امت رپورٹ :
افغانستان کے صوبہ پنجشیر میں طالبان کی دو چیک پوسٹوں پر حملے میں 17 ہلاکتوں کی ذمے داری قبول کرنے والے نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (قومی مزاحمتی محاذ) کی عسکری کارروائیوں کا دائرہ ملک کے کئی صوبوں تک پھیل چکا ہے۔ ان میں پنجشیر کے علاوہ قندوز، ہرات، بغلان، بلخ اور سمنگان کے صوبوں میں زیادہ کارروائیاں کی جارہی ہیں۔ حتیٰ کہ مزاحمتی فرنٹ نے افغان دارالحکومت کابل میں بھی کئی عسکری کارروائیاں کی ہیں۔
یہ مزاحمتی فرنٹ دو ہزار اکیس میں احمد مسعود نے قائم کیا تھا، جب امریکی انخلا کے بعد طالبان نے اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ اس گروپ میں کچھ سابقہ شمالی اتحاد کا حصہ رہنے والے جنگجو کمانڈر بھی شامل ہیں۔ چھتیس سالہ احمد مسعود سابقہ شمالی اتحاد کے رہنما احمد شاہ مسعود کا بیٹا ہے، جو سویت یونین کے خلاف جہاد کے ایک نامور کمانڈر تھے۔ تاہم انیس سو چھیانوے میں طالبان کے پہلے دور حکومت میں انہوں نے اپنے راستے جدا کرلئے اور طالبان کے خلاف ہتھیار اٹھا لئے۔ وہ جب تک زندہ رہے، طالبان ان کی آبائی پنجشیر وادی پر قبضہ نہیں کرسکے۔ دو ہزار ایک میں ایک قاتلانہ حملے میں احمد شاہ مسعود مارے گئے۔ تب ان کے بیٹے احمد مسعود کی عمر بارہ برس تھی۔
اگلی دو دہائیوں تک افغانستان پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا قبضہ رہا۔ دو ہزار اکیس میں امریکی انخلا کے بعد طالبان دوبارہ اقتدار میں آئے تو پہلی بار پنجشیر وادی بھی ان کے قبضے میں چلی گئی۔ احمد مسعود اپنے باپ کی طرح پنجشیر وادی کا دفاع نہ کرسکا۔ پنجشیر وادی سے ہاتھ دھونے کے بعد وہ بیرون ملک چلا گیا اور طالبان کے خلاف جنگجو کارروائیوں کے لیے نیشنل ریزسٹینس فرنٹ کے نام سے ایک مسلح مزاحمتی گروپ کا اعلان کیا۔
اطلاعات ہیں کہ احمد مسعود اس وقت فرانس میں ہے، لیکن اپنی سکونت کے مقام کو اس نے خفیہ رکھا ہوا ہے۔ بیرون ملک سے ہی وہ طالبان کے خلاف گوریلا کارروائیوں میں مصروف مزاحمتی فرنٹ کو لیڈ کر رہا ہے۔ ابتدا میں یہ گروپ طالبان پر خاطر خواہ حملے نہ کرسکا۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ اس کی کارروائیوں میں کسی حد تک اضافہ ہونے لگا۔
دو ہزار تئیس میں انڈیپنڈنٹ کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے احمد مسعود نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کے جنگجو ملک کے چونتیس میں سے بیس صوبوں، بالخصوص شمالی اور مغربی علاقوں میں طالبان کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ اور یہ کہ نیشنل فرنٹ نے اگست دو ہزار اکیس سے اب تک سینکڑوں طالبان عسکریت پسندوں کو مارا ہے۔ احمد مسعود کے ایک ساتھی کا یہ بھی کہنا تھا ’’ہم طالبان کے زیر قبضہ علاقوں میں ہر ماہ پندرہ سے بیس گوریلا کارروائیاں کر تے ہیں اور ان میں سے ہر ایک میں تین سے آٹھ طالبان اہلکار مارنے میں کامیاب رہتے ہیں‘‘۔
تاہم یہ خبریں یا دعوے میڈیا پر زیادہ ہائی لائٹ نہ ہو پائے۔ لیکن پچھلے ایک برس سے نیشنل فرنٹ کی کارروائیوں میں تیزی دیکھنے میں آرہی ہے۔ ان کارروائیوں کی تفصیل مزاحمتی گروپ اپنے سوشل میڈیا پر بھی ڈالتا ہے۔ جن طالبان اہلکاروں کو نشانہ بنایا جاتا ہے، ان کے نام اور دیگر شناخت بھی بیان کی جاتی ہے۔ افغانستان کا آزاد مقامی میڈیا بھی اکثر و بیشتر ان کارروائیوں کا ذکر کرتا رہتا ہے۔ عام طور پر ہر دوسرے یا تیسرے روز مزاحمتی گروپ کی جانب سے طالبان کے خلاف گوریلا کارروائیاں ہوتی ہیں۔ کچھ کامیاب ہوتی ہیں، کچھ ناکام ہوجاتی ہیں۔
تاہم مزاحمتی گروپ کی طرف سے پنجشیر میں تازہ حملے اب تک کی سب سے بڑی کارروائی قرار دی جارہی ہے۔ جس میں طالبان اہلکاروں کی ہلاکتوں کی تعداد سترہ بتائی گئی ہے۔ اس کارروائی کے بعد پہلی بار مزاحمتی گروپ میڈیا میں بڑی خبر بنوانے میں کامیاب ہوا ہے۔ لیکن طالبان حکام اس پر مسلسل خاموش ہیں۔ مزاحمتی گروپ کی اپنی پوسٹ کے مطابق نیشنل ریزسٹنس فرنٹ آف افغانستان کی فورسز نے صوبہ پنجشیر کے ضلع درہ میں طالبان کے ایک اہم ٹھکانے کے خلاف ایک پیچیدہ اور ٹارگٹڈ آپریشن شروع کیا، جس کے نتیجے میں وزارت دفاع کے خصوصی بریگیڈ کی ایک بٹالین کے سربراہ سمیت اس گروپ کے سترہ ارکان ہلاک اور پانچ زخمی ہو گئے۔ یہ آپریشن دو مراحل میں کیا گیا۔ ایک بارودی سرنگ کو اڑا کر اور دوسرا راکٹ حملوں کے ذریعے کیا گیا۔
پچھلے دو تین ماہ سے مزاحمتی گروپ ہر دوسرے تیسرے روز افغانستان کے مختلف صوبوں میں طالبان اہلکاروں کو نشانہ بنارہا ہے۔ ان کارروائیوں کا طائرانہ جائزہ لیا جائے تو یہ گوریلا طرز کے ایکشن ہیں۔ مثلاً سات دسمبر کی رات قومی مزاحمتی محاذ نے صوبہ ہرات میں طالبان اہلکاروں کے خلاف ایک آپریشن کیا۔ اس کے نتیجے میں ایک طالبان رکن مارا گیا۔ آپریشن ہرات شہر کے ضلع گنج شلبافان کے علاقے میں کیا گیا۔
اسی طرح انتیس نومبر کو قومی مزاحمتی محاذ کی فورسز نے صوبہ قندوز میں طالبان عسکریت پسندوں کو لے جانے والی گاڑی پر حملہ کیا۔ جس میں ایک طالبان ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔ حملہ شام سات بج کر چالیس منٹ پر قندوز، شیرخان بندر شاہراہ کے الچین کے علاقے میں دشمن کے اہلکاروں کو لے جانے والی گاڑی پر کیا گیا۔ بلخ میں کیے گئے ایک اور حملے میں ضلع تاشقرغان کے لیے طالبان سیکورٹی کمانڈر زخمی اور اس کے محافظ مارے گئے۔ قومی مزاحمتی محاذ کی فورسز کے حملے میں قندوز میں دہشت گرد طالبان کا کمانڈر زخمی اور اس کے کئی محافظ مارے گئے۔
چوبیس نومبر کو قومی مزاحمتی محاذ کے جنگجوئوں نے صوبہ قندوز کے بندر امام صاحب میں طالبان اہلکاروں کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشن کیا۔ جس میں طالبان ’’تولی‘‘ کمانڈر کے زخمی ہونے اور کئی دیگر ارکان کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا۔ گیارہ نومبر کو قندوز میں طالبان پر قومی مزاحمتی محاذ کے حملے میں دو طالبان ارکان ہلاک ہو گئے۔ یہ حملہ رات دس بجے بندر خان آباد کے علاقے ’’زنجیر چرخاب‘‘ میں کیا گیا۔
ہرات میں قومی مزاحمتی محاذ فورسز کے حملے میں دو طالبان دہشت گرد مارے گئے۔ دس نومبر کی رات ہرات، اسلام قلعہ روڈ پر دو طالبان ارکان کو نشانہ بنایا گیا۔ سولہ اکتوبر کو قندوز میں کی گئی ایک گوریلا کارروائی میں طالبان محکمہ برائے امر بالمعروف و نہی از منکر کے ڈپٹی ڈائریکٹر قاری بشیر کو لے جانے والی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کے نتیجے میں دو ہلاکتیں ہوئیں۔
بائیس ستمبر کو تخار صوبے کے لیے ریپڈ ری ایکشن یونٹ کا کمانڈر ملا بیت خان المعروف ملا سنگین اور اس کے تین محافظ باغان میں مزاحمتی محاذ کے حملے میں مارے گئے۔ انیس ستمبر کو کابل میں قومی مزاحمتی محاذ کی جانب سے کیے گئے آپریشن میں طالبان کی وزارت داخلہ کا ایک سینیئر انٹیلی جنس رکن مارا گیا۔ انیس ستمبر کو ہی ایک اور حملے میں قندوز میں پانچ طالبان مارے جانے کا دعویٰ کیا گیا۔ پندرہ ستمبر کو بغلان میں قومی مزاحمتی محاذ فورسز کے حملے میں تین طالبان ارکان ہلاک اور زخمی ہوگئے۔ یہ حملہ صوبہ بغلان کے ضلع گزرگاہ نور میں کیا گیا تھا۔
تاہم سیکورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ مزاحمتی گروپ کی گوریلا کارروائیاں ابھی اس سطح پر نہیں پہنچیں کہ طالبان کے اقتدار کو خطرہ محسوس ہو۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ماضی میں سابقہ شمالی اتحاد کی طرح موجودہ مزاحمتی محاذ کو بیرونی امداد نہیں مل رہی۔ تاہم بیرون ملک مقیم احمد مسعود کا دعویٰ ہے کہ وہ جلد ہی اپنے مزاحمتی محاذ کو ماضی جیسا مضبوط گروپ بنالیں گے۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos