ٹرمپ کی رہائش کے قریب طیارہ فضائی دفاعی نظام نے گرایا؟
جیٹ سینکڑوں فٹ فی سیکنڈ کی رفتار سے نیچے گر رہا تھا
تصویر : سوشل میڈیا
امریکی صدر کی فلوریڈامیں رہائش کے قریب تباہ ہونے والا طیارہ موسمیاتی صورت حال کے باعث حا دثے کا شکار ہوکر گرا ۔اس حوالے سے فضائی دفاعی نظام کے استعمال کی کوئی تصدیق یا دعویٰ سامنے نہیں آیا۔
نجی جیٹ طیارہ اتوار کے روز فلوریڈا کے ایک رہائشی علاقے میں گر کر تباہ ہوا جس کے نتیجے میں طیارے میں سوار تمام نو افراد ہلاک ہو گئے۔یہ حادثہ کریسٹ ہیون کے قریب پیش آیا، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نجی کلب مار اے لاگو سے تقریباً 14 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ٹرمپ اس روز مار اے لاگو میں موجود تھے اور حادثے سے تقریباً ایک گھنٹہ قبل قریبی ہوائی اڈے سے ایئر فورس ون کے ذریعے روانہ ہو گئے تھے۔
ویڈیو کلپس میں دکھایا گیا کہ طیارہ آسمان سے تیزی کے ساتھ نیچے آتا ہے، پھر زمین سے ٹکراتا ہے اور اس میں آگ بھڑک اٹھتی ہے، جس سے دھوئیں کے گھنے بادل اٹھنے لگے۔ ہنگامی ٹیمیں حادثے کی جگہ پر پہنچ گئیں اور حکام نے امدادی کارروائیوں میں سہولت کے لیے ارد گرد کی سڑکیں بند کر دیں۔
واز کے ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق طیارہ ٹریکنگ ڈیٹا منقطع ہونے سے پہلے ایک منٹ کے اندر تقریباً 27 ہزار فٹ کی بلندی کھو بیٹھا۔پروازوں کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ فلائٹ ریڈار 24 کے مطابق طیارے کے عمودی طور پر نیچے آنے کی رفتار ایک موقع پر 32 ہزار فٹ فی منٹ سے بھی تجاوز کرگئی تھی۔
امریکی نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ نے حادثے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ حادثے کی تصاویر میں رہائشی علاقے کی ایک سڑک پر بننے والا گڑھا دیکھا جا سکتا ہے، جگہ جگہ آگ کے شعلے بھڑک رہے ہیں اور لیئرجیٹ 60 ماڈل کے طیارے کا ملبہ بکھرا ہوا ہے۔
امریکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس اور پرواز کے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ حادثے سے قبل جیٹ طیارہ سینکڑوں فٹ فی سیکنڈ کی رفتار سے نیچے گر رہا تھا۔ایئر ٹریفک کنٹرول کے پاس ریکارڈ کی گئی ایک آڈیو میں کسی شخص کو یہ اطلاع دیتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ وہ ’درمیانی شدت کے ہچکولے‘ محسوس کر رہے ہیں اور ان کا عملہ ’برفانی صورتحال‘ سے نمٹ رہا ہے۔اس کے بعد اسی شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ طیارہ ’برف باری کی زد میں آ رہا ہے‘ اور ’ہمیں مزید بلندی پر جانے کی ضرورت ہے۔
چند لمحے بعد اسی آواز نے بتایا کہ طیارہ فی منٹ10 ہزارفٹ کی رفتار سے نیچے جا رہا ہے۔عملے کے ایک رکن نے ہنگامی صورتحال کا اعلان کرتے ہوئے چیخ کر کہا کہ ہم حدِ رفتار سے تجاوز کرنے کی حالت میں ہیں اور فی منٹ20 ہزارفٹ کی رفتار سے نیچے جا رہے ہیں۔’ پھر اسی آواز نے کہا کہ ہم زمین سے جا ٹکرائیں گے۔
پہلی مے ڈے کال کے تقریباً 35 سیکنڈ بعد کاک پٹ سے آخری جملہ یہ سنائی دیا:ہمارا وقت ختم ہو گیا ہے۔
ایک غیر مصدقہ ویڈیو، جو بظاہر گاڑی کے ڈیش کیمرے سے ریکارڈ کی گئی تھی، وہ لمحہ دکھاتی ہے جب حادثہ ہوا۔اس میں رہائشی علاقے کی سڑک پر چلتی گاڑیاں نظر آتی ہیں، پھر اچانک ایک طیارہ تقریباً عمودی زاویے سے زمین کی طرف گرتا ہے اور دھماکے کے بعد آگ لگ جاتی ہے۔انھوں نے کہاکہ یہ بالکل ایسے لگتا ہے جیسے کوئی میزائل نیچے آ رہا ہو، پھر ایک زبردست دھماکہ ہوتا ہے اور ملبہ ہر طرف بکھر جاتا ہے۔
پام بیچ کاؤنٹی شیرف آفس نے کہا کہ حادثہ ملٹری ٹریل پر پیش آیا، جو چھ رویہ سڑک ہے اور جس کے اطراف کاروباری مراکز اور کھانے پینے کی جگہیں موجود ہیں۔حادثے کے وقت علاقے میں گرج چمک کے ساتھ طوفانی بارش کی اطلاعات تھیں، اور پریس کانفرنس کے دوران بھی شدید بارش ہو رہی تھی۔
پروں اور دیگر حصوں پر برف کا جمنا نجی طیاروںکے لیے بھی ایک بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔ جنوری 2024 میںپرواز کے دوران برف جمنے کے حالات سے جڑے خطرات کو اجاگر کرتے ہوئے ایک حفاظتی الرٹ جاری کیا گیاتھا، جو پائلٹوں کے کنٹرول کھونے کا سبب بن سکتے ہیں۔حکا نے خبردار کیا تھا کہ برف طیارے کے پرواز کے راستے اور رفتار کو سنبھالنا مزید مشکل بنا سکتی ہے اور طیارے کو ایک ہی سطح پر سیدھا اڑنے سے روک سکتی ہے۔