اسرائیلی وزیرسائنس کی ٹویٹ۔

ایرانی مظاہروں کی حمایت میں سوشل میڈیاپر اسرائیلی بیانات۔رجیم چینج کی سازش؟

ایران میں شدید معاشی بحران اور بڑھتی مہنگائی کے خلاف عوامی مظاہروں کا سلسلہ لگ بھگ6 روز قبل شروع ہوا تھا جو بدستور جاری ہے۔مظاہرین اور ایرانی سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں اب تک 6 مظاہرین اور ایک پولیس اہلکار کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔
اتوار کے روز تہران کے گرینڈ بازار میں دکانداروں کی طرف سے ایرانی معیشت کی تباہی کے خلاف ایک احتجاج کے طور پر شروع ہونے والاسلسلہ نئے سال کی شام تک ایران کے 31 میں سے 17 صوبوں تک پھیل چکاتھا اور ایرانی طلبابھی ان مظاہروں میں شامل ہوگئے۔
اٹارنی جنرل محمد موحدی‌آزاد نے خبردار کیا ہے کہ عدم استحکام پیدا کرنے کی کسی بھی کوشش کا سامنا ’فیصلہ کن ردعمل‘ سے دیا جائے گا۔ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے خبردار کیا گیا ہے کہ وہ ملک میں کسی بھی غیر ملکی مداخلت یا غداری کے خلاف سخت رویہ اختیار کرے گا۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو خبردار کیا تھاکہ اگر ایران پرامن مظاہرین کو گولیاں مارتا ہے اور پرتشدد طریقے سے مارتا ہے، جو کہ ان کا رواج ہے تو امریکہ ان کے بچاؤ کے لیے آئے گا۔ری پبلکن رہنما نے مزید کہا کہ ہم پوری طرح تیار(لاک اینڈلوڈ) ہیں۔
سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مشیر اور کئی سال تک کونسل کے سیکریٹری رہنے والے علی شمخانی نے خبردار کیا کہ ’ایران کی سکیورٹی کے بہت قریب آنے والا کوئی بھی مداخلت کار ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔انہوں نے ایکس پر مزید لکھا ’ایران کے لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ امریکیوں کے ہاتھوں ‘بچا لیے جانے’ کا تجربہ کیا ہوتا ہے: عراق اور افغانستان سے لے کر غزہ تک۔
امریکی صدرکی دھمکی پرسابق پارلیمانی سپیکر اور ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے ایکس پر الزام عائد کیا کہ اسرائیل اور امریکہ ان مظاہروں کو ہوا دے رہے ہیں۔
علی لاریجانی کا موقف اس حقیقت سے درست معلوم ہوتا ہے کہ اسرائیلی حکومت کے کئی وزرا بھی ایران میں مظاہروں کے حق میں سامنے آرہے ہیں۔
ٹائمزآف اسرائیل کے مطابق اسرائیلی وزارت خارجہ کے ایک سوشل میڈیا اکاؤنٹ ’’ اسرائیل بہ فارسی ‘‘نے ایران میں بڑے پیمانے پر مظاہروں کی حمایت کا اظہار کیا۔ فارسی زبان کے اس اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں ایک کارٹون دکھایا گیا تھا جس میں شیر اور سورج دکھایا گیا ۔یہ علامتیں 1979 کے اسلامی انقلاب تک ایرانی پرچم پر نمایاں تھیںجن میں شیر کا پنجا ایک سینڈ گلاس پر ٹکا ہواہے۔ گھڑی کے نچلے حصے میں ایران کے موجودہ جھنڈے کا نشان ہے۔ اس تصویر کے اوپر یہ جملہ درج ہے :اندھیرے کے خلاف لڑنے کے لیے ایرانی شیروں اور شیرنیوں کا عروج۔ ’’اندھیرے پر روشنی کی فتح‘‘۔

اسرائیلی وزارت خارجہ کے فارسی اکائونٹ پر ٹویٹ

اسرائیلی وزارت خارجہ کے فارسی اکاؤنٹ سے ایک اور پوسٹ میں ایرانی رہنماؤں کی مظاہرین کے سامنے خوفزدہ ہونے کی ایک کارٹون تصویر دکھائی گئی۔ کیپشن میں، لکھا ہے، ’’انہوں نے اسرائیل کے لیے جو تباہی کا کیلنڈر ترتیب دیا تھا، وہ اب ان کے اپنے لیے ہے‘‘۔
سائنس اور ٹکنالوجی کی خاتون وزیر گیلا گیملیل نے مظاہروں کی حمایت میں ایک ویڈیو پوسٹ کی اور پیش گوئی کی کہ وہ حکومت کے خاتمے کا باعث بنیں گے۔اس نے انگریزی میں لکھا’’آپ کے احتجاج، عورتوں اور مردوں، نوجوانوں اور طلباء، ماؤں اور باپوں کے، جائز ہیں۔حکومت روز بروز کمزور ہو رہی ہے، اور یہ اس کے آخری لمحات ہیں۔
جب ایران کے مظاہرے دوسرے دن میں داخل ہوئے، گملیل نے ایک سیلفی پوسٹ کی جس میں اس نے’’ایران کو دوبارہ عظیم بنائیں‘‘ کی ٹوپی پہن رکھی ہے۔ اس نے معزول ایرانی شاہ کے بیٹے رضا پہلوی کو ٹیگ کیا، جوموجودہ ایرانی حکومت کے سرکردہ نقاد ہیں۔
ڈائسپورا امور کے وزیر امیچائی چکلی نے بھی احتجاج کی حمایت میں پوسٹ کی ہے۔ اس کی پوسٹ میں مظاہرے کی بظاہر اے آئی سے تیار کردہ ایک تصویر شامل ہے، جس میںشیر اور سورج کا جھنڈا لہرا رہا تھا۔تصویر پرلکھاہے ’’میں ایران کے عوام کے ساتھ کھڑا ہوں‘‘۔
اپنی کابینہ کے کچھ ارکان کے برعکس، نیتن یاہو نے ایران میں حالیہ مظاہروں پر عوامی طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ٹائمزآف اسرائیل کے مطابق خاموش رہنے کا فیصلہ مبینہ طور پر اس خدشے کی وجہ سے کیا گیاہے کہ اگر وہ اس معاملے پر لب کشائی کریں گے تو یہ ایران کو اسرائیل کی طرف سے نشانہ بنانے کا جوازفراہم کرے گا تاکہ وہ ملک کی معاشی پریشانیوں سے توجہ ہٹا سکے۔ایک اور اسرائیلی خبررساں ادارے چینل 12 کے مطابق، یہ فیصلہ نیتن یاہو کی ویسٹ پام بیچ میں واقع اپنے ہوٹل میں اس معاملے پر بریفنگ کے بعد سامنے آیا۔ایک سینئر اسرائیلی اہلکار نے چینل 12 کو بتایا کہ ہم ایران میں ڈرامائی گھریلو واقعات دیکھ رہے ہیں، لیکن یہ بتانا قبل از وقت ہے کہ اس کے اثرات کیا ہوں گے۔
دریں اثناء امریکی سینیٹر ٹیڈ کروز نے پیش گوئی کی ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای احتجاجی تحریک کے نتیجے میں زوال کا شکار ہوں گے اور اس کی وجہ جون 2025 میں اسرائیل کی ایران کے ساتھ 12 روزہ جنگ اور اس وقت ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملے کو قرار دیا۔انہوں نے لکھاکہ جنگیں ہارنے کے نتائج ہوتے ہیں،ایرانی حکومت کے خلاف اسرائیل کی 12 روزہ مہم اور صدر ٹرمپ کے ایٹمی پروگرام کو تباہ کرنے کے تاریخی فیصلے نے ایرانی عوام اور دنیا کے سامنے حکومت کی کمزوری کو عیاں کر دیا ہے۔ ایرانی عوام اٹھ رہے ہیں اور آیت اللہ کے دن گنے جا رہے ہیں‘‘۔
جرمن نشریاتی ادارے کے مطابق جلاوطنی میں موجود حزب اختلاف کی شخصیات کا کہنا ہے کہ تازہ ترین بدامنی اس حکومت کے لیے راستے کا خاتمہ بھی کر سکتی ہے، جو 1979 کے انقلاب اور ایران کے شاہ کی معزولی کے بعد سے اقتدار میں ہے۔
نوبل امن انعام یافتہ شیریں عبادی نے انسٹاگرام پر ایک پیغام میں لکھا کہ اسلامی جمہوریہ اپنے آخری ایام میں ہے۔ انہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ ظالم کی چادرکو پھاڑنے کے لیے اپنا غصہ نکالیں۔ادھر ایران کے آخری شاہ کے بیٹے رضا پہلوی نے بھی لوگوں سے احتجاج میں شامل ہونے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے انسٹاگرام پر کہاہے کہ میں معاشرے کے تمام شعبوں سے کہتا ہوں کہ وہ اپنے ہم وطنوں کے ساتھ سڑکوں پر نکلیں اور اس حکومت کے خاتمے کے لیے آواز بلند کریں۔پہلوی نے ایران کی سکیورٹی فورسز سے بھی عوام کا ساتھ دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ یہ نظام ٹوٹ رہا ہے، عوام کے خلاف مت کھڑے ہوں۔
ایران کے صدر مسعود پزیشکیان نے مرکزی بینک کے لیے نئے سربراہ کی تقرری کی ہے۔نئے گورنرعبدالناصر ہمتی نے ایرانی کرنسی کے ڈرامائی زوال کے بعد معاشی استحکام بحال کرنے کا عہد کیا ۔ صدرنے مظاہرین کے نمائندوں سے بات چیت کا وعدہ کیا ہے۔پزشکیان نے معاشی اصلاحات اور بدعنوانی سے نمٹنے کے لیے اپنی حکومت کے عزم پر زور دیتے ہوئے کہا کہ لوگوں کی روزی روٹی کا تحفظ ان کی حکومت کے لیے ایک سرخ لکیر ہے۔صدر کے ایگزیکٹو نائب، محمد جعفر ضیغم پناہ نے بھی مہنگائی میں اضافے کے لیے معافی مانگی ہے اور کہا ہے کہ یہ بحران مغربی پابندیوں اور ایران کے خلاف معاشی جنگ کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے۔
ایران میں حکومت نے سرکاری حمایت یافتہ میڈیا کے ذریعے عوام کے عدم اطمینان کو بھی تسلیم کیا ہے، لیکن اسے غیر سیاسی کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ حکام کا اصرار ہے کہ یہ محض روزی روٹی سے متعلق ہے۔
حکومت نے مظاہروں کو تسلیم کیا ہے اور بحران سے نمٹنے کا وعدہ کیا ہے، تاہم پراسیکیوٹر جنرل نے مظاہروں کو ہنگاموں میں تبدیل کرنے کے خلاف کریک ڈاؤن سے خبردار بھی کیا ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔