کمپیوٹر کا سب سے سستاآلہ’ ریم‘ بے تحاشہ مہنگاہونے کا خدشہ

کمپیوٹر زاور موبائل فونزکا سب سے سستا آلہ ریم بھی 2026میں بے تحاشہ مہنگا ہونے کا خدشہ ہے۔اے آئی ڈیٹاسنٹرزمیں اس کی بڑھتی ضرورت کے باعث قیمت میں اضافہ ہورہاہے جو اکتوبر 2025 کے بعد سے دوگنا ہو چکی ہے۔اے آئی تجربات میں استعمال کی وجہ سے طلب اور رسد کے درمیان عدم توازن پیدا ہوا ہے۔ماہرین کے مطابق مینوفیکچررز لاگت میں بڑا اضافہ ہمیشہ صارفین کو منتقل کرتے ہیں۔اور کمپیوٹر کی ریمزکی قیمتوں کا اضافہ چھوٹا نہیں ہوگا۔صنعتی ذرائع کے مطابق ایک مہینے پہلے کی نسبت 500 فی صد تک زیادہ لاگت آرہی ہے۔

کمپیوٹرمیموری 5 گنا تک پہلے ہی مہنگی ہوچکی ہے۔میموری چپس کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے، جو اعلیٰ درجے کی ہائی بینڈوتھ میموری کے ذریعے چلتی ہے جس کی اے آئی کو ضرورت ہے۔اس کی وجہ سے میموری چپس کی مختلف اقسام میں قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔

بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں جومنصوبے بنارہی ہیں ان کی وجہ سے سپلائی ،مانگ کی سطح تک نہیں پہنچ پائے گی۔مستقبل میں قیمتیں مزید بڑھیں گی۔پی سی میں، میموری عام طور پر کل لاگت کا 15 سے 20 فیصد ہوتی ہے، لیکن موجودہ قیمتوں نے اسے 30 سے40فیصد پرپہنچا دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق قیمتیں مزید بڑھنے کے ساتھ، صارفین کو یہ فیصلہ کرنا پڑے گا کہ آیا زیادہ ادائیگی کرنی ہے یا کم طاقتور ڈیوائس کو قبول کرنا ہے۔ ایک عام لیپ ٹاپ، جس میں 16 جی بی ریم ہے، 2026 میں اس کی مینوفیکچرنگ لاگت میں50 ڈالر تک اضافہ ہو سکتا ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔