میرعرب مدرسہ، بخارا

ایک مختصر یہودی آبادی جس کے محافظ اوردوست مسلمان ہیں

غزہ میں اسرائیلی فوج نے صرف 2سال کے دوران فلسطینی مسلمانوں کی اتنی بڑی تعدادکو شہید کردیا کہ اس پر نسل کشی کا الزام لگ چکا ہے۔ صیہونی فوجی جنگ بندی کے باوجود غزہ کے بچوں، نوجوانوں سمیت فلسطینیوں کو بلاوجہ موت کے گھاٹ اتاردیتے ہیں۔ ایسے میں وسط ایشیا کی ایک مسلمان ریاست ازبکستان ہے جس کے تاریخی شہربخارا میں مقیم چھوٹی سی یہودی برادری کو ہرقسم کا تحفظ اور آزادی حاصل ہے۔

ٹائمزآف اسرائیل کی ایک تحقیقی رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ بخارا کے قدیم نخلستان میں، یہ یہودی اپنے مسلمان پڑوسیوں پر انحصار کرتے ہیں۔یہ علاقہ، ازبکستان کا شہری مرکز کبھی شاہراہ ریشم پر یہودیوں کا ایک بااثر مرکز تھا، اب صرف چند سو یہودیوں کا گھر ہے، جو سام دشمنی اور تعصب سے بے خوف ،اپنی مذہبی اور سماجی روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔
بخارامیں 300 سال پرانی یہودی عبادت گاہ میں مقامی یہودی جمع ہوکر اپنی مذہبی رسومات انجام دیتے ہیں۔چھوٹی سی برادری کے لیے شہرمیں 2عبادت گاہیں موجودہیں۔سب یہودی بے دھڑک عبادت کے لیے جاتے ہیں۔

ازبکستان کے تقریباً 10 ہزاریہودی مجموعی ملکی آبادی کا صرف0 اعشاریہ 03فیصد سے کم ہیں۔ زیادہ تر دارالحکومت تاشقند میں رہتے ہیں۔1970 کی دہائی میں، تقریباً ایک لاکھ یہودیوں نے ازبکستان کو اپنا گھربنایا، لیکن بہت سے سوویت یونین ٹوٹنے کے بعد اسرائیل اور امریکہ چلے گئے تھے۔ 2021 کی مردم شماری کے مطابق، بخارا کے قدیم یہودی مرکز میں تقریباً 1 ہزاریہودی رہتے ہیں۔اس شہر میں صرف 200 ہیں جس کی آبادی اڑھائی لاکھ ہے۔

پرانے یہودی کوارٹر میں 1990 کی دہائی کا ایک سرکاری اسکول ہے جس میں مسلمان شاگرد، یہودی ہم جماعتوں کے ساتھ، عبرانی زبان سیکھتے اور یہودی روایت پڑ ھتے ہیں، حالانکہ صرف مٹھی بھر یہودی طلبہ ہیں۔وسیع و عریض یہودی قبرستان، جس کی دیکھ بھال مسلمان کرتے ہیں، صاف ستھرا ہے۔

اسرائیل کے ساتھ ازبکستان کے 1992 سے سفارتی تعلقات ہیں۔

یعقوبوا بخارا ریجن جیوش نیشنل کلچرل سنٹر کی سربراہ ہیں، جو ازبکستان میں ریاست کے زیر انتظام سات ایسے اداروں میں سے ایک ہے۔ یہ ثقافتی اور امدادی سرگرمیاں منعقد کرتا ہے۔یعقوبوا اور ان کے شوہر 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل میں تھے، جب حماس نے حملہ کیا۔ انہوں نے بتایاکہ لڑائی چھڑنے کی خبر سن کر میرے مسلمان پڑوسیوں نے فون کیا اور پوچھاکہ میں کیسی ہوں،انہوں نے مجھے واپس آنے کا مشورہ دیا۔

مسلمان تاجر اوتوبیک مرادیو نے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ہجرت کرنے والے یہودی خاندانوں سے 17ویں اور 18ویں صدی میں بنائے گئے پانچ یہودی گھر خریدے اور ایک ہوٹل بنایا۔ ایک تہ خانے میں، اس نے ایک یہودی عجائب گھر قائم کیا ہے، جس میں روایتی یہودی لباس، نوادرات رکھے گئے ہیں، اور ازبک یہودی کمیونٹی کے محسن، سمرقند میں پیدا ہونے والے ہیرے کے بڑے بڑے، سرمایہ کاروں کے علاوہ مخیر شخصیت لیو لیویف کی بڑی تصویرآویزاں ہے۔

بخاراکے ان یہودیوں کو یہاں کبھی سام دشمنی کا سامنا نہیںہوا،ان کے تمام دوست مسلمان ہیں۔بخارا میں صرف 45، زیادہ تر بزرگ ،یہودی مذہبی پیشواکام کرتے ہیں ۔ یہودی آبادی کو انتہاپسند حملوں سے بچانے کے لیے حکومت سخت گیر اقدامات کرتی ہے۔ گذشتہ مہینے ایسے ہی ایک مقدمے میں مسلمان عالم کو اڑھائی سال قید کی سزاسناکرجیل بھیجا گیا ۔

طویل عرصے تک اسلامی دنیا میں علم و ادب کے مرکز کے طور پر پہچاناجانے والا شہر، بخارا، ازبکستان کا پانچواں بڑا شہر ہے۔اسے اسلامی تہذیب و تمدن میں ایک اہم مقام حاصل ہے۔ آج بھی یہاں کئی مساجد اور مدرسے قائم ہیں لیکن شہر کا سب سے بڑا تعارف علم حدیث کے امام، حضرت امام بخاری رحمتہ اللہ ہیں۔ ان کی کتاب’’ صحیح بخاری ‘‘کسی تعارف کی محتاج نہیں،اسے احادیث کی کتابوں میں مستندترین ماناجاتاہے۔ امام بخاری یہیں پیدا ہوئے تھے۔

https://www.timesofisrael.com/in-an-ancient-oasis-in-bukhara-a-tiny-jewish-community-relies-on-its-muslim-neighbors/

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔