چینی کے بحران پر بنائے گئے تحقیقاتی کمیشن نے وفاقی وزیرمنصوبہ بندی اسد عمر کو آج طلب کرلیا ہے, یادرہے کہ اسد عمر نے شاہد خاقان عباسی کے مطالبے پر کہا تھا کہ کمیشن سے درخواست ہے کہ مجھے ضرور بلایا جائے، اگر سوال ہے تو مجھ سے پوچھا جائے، وزیراعظم سے نہیں اوراب کمیشن نے بلا لیا۔
نجی ٹی وی کے مطابق ایف آئی اے کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ چینی بحران کے لیے ایف آئی اے کے تشکیل کیے گئے تحقیقاتی کمیشن نے اسد عمر کو آج صبح طلب کیا ہے اور انہوں نے بھی کمیشن کے سامنے پیش ہونے پر آمادگی ظاہر کردی ہے۔
شاہد خاقان نے مطالبہ کیا ہے کے مجھے اور وزیراعظم کو چینی کے والا کمیشن، ایکسپورٹ کی اجازت کے فیصلے کے بارے میں پوچھ گچھ کے لئے بلایے. کابینہ نے یہ فیصلہ ecc کی سفارش پر کیا تھا. اگر سوال ہے تو مجھ سے پوچھا جائے، وزیراعظم سے نہیں. کمیشن سے درخواست ہے کے مجھے ظرور بلایا جائے
— Asad Umar (@Asad_Umar) May 11, 2020
اس سے قبل وفاقی وزیرنے بیان دیا تھا کہ چینی تحقیقاتی کمیشن وزیراعظم عمران خان کو نہیں لیکن مجھے ضرور بلائے۔ انہوں نے ٹوئٹ میں کہا تھا کہ نون لیگ کے رہنما شاہد خاقان نے مطالبہ کیا ہے کہ مجھے اور وزیراعظم عمران خان کو چینی کی قیمتوں میں اضافے کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کے سامنے بلاکر چینی برآمد کرنے کی اجازت کے فیصلے کے بارے میں پوچھ گچھ کرنی چاہیے۔
اسد عمر کا کہنا تھا کہ کابینہ نے یہ فیصلہ اقتصادی رابطہ کمیٹی کی سفارش پر کیا تھا، اگر کوئی سوال ہے تو وزیراعظم سے نہیں بلکہ مجھ سے پوچھا جائے، کمیشن سے درخواست ہے کہ مجھے ضرور بلائے۔
سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے اور چیئرمین انکوائری کمیشن واجد ضیا کو خط لکھ کر آٹا اور چینی بحران کی تحقیقات میں مکمل تعاون و معاونت کی پیش کش کی تھی جسے قبول کرتے ہوئے کمیشن نے انہیں بلایا تھا۔
شاہد خاقان عباسی اور خرم دستگیر تین روز قبل انکوائری کمیشن کے سامنے پیش ہوئے تھے جس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا چینی کی قیمتیں ای سی سی اور کابینہ کی وجہ سے بڑھیں جس کی ذمے دار حکومت ہے، ہم نے کمیشن سے کہا ہے کہ وزیراعظم، ای سی سی اور کابینہ کے ممبران کو بلا کرپوچھا جائے کہ ایکسپورٹ کو روکا کیوں نہیں گیا۔