مفتی محمود مرکز کیلئے مولانا نے لیبیا سے فراڈ کے نام پر پیسے لیے، ثمر بلور

مرکز کے لیے تقریباً 79 کنال اراضی 2003 میں خریدی گئی تھی، لیبیا سے رقم فراہم کی گئی

November 3, 2026 · امت خاص
مفتی محمود مرکز کیلئے مولانا نے لیبیا سے فراڈ کے نام پر پیسے لیے، ثمر بلور

مفتی محمود مرکز کیلئے مولانا نے لیبیا سے فراڈ کے نام پر پیسے لیے، ثمر بلور

پشاور: مسلم لیگ (ن) کی رکن قومی اسمبلی اور خیبرپختونخوا کی مشیر اطلاعات ثمر ہارون بلور نے الزام عائد کیا ہے کہ مفتی محمود مرکز کی تعمیر کے لیے مولانا فضل الرحمان نے لیبیا سے فراڈ کے نام پر پیسے حاصل کیے۔

ثمر ہارون بلور نے مفتی محمود مرکز سے متعلق اہم دستاویزات شیئر کرتے ہوئے کہا کہ پشاور رنگ روڈ پر قائم اس مرکز کی تعمیر، زمین کی خریداری اور مالی معاونت سے متعلق تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔

دستاویزات کے مطابق مرکز کے لیے تقریباً 79 کنال اراضی 2003 میں خریدی گئی تھی۔ ثمر ہارون بلور کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کے مطابق مرکز کی تعمیر کے لیے لیبیا سے رقم فراہم کی گئی، تاہم جائیداد کی ملکیت مولانا فضل الرحمان کے نام سامنے آنے کا معاملہ بھی وضاحت طلب ہے۔

ثمر ہارون بلور کی شیئر کردہ تفصیلات کے مطابق مرکز کے گرد قائم دھاتی حصار پشاور رنگ روڈ کے 52 فٹ سیٹ بیک ایریا میں واقع ہے، جو مبینہ طور پر سرکاری رائٹ آف وے کی اراضی پر تجاوزات کے زمرے میں آتا ہے۔

پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی، ضلعی انتظامیہ، کیپیٹل میٹروپولیٹن گورنمنٹ اور پختونخوا ہائی ویز اتھارٹی کے مشترکہ تکنیکی سروے اور سرکاری ریکارڈ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ مرکز کی بیرونی حدود، باؤنڈری وال اور سیکیورٹی تنصیبات مقررہ سرکاری حدود سے آگے تعمیر کی گئی ہیں۔

دستاویزات کے مطابق 27 اکتوبر 2019 کو مرکز کی انتظامیہ کو حتمی شوکاز اور انہدامی نوٹس جاری کیا گیا تھا، جس میں تین روز کے اندر مبینہ 52 فٹ تجاوزات ختم کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ بعد ازاں مئی 2026 میں بھی مرکز کی انتظامیہ کو تجاوزات کے حوالے سے نوٹس جاری کیا گیا۔

یہ معاملہ پشاور میں رنگ روڈ کے اطراف تجاوزات کے خلاف جاری آپریشن کے دوران سامنے آیا ہے، جہاں سرکاری اراضی واگزار کرانے کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔