امریکہ میں ایچ،ون بی ویزا رکھنے والے بھارتی شہریوں کا بھارت میں پھنس جانا محض ایک انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ یہ حقیقت بھارت کے ہنر مند طبقے کی جانب سے اپنے ہی وطن پر اجتماعی عدم اعتماد کا واضح اظہار ہے۔ان افراد کوحکومت کی طرف سے پھنسے ہوئے قرار دینا دراصل اس تلخ حقیقت کا اعتراف ہے کہ یہ لوگ بھارت کو اپنی ترجیح نہیں سمجھتے، جس کی بنیادی وجہ بھارتی حکومت کی ناقص پالیسیاں، سست روی کا شکار معیشت اور تہذیبی اقدار میں بتدریج انحطاط ہے۔اہم امر یہ ہے کہ بھارت میں رہ جانے والے کروڑوں شہری بھی شدید بے دلی کا شکار ہیں اور کھل کر ملک چھوڑنے کی خواہش کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔
بھارت بلاشبہ بڑی تعداد میں تعلیم یافتہ اور ہنر مند افرادی قوت پیدا کرتا ہے، مگر کمزور طرزِ حکمرانی، ناقص انفراسٹرکچر، غیر مساوی عوامی سہولیات اور آبادی کے تناسب سے محدود اعلیٰ آمدنی کے مواقع اس صلاحیت کو ملکی ترقی میں تبدیل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ٹیکنالوجی، طب اور انجینئرنگ جیسے شعبوں سے وابستہ تعلیم یافتہ بھارتیوں کے لیے بیرونِ ملک ہجرت محض معاشی فیصلہ نہیں بلکہ یہ بڑھتی ہوئی سماجی ابتری ، مواقع کی کمی اور معاشرے میں مذہبی عدم برداشت کا نتیجہ بھی ہے۔اس کے برعکس، امریکہ، کینیڈا اور یورپی ممالک بہتر آمدنی، مضبوط تحقیقی ماحول، مثر نظام اور میرٹ پر مبنی پیشہ ورانہ ترقی کے واضح راستے فراہم کرتے ہیں، جو بھارتی نوجوانوں کو مسلسل اپنی جانب کھینچ رہے ہیں۔
عالمی میڈیا اور ڈیجیٹل دنیا سے جڑی بلند توقعات جب سست اور غیر موثر ادارہ جاتی اصلاحات سے ٹکراتی ہیں تو شہری متوسط طبقے میں شدید مایوسی جنم لیتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ بھارت اپنے سب سے زیادہ متحرک اور باصلاحیت شہریوں کی امنگوںپر پورا اترنے میں ناکام دکھائی دیتا ہے، اور بیرونِ ملک ہجرت میں تیزی اس بات کا ثبوت ہے کہ مستقبل پر اعتماد تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos