عمران خان :
پاکستان سے دبئی تک حوالہ ہنڈی کا سب سے بڑا نیٹ ورک چلانے والے معروف زمانہ حنیف رنگیلا کے حوالے سے اب تک اداروں کو درست معلومات نہیں مل سکی ہیں۔ ایف آئی اے کے درجنوں کیسوں میں نامزد اس مرکزی کردار کے حوالے سے گزشتہ دنوں بیرون ملک انتقال کر جانے کی خبریں پھیلائی گئیں۔ تاہم اس کی اب تک تصدیق نہیں ہوسکی۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ حنیف رنگیلا ابھی زندہ ہے اور چین میں موجود ہے اور اس کا دبئی آنا جانا رہتا ہے۔
حنیف رنگیلا، پاکستان میں حوالہ ہنڈی کے حوالے سے سب سے زیادہ معروف اسکینڈل کے کرداروں خانانی اینڈ کالیا کے بزنس کا پرانا ملازم تھا۔ بعد ازاں ایف آئی اے کے ملک گیر آپریشن میں یہ کاروبار ختم ہونے کے بعد اس نے اپنا نیٹ ورک قائم کیا۔ کیونکہ اس کے پاس ملک بھر کے ہزاروں ایسے کسٹممرز کے رابطے میں موجود تھے جو خانانی اینڈ کالیا کے نیٹ ورک سے اپناملک سے زر مبادلہ غیر قانونی طور پر دبئی اور دیگر ممالک منتقل کرتے تھے۔ اس میں زیادہ تر صنعت کار، تاجر، بیوروکریٹ، سرکاری افسران اور سیاست دانوں کے فرنٹ میں شامل تھے۔
حنیف رنگیلا نے بعد ازاں 2010ء کے بعد اپنا بز نس پھیلنے پر دبئی کو اپنا مرکز بنانا شروع کیا اور پھر 2015ء کے بعد دبئی کو مستقل اپنا مرکز بنا لیا۔ ایف آئی اے کی فائلو ں میں موجود رپورٹوں کے مطابق حنیف رنگیلا نے دبئی کی فری مارکیٹ میں ایسی ایکسچینج کمپنیوں کی بنیاد رکھوائی، جنہوں نے حوالہ ہنڈی میں ’’چمک‘‘ یعنی درہم کے ذریعے پاکستانی ٹیکس چوروں کے لئے بیرون ملک ادائیگیوں کا سلسلہ شروع کیا۔ اس نے پاکستانی فرنٹ مین رکھ کر پاکستانی بزنس مینوں اور سرکاری افسران کے ہزاروں اکائونٹ چمک کے کھلوائے جن سے چین، ہانگ کانگ، امریکہ، یورپ اور برطانیہ وغیرہ میں کالا دھن ٹرانسفر کیا جانے لگا۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان سے اسمگلنگ، ٹیکس چوری اور کرپشن کرکے کالا دھن کمانے والے لاکھوں افراد نے اس نیٹ ورک کے ذریعے حوالہ ہنڈی کی خدمات حاصل کرکے دبئی کی رئیل اسٹیٹ کی مارکیٹ میں سرمایہ کاری کی اور پاکستان کو ٹریلین ڈالرز کا ناقابل تلافی نقصان پہنچایا گیا۔
اسی نیٹ ورک ک ذریعے جن ایکسچینج کمپنیوں کا گروپ دبئی میں قائم ہوا، ان میں بھارتی بھی شامل ہوگئے۔ معلوم ہوا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے پاکستانی نیٹ ورک سے منسلک دبئی کی 4 ایکسچینج کمپنیوں کے 6 پاکستانی گروپ گزشتہ ایک دہائی سے زیادہ سے زیادہ کالے دھن کے حصول اور کاروبار کو وسعت دینے کے لئے بیرون ملک منی لانڈرنگ اور ناجائز اثاثے بنانے والے سیاست دانوں، بیوروکریٹس، تاجروں، صنعتکاروں اور سرکاری افسران کے آلہ کار بن کر ملکی قیمتی زر مبادلہ کے دشمن بنے ہوئے ہیں۔ اس نیٹ ورک کے گروپوں میں سرگرم افراد اور ایک کی کمپنیوں میں ملک ایکسچینج ، شاہین ایکسچینج ، ریمز ایکسچینج اور وال اسٹریٹ ایکسچینج کمپنیوں سے منسلک حنیف رنگیلا ، کامران صابو، رشید ، قادر ، ثاقب اور دانش وغیرہ شامل ہیں۔
اس ڈیٹا کی روشنی میں ایک مفصل رپورٹ تیار کرکے ایف آئی اے ہیڈ کوارٹر اسلا م آباد ارسال کی گئی ہے، تاکہ ملک کو کروڑوں روپے کے قیمتی زر مبادلہ سے محروم کرنے والے نیٹ ورک کے خلاف کارروائیوں کو آگے بڑھانے کے لئے اجازت لی جاسکے۔ ان گروپوں کے حوالے سے تحقیقات میں یہ بھی معلوم ہوچکا ہے کہ پاکستان سے حوالہ ہنڈی اور غیر قانونی چینل سے بیرون ملک منتقل کئے جانے والے زر مبادلہ کا بڑا حصہ یعنی 70 فیصد تک ٹریڈ بیسڈ منی لانڈرنگ پر مشتمل ہے۔
اس نیٹ ورک میں آئرن اسٹیل سیکٹر ، ٹیکسٹائل سیکٹر ، گارمنٹ سیکٹر ، کاسمیٹکس ، برانڈز جوتے ، گھڑیاں ، الیکٹرانک سامان ، ہوم ایپلائنس ، ٹائروں ، کیمیکل ، ڈائننگ ، رنگ سازی ، فارما سوٹیکل اور دیگر شعبوں کے بڑے ملز مالکان ، تاجر ، ہول سیلر ، سپلائرز شامل ہیں جوکہ انڈر انوائسنگ کے ذریعے بیرون ملک سے درآمد اپنے سامان میں کی جانے والی ٹیکس چوری کے لئے بیرون ملک ادائیگیاں اس دبئی نیٹ ورک کے ذریعے کرواتے ہیں، جس کی پہنچ اب چین تک پھیل چکی ہے۔ اسی نیٹ ورک سے اسمگلنگ کے ذریعے مس ڈکلریشن اور بیگیج وغیرہ کے ذریعے ٹیکس چوری کرنے والے الیکٹرانک کے تاجر ، موبائل اور الیکٹرانک کے ایئر پورٹس کے کھیپی، ادویات اور بھینسوں کے ممنوعہ انجکشن کے اسمگلرز بھی حوالہ ہنڈی سے رقوم بیرون ملک منتقل کرتے ہیں۔جبکہ افغان ٹرانزٹ اور ایران سے ہونے والی اسمگلنگ کی ادائیگیوں کے لئے بھی کراچی ، پشاور اور کوئٹہ کے بڑے تاجر اسی نیٹ ورک سے ادائیگیوں اور بیرون ملک سرمایہ کاری منتقل کرنے کے لئے مستفید ہو رہے ہیں۔ یوں ان تمام عناصر کو کئی برسوں سے دبئی کا یہی نیٹ ورک آلہ کار بن کر سہولت کاری فراہم کرر ہا ہے۔
ریکارڈ سے اختیار کئے جانے والے طریقہ کار کے حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ یہاں گروپوں کے کراچی سمیت پاکستان میں موجود سب ایجنٹ امپورٹ اوریکسپورٹ کرنے والی کمپنیوں اور تاجروں سے ملکی کرنسی میں رقوم یہی وصول کرتے ہیں۔ ان میں ملزمان عدنان اور شمشاد سمیت دیگر کی نشاندہی ہوئی ہے۔ جنہوں نے دبئی، چین اور ویت نام میں بینک اکائونٹس کھلوائے ہوئے ہیں۔ یہ ملزمان خصوصی طور پر ایکسپورٹ کے سامان کے بدلے چینی کمپنیوں کو ہدایات دیتے ہیں کہ وہ رقم پاکستان میں ایکسپورٹر کمپنیوں کے اکائونٹ میں بھجوانے کے بجائے چین اور ویت نام کے بینکوں میں موجود ان کے اکائونٹس میں ہی ٹرانسفر کر دیں۔ جس کے بعد اس چینی کرنسی کو دبئی منتقل کرکے اس کے عوض دبئی میں موجود ایکسچینج کمپنیوں کے ذریعے ریال میں تبدیل کرلیا جاتا ہے، جس کے لئے دبئی میں موجود ایکسچینج کمپنیوں میں بھی ان پاکستانی افراد اور کمپنیوں نے اپنے اکائونٹس کھلو ارکھے ہیں۔
بعد ازاں اس رقم کو پاکستان منتقل کرنے کے بجائے وہیں پر جائیدادیں بنانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ پاکستانی کمپنیوں کو دبئی میں موجود ایکسچینج کمپنیوں کے نمائندے، جن میں ملزمان عدنان اور شمشاد بھی شامل ہیں، پاکستانی کرنسی میں ملک کے اندر ہی ادائیگی کردیتے ہیں۔ اس طرح سے ملک کے قیمتی زر مبادلہ کو باہر ہی روک لیا جاتا ہے۔