توشہ خانہ ٹو فیصلہ پی ٹی آئی دور کی بدعنوانی کا ثبوت ہے،رانا ثنا اللہ

نوازشریف اور اسٹیبلشمنٹ کی منظوری کے بغیر شہبازشریف مذاکرات کی بات نہ کرتے۔ راناثنااللہ

ن لیگ کے سینیئر رہنما اور وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ میاں نواز شریف کی منظوری نہ ہوتی تو وزیراعظم شہباز شریف مذاکرات کی بات نہ کرتے۔ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ وزیراعظم نے مذاکرات پر نواز شریف اور اسٹیبلشمنٹ کو اعتماد میں نہ لیا ہو۔

 

رانا ثنا اللہ نے دعویٰ کیا کہ عمران خان نے مذاکرات کا اختیار کسی کو نہیں دیا ، علیمہ خان درست کہتی ہیں کہ مذاکرات کی بات کرنے والا ہم میں سے نہیں، مذاکرات کی راہ میں عمران خان ہی ہمیشہ رکاٹ رہے ہیں، اس کی ذمہ داری انہی پر ہیں، پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ عمران خان مذاکرات نہیں چاہتے۔پی ٹی آئی کی دوسرے یا تیسرے درجے کی قیادت کہتی ہے کہ وہ ڈائیلاگ چاہتے ہیں، جب تک بانی پی ٹی آئی کی ڈائیلاگ کی پالیسی نہیں ہوگی اس وقت تک جتنی میٹنگ ہوتی رہیں بات نہیں بن سکتی، بانی پی ٹی آئی نے مذاکرات کا اختیارکسی کونہیں دیا، علیمہ خان نے جوبات کی ہے کہ جومذاکرات کرے گا وہ ان میں سے نہیں۔

 

مشیر سیاسی امور نے کہا کہ کہاجاتا ہے کہ مذاکرات کیلئے ہم نے فلاں کو اجازت دے دی ہے فیصلہ توآپ نے کرنا ہے، سیدھی بات کریں کہ آپ مذاکرات کے حق میں نہیں اورتشدد چاہتے ہیں، کیا بانی پی ٹی آئی کی پچھلی ملاقات سے کوئی فائدہ ہوا ہے؟ پی ٹی آئی والے کیوں نہیں کہتے کہ وزیراعظم صاحب آپ کی پیش کش موصول ہوئی ہے ،بتائیں کس ٹائم آپ کے پاس حاضرہوں؟ وزیراعظم نے تویہاں تک کہا ہے کہ میرے پاس نہیں آتے تواسپیکر چیمبر میں آئیں میں وہاں آجاتا ہوں، انہوں نے کوئی شرط نہیں رکھی۔ یہ وزیراعظم سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں توآئیں ملاقات کریں، یہ اجازت کے بغیرآگے نہیں بڑھ سکتے تووزیراعظم سے ملاقات میں یہ ہی بات کرلیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔