سرکاری ملازم کو رجسٹرار سپریم کورٹ تقررکرنا آئین کی خلاف ورزی ہے۔فائل فوٹو
سرکاری ملازم کو رجسٹرار سپریم کورٹ تقررکرنا آئین کی خلاف ورزی ہے۔فائل فوٹو

جسٹس قاضی فائز عیسی کیس۔سپریم کورٹ نے 4 سوالوں پردلائل طلب کرلیے

سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسی کی صدارتی ریفرنس کے خلاف آئینی درخواست کی سماعت ہوئی،سپریم کورٹ نے صدارتی ریفرنس پر فروغ نسیم سے 4 سوالوں پرجواب اوردلائل طلب کرلیے ،عدالت نے کہاکہ الزام ہے موادغیرقانونی طریقے سے اکٹھاہوا،آپ نے موادکوغیرقانونی اکٹھاکرنے پردلائل دینے ہیں،عدالت نے استفسار کیاکہ شکایت اثاثہ جات ریکوری یونٹ کوکیوں بھیجی گئی؟،شکایت صدرمملکت یاجوڈیشل کونسل کوکیوں نہیں بھیجی گئی؟۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،جسٹس عمر عطابندیال کی سربراہی میں لارجر بنچ نے سماعت کی،فروغ نسیم نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ لندن کی 3 جائیدادیں معززجج کے بچوں اوراہلیہ کے نام پر ہیں ،اس حقیقت کو درخواست گزار تسلیم کرچکے ہیں ،عدالت کے سامنے آرٹیکل 209 کے تحت جج کے مس کنڈکٹ کامعاملہ ہے،اصل سوال ہے کہ جائیدادیں کن ذرائع سے خریدی گئیں اورمنی ٹریل کاہے۔

فروغ نسیم نے کہاکہ بادی النظرمیں ریفرنس دائرہوتاہے توجوڈیشل کونسل کارروائی کرتی ہے،عام شہری کی شکایت آئے توکونسل انکوائری کرسکتی ہے،اگرریفرنس صدردائرکرے توکونسل کارروائی کرتی ہے،صدرکے ریفرنس میں الزام کی انکوائری کی ضرورت نہیں،کونسل صدرکی طرف سے دی گئی معلومات پرکارروائی کرتی ہے۔

جسٹس منیب اخترنے کہاکہ فروغ نسیم صاحب آپ کی دلیل سے میں اتفاق نہیں کرتا،بظاہرلگتا ہے آپ شوکازنوٹس پرکیس کرنا چاہتے ہیں،عدالت نے کہاکہ مطلب شوکازنوٹس سے پہلے ریفرنس محض کاغذکاٹکڑانہیں تھا،فروغ نسیم نے کہاکہ شوکازسے پہلے ریفرنس کی تیاری کاجوڈیشل جائزہ ہوسکتا ہے،جسٹس سجاد علی شاہ نے کہاکہ سب سے پہلے ریفرنس کی تیاری پردلائل دیں۔

بیرسٹر فروغ نسیم نے کہاکہ مجھے نقطہ اختتام پروفاق کی نمائندگی کا کہاگیا،عدالت نے کہاکہ آپ کو تیاری کیلئے مزید 12 گھنٹے کاوقت دے رہے ہیں،اثاثہ جات ریکوری یونٹ نے کس حیثیت سے معلومات اکٹھی کیں،فروغ نسیم نے ججز سے سوال کیاکہ آج کی کارروائی کتنی دیرچلے گی؟،جسٹس عطاعمر بندیال نے کہاکہ 2 ماہ بعدمقدمے کی سماعت ہو رہی ہے،بنچ کے ججزآپ کوبڑے تحمل سے سنیں گے۔

فروغ نسیم نے کہاکہ وحیدڈوگرنے اثاثہ جات ریکوری یونٹ کودرخواست دی،منیراے ملک نے کہاکہ وحید ڈوگر کی شکایت کی کاپی فراہم نہیں کی گئی،فروغ نسیم نے کہاکہ غلطی سے یہ دستاویزات عدالت میں جمع نہیں کراسکے،جسٹس سجاد علی شاہ نے کہاکہ منیراے ملک نے 2 دن اسی نقطے پردلائل دیے،عدالت نے کہاکہ حکومتی ٹیم دلائل کے دوران موجودتھی لیکن شکایت جمع نہیں کرائی۔