کراچی: منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار ملزم انور مجید کو قومی ادارہ برائے امراض قلب سے جیل منتقل کر دیا گیا۔
میڈیکل رپورٹ کی روشنی میں منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار ملزم انور مجید کو بدھ کی رات پولیس کی سخت سیکورٹی میں قومی ادارہ برائے امراض قلب سے کراچی کی لانڈھی جیل منتقل کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق انور مجید کئی ہفتوں سے عارضہ قلب کی وجہ قومی ادارہ برائے امراض قلب میں زیر علاج تھے اور اس دوران ان کے کئی ٹیسٹ بھی کیے گئے تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی ادارہ برائے امراض قلب کے پروفیسر پرویز چوہدری نے انور مجید کو بائی پاس سرجری کا مشورہ دیا تھا تاہم سرجن جنرل آف پاکستان کی رپورٹ کے بعد انور مجید کو لانڈھی جیل منتقل کر دیا گیا۔
دوسری جانب منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار دوسرے ملزم عبدالغنی مجید کو میڈیکل چیک کے لئے بدھ کو جناح اسپتال لایا گیا جہاں وہ تین گھنٹے سے زائد رہے جس کے بعد انہیں بھی واپس لانڈھی جیل منتقل کیا گیا۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے منی لانڈرنگ کیس کے ملزمان انور مجید اور عبدالغنی مجید کے طبی معائنے کے لیے سرجن جنرل پاکستان کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی تھی۔منی لانڈرنگ کیس: انورمجید اوراے جی مجید کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا
واضح رہے کہ منی لانڈرنگ کیس میں اومنی گروپ کے سربراہ اور آصف زرداری کے قریبی ساتھی انور مجید اور ان کے صاحبزادے عبدالغنی مجید کو سپریم کورٹ سے گرفتار کیا گیا تھا جب کہ آصف زرداری کے ایک اور قریبی ساتھی نجی بینک کے سربراہ حسین لوائی بھی منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار ہیں۔
اسی کیس میں ایک جے آئی ٹی بھی تشکیل دی جاچکی ہے جس میں سابق صدر آصف زرداری اور فریال تالپور پیش ہوچکے ہیں۔