ایبٹ آباد میں لاپتہ لیڈی ڈاکٹر کی لاش چار دن بعد مل گئی۔ ڈاکٹر وردا نے اپنی سہیلی کے پاس 60 تولے سے زائد سونا رکھوایا تھا اور واپس لینے کے دوران لاپتہ ہوئی تھیں۔
4 دسمبر کو انہیں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال سے جاتے دیکھا گیا8 دسمبر کو ڈاکٹر وردا کی لاش لڑی بنوٹہ سے برآمد کر لی گئی ہے۔
پولیس کے مطابق بلے دی ہٹی کے افراد سمیت نو ملزمان کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔لاش ملنے کے بعد ڈاکٹروں نے احتجاج شروع کردیا اور شاہراہ ریشم بلاک کردی۔ڈاکٹر وردا کا معاملہ پورے ایبٹ آباد میں پچھلے چند روز سے زیر بحث تھا۔
مغوی خاتون ڈاکٹر کے قتل کے خلاف شاہراہ ریشم پر احتجاج pic.twitter.com/AlS0Bq4drK
— Daily Ummat (@ummatdigitalpk) December 8, 2025
ڈاکٹر وردا دوران ڈیوٹی اسپتال سے ایک گاڑی میں بیٹھ کر گئی تھیں۔ ان کے لاپتہ ہونے کے بعد ڈاکٹر وردا کے والد کی درخواست پر کینٹ اور میرپور پولیس نے تلاش شروع کی تو معلوم ہوا کہ ڈاکٹر وردا نے کچھ عرصہ قبل دبئی میں اپنے شوہر کے پاس جاتے وقت 67 تولہ سونے کے زیورات اپنی سہیلی ردا کے پاس امانت رکھے اور تحریر لی۔
دوبئی سے واپس آنے کے بعد زیورات کی واپسی کے مطالبہ پر ٹال مٹول ہوتی رہی اور پھر ڈاکٹر وردا کو کہا گیا کہ سونا واپس لے لو ساتھ ہی اس سے ایک کروڑ سے زائد رقم کے چیک بھی لے لئے گئے۔
ذرائع کے مطابق ڈاکٹر وردا کو مبینہ طور پر ایبٹ آباد کے ایک پوش ایریا میں لے جاکر کرائے کے قاتلوں جنکا مبینہ طور پر منشیات فروش مافیا سے تعلق ہے کے حوالے کر دیا گیا۔
چار روز تک لواحقین اور ڈاکٹرز ایسوسی ایشن پیرا میڈیکس سٹاف لواحقین کے بار بار احتجاج پر اغواء شدہ ڈاکٹر بازیاب نہ ہو سکی جبکہ اس کی سہیلی اس کے ساتھ دیگر مشکوک افراد اسی روز پولیس نے حراست میں لے لئے تھے۔
تفتیش کے بعد پیر چار دسمبر کو نواحی سیاحتی علاقہ ٹھنڈیانی کے علاقے لڑی بنوٹہ جو مبینہ منشیات فروش کا گاؤں ھے وہاں سے پولیس کو ڈاکٹر وردا مشتاق کی لاش ملی جسکو ایبٹ آباد لایا گیا۔
واقعے کے خلاف صوبائی ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے اسپتال میں ہڑتال اور احتجاج کا اعلان کیا اور مظاہرین نے شاہراہ ریشم کو ہر قسم کےٹریفک کے لیے بند کر دیا۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی جوڈیشل انکوائری کی جائے، ملزمان کے خلاف دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا جائے اور ڈی پی او سمیت تمام پولیس عملہ کو معطل کیا جائے۔
ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے کہا کہ عوام کی جان و مال کے تحفظ میں پی ٹی آئی حکومت مکمل ناکام ہو چکی ہے اور ایسے سنگین واقعات کے تدارک کے لیے فوری اور سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ قاتلوں کی گرفتاری کے لیے تحقیقات جاری ہیں اور ملزمان سے مزید شواہد و معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق ڈاکٹر وردا نے اپنی دوست زوجہ وحید کے پاس 67 تولہ سونا امانت کے طور پر رکھا ہوا تھا۔ والد کے مطابق بیٹی سونا واپس لینے گئی تھیں کہ اسی دوران لاپتا ہو گئیں۔ پولیس نے ابتدائی تحقیقات کے دوران سہیلی اور اس کے شوہر کو گرفتار کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos