ضلع جنوبی کے گیسٹ ہائوسز منشیات اور دیگر جرائم کا گڑھ بننے لگے، فائل فوٹو
 ضلع جنوبی کے گیسٹ ہائوسز منشیات اور دیگر جرائم کا گڑھ بننے لگے، فائل فوٹو

ہوٹل اور گیسٹ ہائوسز ’’پولیس کمائی‘‘ کا نیا ذریعہ بن گئے

نمائندہ امت :
کراچی ایئرپورٹ پر چینیوں کے قافلے پر خودکش حملے کے بعد اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ کو شہر بھر کے ہوٹلز، سرائے خانے، گیسٹ ہاؤسز کی چیکنگ کے دیئے گئے ٹاسک کو انتہائی منظم طریقے سے کمائی کا ذریعہ بنا لیا گیا ہے۔ غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث ہوٹل و گیسٹ ہاؤس انتظامیہ سے ماہانہ لاکھوں روپے وصول کیے جانے لگے۔

ایئرپورٹ پر غیرملکیوں پر خودکش حملے کے بعد اعلیٰ حکام کی جانب سے اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ کو شہر بھر کے ہوٹلز، سرائے خانے اور گیسٹ ہاؤسسز کی چیکنگ کا ٹاسک دیا گیا تھا۔ دیئے گئے ٹاسک میں غیر لائسنس یافتہ اور عارضی رہائش اختیار کرنے والوں کا ’’ہوٹل آئی‘‘ پر اندراج اور ان کے تمام کوائف نہ لینے والے ہوٹلز، سرائے خانے اور گیسٹ ہاؤسز کی جامع رپورٹ ارسال کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ اعلیٰ حکام کی جانب سے دیئے گئے ٹاسک پر کام کی ابتدا تو کی گئی لیکن مکمل نہ کی جاسکی، کیونکہ طاقتور شخصیات کا دباؤ نہ جھیلا جاسکا۔

اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ کو دیئے گئے ٹاسک پر آخری چیکنگ بوٹ بیسن تھانے کی حدود کلفٹن بلاک 2 ڈی کمفرٹ ہوٹل نامی گیسٹ ہاؤس پر کی گئی، جہاں مکمل طور پر غیرقانونی سرگرمیوں فحاشی کے اڈے کے طور پر استعمال کیا جارہا تھا۔ یہاں سے تقریباً نو کے قریب لڑکیوں سمیت دیگر افراد کو حراست میں لے کر بوٹ بیسن پولیس کے حوالے کیا گیا تھا۔

ذرائع کے مطابق مذکورہ گیسٹ ہاؤس پر ساؤتھ زون کے ایک اعلیٰ افسر کا قریبی رشتے دار منیجر ہے، جو خود کو اعلیٰ افسر کا بھائی ظاہر کرتا ہے۔ چھاپے کے بعد ٹیم تو واپس آگئی لیکن اعلیٰ شخصیات کے دباؤ کے بعد ٹاسک پر کارروائی روک دی گئی۔ باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ کے چھاپوں کے بعد اس یونٹ کا ایک افسر ایک شخصیت کی معرفت اسی گیسٹ ہاؤس گیا جہاں میٹنگ کے دوران ایس آئی یو کے افسر نے اپنے یونٹ کے سربراہ کے نام پر ڈی ایچ اے میں غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث تمام گیسٹ ہاؤسز سے 50 ہزار روپے فی کس وصول کرکے دینے کی ذمے داری سونپی۔

ایس آئی یو کا افسر ماہانہ رقم اپنے یونٹ کے سربراہ کے نام پر وصول کر رہا ہے۔ صرف یہی نہیں، ٹیپو سلطان تھانے کی حدود نرسری میں چلائے جانے والے گیسٹ ہاؤسز سے پچیس ہزار روپے ماہانہ جبکہ گلشن جمال کے گیسٹ ہاؤسز سے پچاس ہزار روپے ماہانہ یہی افسر اپنے یونٹ کے سربراہ کے نام پر وصول کر رہا ہے۔ رقم کی وصولی کے لیے یونٹ کا افسر خود اپنی گاڑی میں جاکر وصول کرتا ہے۔ ایس آئی یو کیاس افسر کی گاڑی ان تاریخوں میں گیسٹ ڈی کنفرٹ ہوٹل کے باہر کھڑی ہر ماہ کی 10 تاریخ کی شب کھڑی دیکھی گئی ہے۔ کیونکہ ڈی ایچ اے کے گیسٹ ہاؤسز سے ماہانہ رقم سردار نامی شخص اکھٹا اپنے گیسٹ ہاؤس میں رکھتا ہے۔

ذرائع نے مزید بتایا ہے کہ ڈی ایچ اے میں دس سے بارہ گیسٹ ہاؤسز سے ماہانہ پچاس ہزار روپے ایس آئی یو کے سربراہ کے نام پر یہ افسر وصول کررہا ہے۔ مصدقہ اطلاعات کے مطابق ماہانہ رقم وصول کرنے والے اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ کے افسر سے ایک عہدہ اوپر والے افسر نے ماہانہ رقم کی وصول کا عمل ہونے کے بعد روکنے اور محکمہ جاتی کارروائی یا اعلیٰ حکام کو اطلاع دینے کے بجائے اپنا ماہانہ حصہ باندھ کر آشیرباد دیدی۔

چند ماہ قبل محکمہ پولیس کے ایک انٹیلی جنس ادارے نے ایک رپورٹ مرتب کرکے اعلی افسران کو ارسال کی تھی جس میں بتایا گیا اس وقت سائوتھ زون کے اعلی افسر ہے وہ جب ایس ایس پی سائوتھ کی پوسٹ پر تعینات تھے اس وقت بھی پوش علاقوں میں گیسٹ ہائوسز اور شراب کی دکانوں سے لالھوں روپے بھتہ وصول کرکے دیا کرتا تھا اور اب بھی سلسلہ تاحال جاری ہے۔

چینیوں پر خودکش حملے کے بعد جب گیسٹ ہاوسز کا چارج ایس آئی یو کو سونپا گیا تو مکروہ دھندے میں کمی نہیں بلکہ مزید منظم طریقہ کار سے دھندا شروع ہوگیا۔ اسلئے کہ اب ان گیسٹ ہاوسز اور مسافر ہوٹلوں کے مالکان کو جو صرف علاقہ پولیس ڈی ایس پی ایس پی ایس ایس پی اور ڈی آئی جی کو دیتے تھے وہ اب ایس آئی یو کو بھی بھتہ دینے پر مجبور ہیں۔ بھتے کی رقم بڑھ جانے پر گیسٹ ہاوسز پر چلنے والا دھندہ عروج پر پہنچ گیا۔ گیسٹ ہائوسز کے کرتا دھرتاوں نے پولیس کو کہا تھا ہم اتنا بھتہ جب دے سکتے ہیں جب ہمیں مزید چھوٹ دی جائے۔ تاہم علاقہ پولیس اور ایس آئی یو پولیسْ نے کھلی چھوٹ دے کر مکرو دھندہ مزید منظم کردیا اور اب دھڑلے سے ڈسٹرکٹ سائوتھ میں غیر قانونی دھندہ عروج پر پہنچ گیا ہے۔

ڈسٹرکٹ سائوتھ کے کلفٹن ڈویژن میں گیسٹ ہائوسز، شراب خانوں شیشہ کیفوں میں تمام تر نشہ جس میں آئس ، ویڈ گانجہ ، تریاک، چرس اعلی کوالٹی گردہ ، انگلش شراب اور فحاشی کا مرکز بن چکا ہے۔ وزیر داخلہ سندھ اور آئی جی سندھ سائوتھ زون کے ایک طاقتور افسر کے آگے بے بس نظر آئے جنہیں تمام تر معلومات ہونے کے باوجود کارروائی تو دور کی بات ہے ان سے پوچھنے تک کی زحمت کرنا گوارا نہیں۔

واضح رہے کہ چند روز قبل مصطفیٰ عامر قتل کیس کے معاملے پر وزیر اعلی سندھ نے ایک اہم میٹنگ میں ڈی آئی جی سائوتھ کو آڑے ہاتھ لیا تھا۔ یہ بات کہنا اس وقت ضروری ہے کہ گیسٹ ہائوسز کی چھان بین کرنے والی پولیس ایس آئی یو جوکہ ڈی آئی جی سی آئی اے کے ماتحت ہے اس پولیس نے گیسٹ ہاوسز کی طرح مصطفیٰ عامر کیس سے جڑے منشیات کے نیٹ ورک میں گرفتار کیے جانے والے ٹی وی آرٹسٹ ساجد حسن کے بیٹے ملزم ساحر حسن کے موبائل فون سے نکلنے والے موبائل فون نمبرز کو کمائی کا دھندا بنا رکھا ہے۔