دنیا میں ڈالر کے ذخائر 1995 کے بعد کم ترین سطح پر آگئے
دنیا بھر کے مرکزی بینکوں کے پاس موجود غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اب بھی سب سے بڑا حصہ یعنی 59 فیصد ڈالرز کی صورت میں ہے، آئی ایم ایف
امریکا میں 50 فیصد سے زائد آبادی کو ویکسین لگ چکی ہے
عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف ) کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں مرکزی بینکوں کے پاس موجود ڈالر کے ذخائر 1995 کے بعد اپنی کم ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔
دنیا بھر کے مرکزی بینکوں کے پاس موجود غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اب بھی سب سے بڑا حصہ یعنی 59 فیصد ڈالرز کی صورت میں ہے۔
تاہم آئی ایم ایف کے اعداد شمار کے مطابق 2020 کی آخری سہ ماہی میں دنیا بھر کے مرکزی بینکوں کے پاس موجود ڈالر کے ذخائر 60.5 فیصد سے کم ہو کر 59 فیصد پر آگئے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق عالمی زرمبادلہ کے ذخائر میں ڈالر کے بعد سب سے بڑا حصہ یورو کا ہے جو کہ چوتھی سہ ماہی میں بڑھ کر مجموعی ذخائر کا 21.2 فیصد ہو گیا ہےجو کہ تیسری سہ ماہی میں 20.5 فیصد تھا۔