سابق وزیراعظم آزاد کشمیر و سینیئر رہنما پاکستان مسلم لیگ ن راجا محمد فاروق حیدرنے کہا ہے کہ ریاست میں احتجاج کے پیچھے بیرونی ہاتھ کارفرماتھا، اگلی حکومت ن لیگ کی ہوگی اور وزیراعظم کا فیصلہ نواز شریف کریں گے۔نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے راجا فاروق حیدر نے کہا کہ کشمیریوں کی پاکستان کے ساتھ محبت لازوال ہے اور ہم پاکستان کو مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں کیوں کہ مضبوط پاکستان ہی کشمیریوں کی بہترین وکالت کر سکتا ہے۔
راجا فاروق حیدر نے انٹرویو کے دوران آزاد کشمیر کے آئندہ انتخابات میں ن لیگ کی کامیابی کی صورت میں معروف بزنس مین کو وزیراعظم بنانے سے متعلق افواہوں کو سختی سے مسترد کیا۔ان کا کہناتھاکہ یہ ایسے ہی ہے کہ شام کے وقت آپ مجھے پوچھیں کہ کیا ٹائم ہوا ہے تو میں کہوں کہ (سہ پہر کی بجائے) صبح کے 8 بجے ہیں، وہ تو ابھی تک مسلم لیگ ن میں باضابط شامل ہی نہیں ہوئے۔
راجا فاروق حیدر نے کہا کہ مسلم لیگ ن آئندہ عام انتخابات میں بھرپور کامیابی حاصل کرکے حکومت بنائے گی تاہم ابھی تک یہ فیصلہ نہیں ہوا کہ آزاد کشمیر کا نیا وزیراعظم کون ہوگا۔ لاہور کی میٹنگ میں پارٹی صدر نواز شریف نے پارٹی کی تنظیم کے سامنے یہ واضح کیا ہے کہ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ہر کوئی خود کو وزیراعظم کا امیدوار ظاہر کرتا پھرے، اس کا فیصلہ میں خود کروں گا۔
راجا فاروق حیدر نے کہا کہ جب نواز شریف پر برا وقت آیا تو اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے مجھے ن لیگ چھوڑنے کا کہا لیکن میں نے انکار کیا۔عمران خان چاہتے تھے کہ میں مسلم لیگ ن چھوڑ دوں لیکن میں نے کہاکہ ایسا نہیں کرسکتا، پھر 2021 کے الیکشن میں جب پی ٹی آئی کو جتوا دیا گیا اور ساتھ ہی 5 اگست یوم استحصال پر عمران خان نے بحیثیت وزیراعظم مظفرآباد آنا تھا تو میں نے ان کو پیغام بھجوایا کہ اگر یہاں آئے تو تم رہو گے یا میں رہوں گا۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں راجا فاروق حیدر نے کہاکہ بیرون ممالک میں بیٹھے کچھ عناصر آزاد کشمیر میں افراتفری پھیلانے کے ذمہ دار ہیں۔ دکانداروں کا کوئی کام نہیں کہ وہ آزاد کشمیر کے آئینی معاملات میں دخل اندازی کریں اور یہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پہلے تاجر ایکشن کمیٹی ہی تھی۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos