسیوں پر اپنے ردعمل کا اظہار کر سکتے ہیں۔ تاحال وائٹ ہاؤس یا اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے اس اعلیٰ سطحی رابطے کی تفصیلات پر کوئی باضابطہ تردید یا تصدیق جاری نہیں کی گئی ہے۔