سٹنگ کی پیکجنگ اور برانڈنگ کی نقل کرنے پرپاکستانی کمپنی کو15 کروڑ کا جرمانہ

پاکستان کے کمپیٹیشن کمیشن (CCP) نے میزان بیوریجز (پرائیویٹ) لمیٹڈ پر 15 کروڑ روپے جرمانہ عائد کیا ہے کیونکہ کمپنی نے ’پیپسی کو‘ کی مشہور انرجی ڈرنک ’سٹنگ‘ کی پیکجنگ اور برانڈنگ کی نقل کر کے صارفین کو مبینہ طور پر گمراہ کرنے کی کوشش کی۔

کمپیٹیشن کمیشن کے مطابق میزان کے پروڈکٹ ’اسٹورم‘ نے سٹنگ کے مجموعی رنگ، بوتل کا ڈیزائن اور برانڈنگ عناصر کی نقل تیار کی، جس سے مارکیٹ میں صارفین کے لیے کنفیوژن پیدا ہونے کا خدشہ تھا۔ کمیشن نے کہا کہ یہ عمل ”پیرسائٹک کاپینگ“ کے زمرے میں آتا ہے اور پاکستان کے مقابلہ قوانین کے تحت ممنوع ہے۔

یہ معاملہ 2018 سے زیرِ سماعت تھا، جب پیپسی کو نے شکایت درج کرائی کہ میزان اسٹورم ڈرنک سٹنگ کی نقل کر رہی ہے تاکہ پیپسی کے برانڈ کی شہرت سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ اس دوران میزان نے کمیشن کے دائرہ اختیار کو چیلنج کیا اور قانونی کارروائی میں تاخیر کی۔

لاہور ہائی کورٹ نے 2018 اور 2021 میں عارضی احکامات جاری کیے، تاہم جون 2024 میں عدالت نے میزان کی پٹیشن مسترد کرتے ہوئے کمپیٹیشن کمیشن کے دائرہ اختیار کو برقرار رکھا۔

کمیشن کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ اسٹورم نے اسٹنگ کی نقل کے لیے مکمل سرخ رنگ، بولڈ اور سلیٹڈ سفید لکھائی، تقریباً وہی بوتل کی شکل اور دیگر برانڈنگ عناصر استعمال کیے، جو صارفین کو گمراہ کرنے کے لیے کافی تھے۔

کمیشن نے واضح کیا کہ دھوکہ دہی کا جائزہ مجموعی تجارتی اثر کی بنیاد پر لیا جاتا ہے، اور ٹریڈ مارک رجسٹریشن صارفین کو گمراہ کرنے کے ثبوت سے قانونی تحفظ فراہم نہیں کرتی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔