اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی عبوری درخواست ضمانت پر ریٹائرڈ جج کے انتقال کے باعث سماعت نہ ہوسکی، چیف جسٹس ہائیکورٹ نے عبوری ضمانت کی درخواست کل کےلیے مقررکردی، لیگی رہنما رانا ثنا اللہ نے واضح کیا ہے کہ شہبازشریف پہلے ہائیکورٹ پیش ہونگے پھر نیب پیش ہونگے۔
اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے منی لانڈرنگ کیس میں نیب میں گرفتاری کے خدشے کے باعث لاہور ہائیکورٹ میں عبوری درخواست ضمانت دائر کی تھی تاہم سابق جج شریف حسین بخاری کے انتقال کے باعث درخواست پر سماعت نہ ہوسکی اور چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ محمد قاسم علی خان نے شہباز شریف کی درخواست کو کل کےلیے سماعت کے لیے مقررکردیا۔
شہباز شریف کی جانب سے درخواست ضمانت میں موقف اختیارکیا گیا تھا کہ تمام اثاثے ڈکلیئر ہیں، نیب کے پاس منی لانڈرنگ کے کوئی ثبوت موجود نہیں، الزامات جھوٹے اور بے بنیاد ہیں لہذا گرفتاری سے روکا جائے۔
دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو میں لیگی رہنما رانا ثنا اللہ نے تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کو بدترین انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے، رانا ثنا اللہ نے آٹے چینی کا سہولت کار وزیراعظم کو قرار دے دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ شہباز شریف نے دس سال صوبے کی خدمت کی اور لوڈ شیڈنگ کے خاتمے میں کردارادا کیا۔