انتخابات میں شکست کے بعد ٹرمپ جنگ کریں گے یا سمجھوتہ

امریکی صدر اپنی خفت مٹانے کیلیے ایران پر بڑا حملہ کرسکتے ہیں- ٹرمپ کے پاس اب کھونے کو کچھ نہیں- ٹرمپ اور نیتن یاہو اپنی ڈوبتی سیاست کو بچانے کیلئے کچھ بھی کرسکتے ہیں، رپورٹ

November 6, 2026 · امت خاص
فائل فوٹو

فائل فوٹو

امت رپورٹ:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران میں حکومت کی تبدیلی کے ارادے سے جنگ کی طرف بڑھے۔ لیکن اس کے برعکس، خود واشنگٹن پر ان کی اپنی گرفت کمزور ہو گئی، کیونکہ جنگ سے بیزار اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے پریشان ووٹروں نے کانگریس کا کنٹرول ڈیموکریٹس کے حوالے کر دیا۔ اس صورتحال نے ایک کمزور صدر کو مذاکرات کے ذریعے نکلنے کے راستے یا ایک زیادہ خطرناک جنگی حکمت عملی کے درمیان کسی ایک کے انتخاب کے مخمصے میں پھنسا دیا ہے۔

تہران اور اس کے اتحادیوں نے امریکی الیکشن کے نتائج کو اس جنگ کا فیصلہ قرار دیا، جو ان پر تھوپی گئی تھی۔ دوسری طرف، خلیجی ممالک کے حکام اس سوچ میں پڑ گئے کہ اب ٹرمپ کس طرف کا رخ کریں گے۔ ایک امریکی خلیجی اتحادی کے قریبی ذرائع کا پہلا ردعمل تھا ’’ایران نے امریکہ میں حکومت بدلنے میں کامیابی حاصل کر لی‘‘۔ ذرائع کے مطابق منگل کو ہونے والے امریکی مڈ ٹرم انتخابات میں ڈیموکریٹس کی اس بڑی کامیابی پر خلیجی ممالک کے حکام حیرت زدہ اور خاموش ہیں۔

اٹھائیس فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے شروع ہونے والی یہ جنگ پورے خطے میں پھیل گئی، کیونکہ تہران نے خلیجی اہداف اور آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر میزائل اور ڈرون داغے، جس سے عالمی توانائی کی سپلائی درہم برہم ہو گئی۔ امریکہ اور اسرائیل کی اس مہم نے ایران کی فوجی صلاحیتوں کو شدید نقصان تو پہنچایا، لیکن وہ کوئی فیصلہ کن نتیجہ حاصل کرنے میں ناکام رہی، جس کی وجہ سے ایران کے جوہری پروگرام کا مسئلہ اب بھی حل طلب ہے۔

خلیجی حکومتی حلقوں کے قریبی دو ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک کمزور ٹرمپ کے پاس، جنہیں اب ایک ایسی ڈیموکریٹک کانگریس کا سامنا ہے جو ان کے فوجی اختیارات کو محدود کر سکتی ہے، اب کسی معاہدے کی طرف جانے کا راستہ ہی بچا ہے۔ لہذا اب ایران پر بڑے پیمانے پر حملے کا امکان کم نظر آتا ہے۔ تاہم جوہری تنصیبات پر چند مزید محدود حملے امریکہ کو یہ دعویٰ کرنے کا موقع فراہم کر سکتے ہیں کہ اس کے اہداف پورے ہو چکے ہیں اور وہ اس تنازع کو ختم کر دے۔ جبکہ چین ایک تصفیہ کرانے کے لیے اپنی کوششیں تیز کر رہا ہے۔ لیکن خلیجی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایک ایسا معاہدہ جو ایران کو واضح فتح کا دعویٰ کرنے کا موقع دے اور ٹرمپ کو شکست خوردہ دکھائے، ایسے میں اپنی خفت کو مٹانے کے لیے ٹرمپ کوئی غیر متوقع اور بڑا قدم بھی اٹھا سکتے ہیں۔

اسی نوعیت کی بات مڈ ٹرم الیکشن سے چند روز پہلے ایگزیوس کے رپورٹر براک ریوڈ نے ایک امریکی اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے کہی تھی۔ جس میں ان کا کہنا تھا ’’ایک امریکی عہدیدار کے مطابق اگر وسط مدتی انتخابات میں ری پبلکن کو بڑی شکست ہوتی ہے، تو ٹرمپ شرمندگی اور جھنجھلاہٹ میں ایران کے خلاف کوئی بڑا فوجی آپریشن کرسکتے ہیں‘‘۔

پہلے اسرائیلی عوام نے الیکشن میں نیتن یاہو کی پارٹی کو ووٹ نہ دے کر غصے کا اظہار کیا، اور اس کے ٹھیک ایک ہفتے بعد امریکی عوام نے بھی اپنے صدر کو بڑا جھٹکا دے دیا۔ یہ دونوں لیڈر اس وقت سخت سیاسی مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں۔ ان دونوں کا سیاسی مستقبل اب اس بات پر ٹکا ہوا ہے کہ جنگ کا نتیجہ کیا نکلتا ہے۔

رائٹر کا کہنا ہے کہ اپنی ڈوبتی ہوئی سیاست اور کرسی بچانے کے لیے، یہ دونوں رہنما اب جنگ کو روکنے کے بجائے اسے مزید بڑھانے کا سوچ سکتے ہیں۔ وہ یہ سمجھ سکتے ہیں کہ جنگ جتنی بڑی ہوگی، ان کی سیاست اتنی ہی محفوظ رہے گی۔ یہ سوچ بالکل غلط اور پاگل پن پر مبنی ہو سکتی ہے۔ لیکن دنیا کے لیے یہ انتہائی خطرناک ہے۔

ابوظہبی میں ایمریٹس پالیسی سینٹر کی صدر ابتسام الکتبی نے کہا ’’امریکی انتخابی نتائج ٹرمپ کے لیے ایک تصفیے کو مزید ضروری بنا دیتے ہیں، لیکن ایران کے لیے اسے آسان نہیں بناتے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ بہت کچھ اس بات پر منحصر ہے کہ تہران اس وقت کو کس طرح سمجھتا ہے‘‘۔ اگر تہران یہ تسلیم کر لیتا ہے کہ ٹرمپ کو ایک ایسی ڈیل کی ضرورت ہے، جو انہیں فیس سیونگ دیدے، تو جنگ کو ختم کرنے کا ایک حقیقی موقع پیدا ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر تہران، ان نتائج کو اس ثبوت کے طور پر دیکھتا ہے کہ امریکی عزم کمزور پڑ گیا ہے، تو یہ اس کے بجائے انہیں ایک نئی فوجی کشیدگی شروع کرنے پر اکسا سکتا ہے‘‘۔

الکتبی نے کہا کہ خلیجی ممالک چاہتے ہیں کہ یہ الیکشن جنگ کے خاتمے کا راستہ کھولے، لیکن کسی قیمت پر نہیں۔ کوئی بھی ایسا تصفیہ جو آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی کی آزادی کو نظر انداز کرتا ہے، ایران کو بحری جہازوں پر ٹول ٹیکس یا سیاسی شرائط عائد کرنے کی اجازت دیتا ہے، یا خلیجی ممالک کو فوجی خطرات کے سامنے بے یار و مددگار چھوڑ دیتا ہے، ایک عارضی انتظام ہوگا جو ایک اور بحران کی بنیاد رکھے گا۔

تہران میں رہنماؤں نے ٹرمپ کی خفت کا لطف اٹھایا، لیکن اپنی چوکسی کم نہیں کی۔ دو سینئر ایرانی ذرائع نے بتایا کہ تہران ہائی الرٹ پر ہے، کیونکہ اسے خدشہ ہے کہ ٹرمپ اپنی شکست کا بدلہ لینے کے لیے فوجی حملہ کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ دوسری جانب سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کے معاملے پر اپنے مطالبات کو نرم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔

سعودی عرب میں قائم گلف ریسرچ سینٹر کے چیئرمین عبدالعزیز صقر نے خبردار کیا کہ شکست ٹرمپ کو حملہ کرنے پر آمادہ کرنے کی وجہ بن سکتی ہے، نہ کہ اس سے باز رکھنے کی۔ چونکہ مڈ ٹرم الیکشن اب گزر چکے ہیں اور ان کے پاس تیسری مدتِ صدارت کا کوئی موقع نہیں ہے، اس لیے انتخابی مصلحتیں جو کبھی تحمل کا باعث بنتی تھیں، اب ختم ہو چکی ہیں۔ یہ صورتحال ایک ایسے صدر کو پیچھے چھوڑتی ہے، جس کے پاس کھونے کے لیے بہت کم ہے اور وہ اپنے تئیں اپنا نام تاریخ میں محفوظ رکھنا چاہتا ہے۔
دوسری جانب لبنانی سیاسی مبصر سرکیس نعوم نے کہا کہ ٹرمپ کی شکست نے ایران کے معاملے پر ان کی گرفت کو کمزور کر دیا ہے، جس سے مذاکرات کی میز پر ان کا اثر و رسوخ کم ہو گیا ہے اور معاہدہ حاصل کرنے کے لیے ان کے پاس متبادل بھی کم رہ گئے ہیں۔ جبکہ ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ کے ایک عہدیدار نے کہا کہ جنگ کا خطرہ لازمی طور پر ختم نہیں ہوا اور ’’لاپرواہ اقدامات‘‘ کا امکان اب بھی برقرار ہے۔ اس وقت کشیدگی بڑھنے اور کم ہونے کے امکانات برابر ہو سکتے ہیں۔

جنوری میں کانگریس میں اپنی نشستیں سنبھالنے کے بعد، ڈیموکریٹس سے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ ٹرمپ کی انتظامیہ، ان کے خاندان اور اتحادیوں کے خلاف تحقیقات کے لیے اپنے اختیارات کا استعمال کریں گے اور اہم قانون سازی پر مراعات کا مطالبہ کریں گے۔
واشنگٹن میں ہونے والی یہ سیاسی تبدیلی، خلیج میں امریکی اتحادیوں کے لیے ایسے خطرات کا باعث بن سکتی ہے جو خود جنگ کے دائرہ کار سے کہیں زیادہ وسیع ہیں۔

حکومتی سوچ سے قریبی تعلق رکھنے والے ایک ذریعے نے بتایا کہ خلیجی ممالک ان تحقیقات کے حوالے سے محتاط ہیں، جو ان کے خیال میں ان کے اپنے اداروں کی جانب سے ٹرمپ خاندان کے ساتھ کیے جانے والے کاروباری معاملات کے خلاف شروع کی جا سکتی ہیں۔