پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے رہنما روپوش
کوئی رکن اسمبلی میڈیا سے بات کرنے پر تیار نہیں, واٹس ایپ پر گنڈا پور گروپ کے باہمی رابطے- اسد قیصر اور بیرسٹر گوہر کے ہمنوا ارکان کا بائیکاٹ کر رکھا ہے, ذرائع
فائل فوٹو
محمد قاسم :
صوبہ خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی کے ایم پی ایز اور اہم رہنما روپوش ہوگئے۔ اکثریت نے اپنے موبائل فون بند کر دیئے ہیں اور قریبی رشتہ داروں اور دوستوں کے ساتھ صرف اور صرف واٹس ایپ کے ذر یعے رابطہ کر رہے ہیں اور اس کے بعد ان کے واٹس ایپ نمبر بھی بند ہو جاتے ہیں۔ ان دوستوں کے ذریعے رابطے کرنے پر بھی میڈیا سے بات کرنے سے گریزاں ہیں۔
اس حوالے سے ’’امت‘‘ نے پانچ روز مسلسل پی ٹی آئی کے اہم ایم پی ایز جو پارلیمانی پارٹی میں شامل ہونے کے ساتھ ساتھ پی ٹی آئی کی مستقبل کی حکومت میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، نے باوجود رابطوں کے اظہار خیال کرنے سے گریز کیا۔ جبکہ مردان سے تعلق رکھنے والے ایک اہم رہنما نے ابتدا میں ہی ’’امت‘‘ کو بتا دیا تھا کہ پی ٹی آئی کے ایم پی ایز اس لئے رابطے کرنے سے گریز کر رہے ہیں کہ انہیں گرفتاری کا خوف ہے۔ پھر یہ کہ پارٹی کے کارکن بھی ان کی زندگی اجیرن کر دیں گے اور مستقبل میں ٹکٹ نہ ملنے کا امکان بھی بڑھ جائے گا۔
’’امت‘‘ نے سب سے پہلے سابق وزیراعلیٰ اور صوبائی پارلیمانی پارٹی کی جانب سے وفاق میں مذاکرات کیلئے نمائندگی کیلئے مقرر کرنے والے علی امین گنڈا پور کے ساتھ رابطہ کیا۔ ان کے موبائل فون بند جارہے تھے۔ انٹرویو اور بات چیت کیلئے ان کے واٹس ایپ پر تحریری پیغام بجھوایا، تاہم چار دن گزرنے کے بعد بھی انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اس کے بعد ان کے ایک قریبی ساتھی جو اسلام آباد میں مقیم ہیں، کے ذریعے فیصل امین گنڈا پور کو پیغامات بجھوائے کہ علی امین کے ساتھ رابطہ ممکن بنائیں۔ تاہم انہوں نے بتایا کہ وہ ہاؤس اریسٹ ہیں، اس لئے انٹرویو نہیں دے سکتے۔ تاہم جب ان سے یہ کہا گیا کہ وہ قومی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے اٹھ کر چلے گئے تھے، اس حوالے سے وہ اگر بات چیت کرنا چاہیں تو علی امین کے بجائے وہ بات چیت کر سکتے ہیں۔ تاہم انہوں نے بھی دو دن گزرنے کے باوجود کوئی جواب نہیں دیا اور اپنے قریبی ساتھی کو وائس پیغام بھیجا کہ فی الحال ان کے اور علی امین کیلئے بات چیت کرنے کا ماحول نہیں۔
اس کے بعد پی ٹی آئی کے رکن صوبائی اسمبلی انور خان ایڈووکیٹ سے رابطے کی کوشش کی گئی۔ لیکن ان کا موبائل بھی بند جارہا تھا۔ انہیں بھی دو بار وائس میسیج واٹس ایپ پر چھوڑے گئے۔ لیکن میسج پڑھنے اور سننے کے باوجود انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ واٹس ایپ کال بھی نہیں اٹھائی۔
’’امت‘‘ نے پشاور سے وزارت اعلیٰ کیلئے امیدوار اور سابق وزیر سید قاسم علی شاہ کے ساتھ بھی رابطے کی کوشش کی، لیکن انہوں نے بھی واٹس ایپ کال نہیں اٹھائی اور نہ وائس میسیج کا کوئی جواب دیا۔ ان کے ایک قریبی ساتھی جو اس وقت سے ان کے ساتھ ہیں، کے ذریعے ان سے رابطے کی کوشش کی گئی تو اس ساتھی کا کہنا تھا کہ ان کا بھی دو ہفتوں سے شاہ صاحب سے رابطہ نہیں۔ اور اگر آپ مزید کوشش بھی کریں تو وہ بات نہیں کریں گے۔
ادھر ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے صوبائی اراکین اسمبلی ایک دوسرے کے ساتھ صرف واٹس ایپ کے ذریعے رابطے کر رہے ہیں اور مختلف گروپس بھی بنا رکھے ہیں۔ ان گروپس میں ان ایم پی ایز کو شامل نہیں کیا گیا، جن کا تعلق اسد قیصر، بیرسٹر گوہر یا سہیل آفریدی گروپ سے ہے۔ بلکہ سہیل آفریدی گروپ کے کئی لوگوں نے علی امین گروپ اور چارسدہ کے گروپ سے رابطے کیے ہیں کہ انہیں سہیل آفریدی کے ساتھ نتھی نہ کیا جائے۔
ذرائع کے مطابق صوبائی پارلیمانی پارٹی میں شامل بہت سے ایم پی ایز اور سابق وزرا اپنے اختلافات ختم کر کے ہر قیمت پر صوبائی حکومت کی بحالی چاہتے ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ مستقبل میں ان کیلئے جگہ موجود ہو۔ ذرائع کے مطابق پشاور سمیت بڑے شہروں کے ایم پی ایز کو دیہات میں پہنچا دیا گیا ہے، تاکہ ان کی گرفتاری نہ ہو سکے۔ جبکہ بعض ایم پی ایز جو پہلے سے اداروں کے ساتھ رابطے میں تھے، انہوں نے اوپر کی ہدایات پر اپنے آپ کو منظر سے ہٹا دیا ہے تاکہ ان کے لئے بھی مستقبل میں کوئی مسئلہ نہ ہو۔
بعض ذرائع کے مطابق کچھ ایم پی ایز کو پرویز خٹک اور کچھ ایم پی ایز کو سابق وزیراعلیٰ محمود خان نے مبینہ طور پر پناہ فراہم کی ہے اور انہیں محفوظ مقامات پر پہنچا دیا ہے اور بوقت ضرورت انہیں منظر عام پر آنے کے لئے کہا جائے گا۔
پی ٹی آئی کے اہم ذرائع جن کا تعلق پشاور سے ہے، نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان عوامل کی وجہ سے پی ٹی آئی کے ایم پی ایز محفوظ راستہ اختیار کر رہے ہیں کہ وہ نہ تو مقتدر حلقوں کی نظر میں آئیں اور نہ ہی وہ عمران خان سے بیوفائی کے مرتکب ٹھہرائے جائیں اور نہ ہی مقامی کارکنوں سے ان کے اختلافات پیدا ہوں۔ ان تین عوامل اور ذاتی مفادات کی وجہ سے میڈیا سے بات چیت کرنے سے گریز کیا جارہا ہے۔