وفاقی دارالحکومت میں پراپرٹی ٹیکس میں 200 فیصد اضافہ کالعدم قرار

ٹیکس وصولی سی ڈی اے کا اختیار نہیں ، میٹروپولیٹن کارپوریشن وصول کرے۔اسلام آباد ہائی کورٹ

               
December 23, 2020 · اہم خبریں, قومی
عدالت نے وزارت داخلہ سے میڈیکل کے طلباکے خلاف درج مقدمات کا ریکارڈ بھی طلب کرلیا۔فائل فوٹو

عدالت نے وزارت داخلہ سے میڈیکل کے طلباکے خلاف درج مقدمات کا ریکارڈ بھی طلب کرلیا۔فائل فوٹو

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اخترکیانی کی عدالت نے وفاقی دارالحکومت میں پراپرٹی ٹیکس میں 200 فیصد اضافہ کالعدم قرار دیتے ہوئے میٹروپولیٹن کارپوریشن کو پرانے ریٹس پرٹیکس وصول کرنے کا حکم دے دیا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر میاں اسلم کےعلاوہ شہریوں کی طرف سے دائر درخواستوں پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ٹیکس وصولی سی ڈی اے کا اختیار نہیں ، میٹروپولیٹن کارپوریشن وصول کرے۔

عدالت نے سی ڈی اے کا پراپرٹی ٹیکس وصولی غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ 2015ء کے بعد سے سی ڈی اے کا پراپرٹی ٹیکس سے وصول شدہ رقم کا آڈٹ کرایا جائے اور سی ڈی اے کو پراپرٹی ٹیکس کی رقم لوکل گورنمنٹ فنڈ میں منتقل کی جائے۔ عدالت نے پراپرٹی ٹیکس میں اضافے کے خلاف درخواستیں منظورکرلیں۔