پنجاب میں پیپلزپارٹی کا کوئی امیدوار کامیاب نہیں ہوا۔فائل فوٹو
پنجاب میں پیپلزپارٹی کا کوئی امیدوار کامیاب نہیں ہوا۔فائل فوٹو

قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کے دو دو حلقوں میں انتخابات کیلیے پولنگ جاری

پنجاب اور خيبرپختونخوا ميں قومی اور صوبائی اسمبلی کے دو دو حلقوں پر ضمنی انتخابات کے لیے پولنگ کے جاری ہے جس میں این اے 75 ڈسکہ اور پی پی 51 گوجرانوالا میں مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے درمیان کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے جب کہ این اے 45 کرم ایجنسی اور پی کے 63 نوشہرہ میں بھی ضمنی الیکشن کے لیے ووٹ ڈالے جارہے ہیں۔

پنجاب اسمبلی کی نشست پی پی 51 مسلم لیگ ن کے ایم پی اے شوکت منظور چیمہ کے انتقال کے باعث خالی ہوئی تھی اور ن لیگ نے شوکت منظور چیمہ کی بیوہ بیگم طلعت منظور چیمہ کو اس پر امیدوار نامزد کیا ہے جب کہ تحریک انصاف نے چوہدری محمد یوسف کو میدان میں اتارا ہے، جماعت اسلامی کے امیدوار ناصرمحمود ہیں۔(ن) لیگ نے عام انتخابات کے دوران یہ نشست 31 ہزار سے زائد ووٹوں کی برتری سے جیتی تھی۔

سیالکوٹ میں قومی اسمبلی کی نشست این اے 75 مسلم لیگ ن کے ایم این اے سید افتخار الحسن شاہ المعروف سید ظاہرے شاہ کے انتقال کے باعث خالی ہوئی تھی۔مسلم لیگ ن نے اس بار اپنے مرحوم ایم این اے کی بیٹی سیدہ نوشین افتخار کو میدان میں اتارا ہے جب کہ تحریک انصاف کے نامزد امید وار علی اسجد ملہی ہیں۔

خیبرپختونخوا کے ضلع نوشہرہ میں صوبائی اسمبلی کی نشست پی کے 63 تحریک انصاف کے ایم پی اے میاں جمشید الدین کاکاخیل کے انتقال کے باعث خالی ہوئی تھی، یہاں ن لیگ کے میاں اختیارولی خان پی ڈی ایم کے مشترکہ امیدوارہیں جبکہ تحریک انصاف کے میاں عمرکاکاخیل، اے این پی کے میاں وجاہت اللہ اورتحریک لبیک کے مولانا ثنائ اللہ میدان میں ہیں۔

ضلع کرم کے حلقہ این اے 45 کرم ون میں بھی آج ضمنی انتخابات ہورہے ہیں، حلقے میں 27 امیدوار میدان میں ہیں، پی ٹی آئی کے فخرزمان، آزاد امیدوار سید جمال ، جے یو آئی کے جمیل چمکنی کے مابین کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے۔ یہ نشست جے یو آئی (ف) کے ایم این اے منیر خان اورکزئی کے انتقال کے باعث خالی ہوئی تھی۔

ای سی پی کے مطابق تمام پولنگ اسٹیشنوں پر سيکيورٹی کے سخت انتظامات بھی کیے گئے ہيں، نوشہرہ ميں پولیس اور ایف سی کے اہلکاروں نے سیکیورٹی کنٹرول سنبھال لیا ہے۔چاروں حلقوں میں ضمنی انتخابات کیلے پولنگ صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک بلاتعطل جاری رہے گی۔