کراچی ایئر پورٹ کے قریب پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن کا طیارہ آبادی پرگرکر تباہ ہو گیاجس کے نتیجے میں97سے زائد افراد جاں بحق ہو گئے54لاشیں ہسپتال منتقل کردی گئیں۔ جہاز میں 91مسافر اورعملے کے8ارکان سمیت 99افراد سوار تھے، سیکیورٹی اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔
وزیر ہوابازی غلام سرورخان نے 90سے زائد افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کردی ہے
پی آئی اے کی لاہور سے کراچی جانے والی پرواز 8303 کو حادثہ ماڈل کالونی کے علاقے میں پیش آیا، سول ایوی ایشن کی جانب سے ایمرجنسی نافذ کردی گئی، کورونا کے باعث مسافروں کی تعداد زیادہ نہیں تھی۔ حادثے کی جگہ سے 19لاشوں کو نکال لیا گیا جن میں 6 خواتین،دو بچے اوردیگرافراد شامل ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ طیارہ گرنے سے قبل قریب موجود رہائشی عمارتوں کی چھتوں سے ٹکرایا جس سے کئی گھروں کو بھی نقصان پہنچا اورگھروں کی چھتوں پر بھی آگ لگ گئی جبکہ طیارہ گرنے کے بعد علاقے میں کھڑی گاڑیوں کو آگ لگ گئی۔
جائے حادثہ پر ریسکیو آپریشن جاری ہے اور جہاز کے ملبے سے ایک 5 سالہ بچے اور ایک شخص کی لاش نکال لی گئی ہے جب کہ رش کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
صوبائی وزیر صحت نے طیارہ حادثے کے بعد کراچی کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی اور ہدایت کی ہےکہ زخمیوں کے علاج میں کسی قسم کی تاخیرنہ کی جائے۔
حادثے کا شکار پروازعید کی مناسبت سے خصوصی طور پر چلائی گئی تھی۔ پرواز نے دوپہر ایک بج کر 10 منٹ پر اڑان بھری تھی اور اپنے مقررہ وقت پر کراچی پہنچ گئی تھی تاہم لینڈنگ سے ایک منٹ قبل پرواز کا کنٹرول روم سے رابطہ منقطع ہوگیا۔
طیارہ کا 2 بجکر37 منٹ پر تباہ ہوا
سول ایوی ایشن ذرائع کے مطابق طیارے کا 2 بجکر37 منٹ پر ایئر کنٹرول کے ریڈار سے رابطہ منقطع ہوا اور بعد ازاں کپتان سجاد گل نے ایئر کنٹرول ٹاور کو طیارے کے لینڈنگ گیئر میں خرابی کے بارے میں آگاہ کیا۔
ترجمان پی آئی اے عبداللہ نے جہاز گرنے کی تصدیق کر دی۔ انہوں نے کہا حادثے کا شکار طیارہ پی آئی اے کا تھا، ابھی مزید تفصیلات حاصل کر رہے ہیں، ابھی حتمی طور پر کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا، جہاز میں عملے کے 9 افراد سوار تھے۔
ترجمان پی آئی اے کے مطابق پی آئی اے کا ایمرجنسی کال سینٹر فعال کردیا گیا اور پی آئی اے کے آپریشنل ملازمین کو ڈیوٹی پر طلب کرلیا گیا ہے جب کہ جیسے جیسے معلومات آئیں گی میڈیا کے ساتھ شیئر کی جائیں گی۔
ذرائع سول ایوی ایشن کے مطابق سول ایوی ایشن نے کراچی میں طیارہ حادثہ کے بعد فضائی آپریشن بند کردیا، پی آئی اے نے مختلف شہروں لاہور،اسلام آباد، پشاور اور کوئٹہ سے فضائی آپریشن روک دیا۔
ذرائع کے مطابق طیارہ فنی خرابی کا شکار ہوا اور لینڈنگ سے کچھ دیر پہلے طیارے کے ٹائر نہیں کھل رہے تھے جب کہ طیارے کے پائلٹ نے ٹریفک کنٹرول کو ’مے ڈے‘ کال بھی دی تھی۔
پائلٹ اور ٹریفک کنٹرول ٹاور کے درمیان آخری رابطے کی آڈیو ریکارڈنگ بھی سامنے آئی جس میں پائلٹ نے ایک انجن فیل ہونے کی اطلاع دی اور بعد ازاں ’مے ڈے‘ کال دی جس پر کنٹرول ٹاور سے بتایا گیا کہ طیارے کی لینڈنگ کے لیے دو رن وے دستیاب ہیں تاہم طیارے سے دوبارہ رابطہ نہ ہوسکا۔
عملے میں سجاد گل، عثمان اعظم، فرید احمد، عبدالقیوم، ملک عرفان، مدیحہ اکرام، آمنہ عرفان اور عاصمہ شہزادی شامل ہیں۔ حادثے میں 10 سے زائد رہائشی افراد کو زندہ نکال لیا گیا، مشینری، فائر بریگیڈ اور رضا کار امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔
@Official_PIA flight coming from #Lahore crashes near #Karachi airport in Model colony area. Casualties reported. I guess 90 were on board. Ya Allah reham#planecrash #PIA pic.twitter.com/IUl21p4Az0
— Waleed (@_waleedd_) May 22, 2020
طیارے میں مسافروں کی فہرست میں فتح عبداللہ، عبدالرحیم، کاشف افضال، شبیر احمد، رضوان احمد، بلال احمد، یاسمین اکبانی، فروا علی، ارغمان علی شامل ہیں، فروہ علی، ارمغان اعلی، فوزیہ ارجمند، محمد اسلم بھی طیارے میں سفر کر رہے تھے۔
ترجمان پی آئی اے کے مطابق طیارہ زیادہ پرانا نہیں تھا اور اس کی عمر تقریباً 10 سے 11 سال تھی اور طیارہ مکمل مینٹین تھا لہٰذا تکنیکی خرابی کے بارے میں کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا۔
Update #PIA Incident:
Army Quick Reaction Force & Pakistan Rangers Sindh troops reached incident site for relief and rescue efforts alongside civil administration.
Details to follow.— DG ISPR (@OfficialDGISPR) May 22, 2020
آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج اور رینجرز کے دستوں نے ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن شروع کر دیا، پاک فوج اور سندھ رینجرز سول انتظامیہ کو اعانت فراہم کر رہے ہیں۔
عینی شاہد کا کہنا ہے طیارے کو حادثہ 2 بج کر 35 منٹ پر پیش آیا، رن وے اور آبادی کے درمیان ایک روڈ کا فاصلہ ہے جہاں طیارہ گر کر تباہ ہوا۔
وزیراعظم عمران خان نے کراچی میں ہونے والے پی آئی اے مسافر طیارے کے حادثے کے نتیجے میں قیمتی جانی نقصان پر گہرے رنج و افسوس کا اظہار کیا ہے۔
Shocked & saddened by the PIA crash. Am in touch with PIA CEO Arshad Malik, who has left for Karachi & with the rescue & relief teams on ground as this is the priority right now. Immediate inquiry will be instituted. Prayers & condolences go to families of the deceased.
— Imran Khan (@ImranKhanPTI) May 22, 2020
وزیراعظم عمران خان نے جاں بحق ہونے والے افراد کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لئے صبر جمیل کی دعا کی۔ جبکہ انہوں نے متعلقہ اداروں کو ریلیف، ریسکیو اور زخمیوں کو فوری طبی امداد کی ہدایت کی اور وزیراعظم عمران خان نے طیارہ حادثے کی فوری تحقیقات کا حکم دیدیا۔
دریں اثنا سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے وزیراعظم نے لکھا کہ پی آئی اے طیارے حادثہ کا سن کر افسوس ہوا، میں پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ارشد ملک کیساتھ رابطے میں ہوں، وہ کراچی روانہ ہو چکے ہیں جہاں پر امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کریں گے۔ اس سانحے کی فوری تحقیقات کروائی جائیں گی، میری دعائیں اورتمام ترہمدردیاں متاثرہ خاندانوں کیساتھ ہیں۔
دوسری طرف وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹرشبلی فراز نے بھی سماجی ٹویٹ میں لکھا کہ پی آئی اے طیارہ حادثے پر گہرا دکھ اور افسوس ہے، یہ انتہائی غم زدہ کر دینے والا حادثہ ہے، متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں، اس وقت بنیادی توجہ امدادی کاروائیوں پر مرکوز ہے۔
اُدھر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ پی آئی اے کے حادثے پر ہم سب رنج اور غم کا شکار ہیں۔ جاں بحق مسافروں کو اللہ جنت الفردوس میں جگہ دے۔