روس اور یوکرین کی جنگ کا پلڑا۔دعوے اورآزادتخمینے کیابتاتے ہیں؟

روس نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ سال جنگ میں 5 لاکھ 10 ہزار یوکرینی فوجی ہلاک یا زخمی ہوئے۔عالمی میڈیا پورٹ کے مطابق روسی وزارت دفاع اور روسی مسلح افواج کے جنرل سٹاف اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2025 کے دوران روسی فوج نے یوکرینی فوجی سازوسامان کو بھی شدید نقصان پہنچایا جس میں 19 لڑاکا طیارے، 50 سے زائد میزائل سسٹمز67 ہزارسے زیادہ ڈرون اورساڑھے 6 ہزارسے زائد ٹینک اور دیگر بکتربند گاڑیاں تباہ ہوئیں۔

پوتن نے دسمبرکے آخری ہفتے کے دوران ، ٹرمپ ، زیلنسکی کی ملاقات سے ٹھیک پہلے اور بعد میں اپنے جنرل اسٹاف کے ساتھ ملاقاتیں کیں،اس دوران کمانڈر انچیف ویلری گیراسیموف نے کامیابی کے مبالغہ آمیز دعوےکیے تھے۔انہوں نے کہا کہ روسی افواج نے یوکرین کے6 ہزار640مربع کلومیٹرعلاقہ لے لیا ہے، 2025 میں یوکرین کی 334 بستیوں پر قبضہ ہوا۔ واشنگٹن کے تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ فار دی اسٹڈی آف وارنے کہا کہ اس نے4 ہزار952مربع کلومیٹر اور 5 مربع میل کے رقبے میں روسی موجودگی کے شواہد دیکھے ہیں۔

یوکرین کے کمانڈر انچیف اولیکسنڈر سیرسکی کے مطابق یوکرین کے6 لاکھ 3ہزار550مربع کلومیٹر کاصفراعشاریہ 8 فیصد علاقہ کھودیاگیا ہے لیکن 4اکھ 20 ہزار روسی ہلاک اور زخمی ہوئے۔یوکرین کے جنرل اسٹاف نے اس جنگ میں روسی ہلاکتوں کا تخمینہ12 لاکھ سے زیادہ لگایاہے۔ 11 ہزار500ٹینک اور24 ہزاربکتر بند لڑاکا گاڑیاں،37 ہزارسے زیادہ توپ خانے، 781 طیارے اور4 ہزارسے زیادہ میزائل تباہ ہوئے۔

الجزیرہ کے مطابق 2025 کے آخر تک، روسی افواج ڈونیٹسک کے مشرقی یوکرائنی قصبوں پوکروسک اور میرنوہراد کو اپنے قبضے میں نہیں لے سکی تھیں جن پر وہ پانچ ماہ سے قبضہ کرنے کے لیے لڑ رہی تھیں۔
برطانوی نشریاتی ادارے نے بتایاہے کہ2024 کے مقابلے میں 2025 کے دوران روسی فوجیوں کی 40 فیصد زیادہ تعزیتیں شائع کی گئیں۔مجموعی طور پر یوکرین میں روس کی طرف سے لڑائی میں ہلاک ہونے والے1لاکھ 60 ہزارافراد کے ناموں کی تصدیق ہوئی ہے۔مرنے والوں کی اصل تعداد بہت زیادہ ہے، اور فوجی ماہرین کا خیال ہے کہ قبرستانوں، جنگی یادگاروں اور مرنے والوں کا تجزیہ کل جانی نقصان کے 45 تا65 کی نمائندگی کر سکتا ہے۔اس سے روسی اموات کی تعداد2 لاکھ 43 ہزاراور3 لاکھ 52 ہزارکے درمیان ہوگی۔

اکتوبر 2023 میں Avdiivka شہر کے لیے خونریز لڑائی کے بعد سے، روسی رضاکاروں کی ہلاکتوں میں مسلسل اضافہ ہوا ہے – وہ لوگ جنہوں نے حملےکے بعد سے رضاکارانہ طور پر فوج میں شمولیت اختیارکی۔2024 میں 15 فیصداموات روسی رضاکاروں کی تھیں لیکن 2025 میں یہ تعداد تین میں سے ایک تھی۔

مقامی حکومتوں پربھاری تنخواہوں کی پیش کش، بھاری قرضوں تلے دبے لوگوں سے رابطہ کرنے اور یونیورسٹیوں،کالجوں میں مہم کے ذریعے ، نئی بھرتیوں کے تسلسل کو برقرار رکھنے کا دبائو ہے۔قومی سلامتی کونسل کے نائب سربراہ دمتری میدویدیف کے مطابق اکتوبر2025 تک3 لاکھ 36 ہزارافراد فوج میں گئے۔ماہانہ 30 ہزارسے زیادہ۔نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے نے اس وقت کہا تھا کہ ہر ماہ 25000 روسی فوجی مارے جا رہے ہیں۔نیٹو کے مطابق، جنگ میں ہلاک اور زخمی ہونے والے روسیوں کی کل تعداد11 لاکھ ہے، اور ایک اہلکار نے اندازہ لگایا ہے کہ اڑھائی لاکھ روسی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

یوکرین کو بھی بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ فروری2024 میں صدر ولادیمیر زیلنسکی نے میدان جنگ میں ہلاکتوں کی تعداد46 ہزاراور زخمیوں کی 3لاکھ 80 ہزار بتائی تھی۔مزید دسیوں افراد یا تو کارروائی میں لاپتہ ہو گئے یا قیدی بنائے گئے۔
دیگر تخمینوں اور کراس ریفرنسنگ ڈیٹا کی بنیاد پر، یقین ہے کہ ہلاک یوکرینیوں کی تعداد1لاکھ 40 ہزار تک ہے۔